कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میرا دوست ! میرا ہمدم !

تحریر: محمد انور حسین

میرا ایک دوست ہے جو ہمیشہ میرے ساتھ رہتا ہے، بچپن سے رہتا آرہا ہے۔ بچپن میں دوستی کچھ کم تھی، عمر اور مقبولیت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس سے دوستی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب تو یہ حال ہے کہ اس کے بغیر چین نہیں رہتا۔ دن رات کا ساتھ ہو گیا ہے، وہ میرے خیالات، احساسات اور اعصاب پر سوار ہو گیا ہے۔ خلوت ہو یا جلوت، وہی میرا ساتھی ہے۔ محفلِ غم ہو یا خوشی کا شامیانہ، ہر جگہ وہ میرے ساتھ رہتا ہے۔ اب تو وہ مسجد میں بھی آنے لگا ہے۔ میں جب واعظ کرنے لگتا ہوں تو بلاتکلف میرے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ اتنا چنچل ہے کہ کیا بتاؤں؟ اسے میری ہر بات کی خبر مل جاتی ہے ۔خبر ملنا کوئی بڑی بات نہیں لیکن کمبخت اس خبر کو اتنی تیزی سے پھیلا نے لگتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔ایک دن میں نے تہجد پڑھی، اسے خبر ہوگئی ،پھر کیا تھا ، کئی دنوں تک اپنے دیگر دوستوں کے سامنے اس کارنامہ کا تذکرہ کرتا رہا۔ ایک مرتبہ ایک غریب طالب علم کی کچھ مدد کردی گئی، یہ بات ہمارے ہر دلعزیز دوست کو معلوم ہو گئی۔ اب تو اسے بہانہ مل گیا، اس نے بات اتنی تیزی سے پھیلائی کہ سب لوگ میری تعریف کرنے لگے۔
آج کل کی اس خود غرض دنیا میں ایسے دوست کو پا کر طمانیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ یہ دوست ہر وقت میری قصیدہ خوانی میں مصروف رہتا ہے، جبکہ لوگ تو جھوٹی تعریف بھی نہیں کر پاتے۔ کچھ ایسی باتیں جو میں اکثر چھپ کر کرتا ہوں، انہیں بھی وہ تشت از بام کر دیتا ہے۔ ایک دن میں نے نفل روزہ رکھ لیا، اس نے ہنگامہ ہی مچا دیا۔ طرفہ تماشا تو یہ ہوا کہ اس نے بہت سے دوستوں کو نفل روزہ کے افطار میں بلالیا اور ایک زبردست دعوتِ افطار ہو گئی۔
ارے بھائی، کیا بتاؤں! وہ اتنا چالاک ہے کہ میں پڑوسی کو سالن بھی دوں تو اسے پتہ چل جاتا ہے۔ جب اسے پتہ چلتا ہے تو کمبخت دو چار لوگوں کو اس کی خبر دے آتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک غریب رشتہ دار کی شادی تھی، میں نے سوچا کہ اسے بالکل بھی خبر نہیں ہونے دوں گا، اس لیے خاموشی سے آن لائن پیسے بھیج دیے۔ یہ کام اتنی خاموشی سے کیا کہ بیگم کو بھی پتہ نہیں چل سکا۔ راز تو اس وقت کھلا جب میں اس غریب کے گھر شادی میں پہنچا، کیوں کہ وہ (میرا دوست) سب کو میرا یہ کارنامہ سنانے لگا اور ایسا سنانے لگا جیسے ساری شادی کی ذمہ داری میں ہی اٹھا رہا ہوں ۔ کمبخت کی زبان اتنی چرب ہوتی جارہی ہے کہ وہ مبالغے سے بھی نہیں گھبراتا۔
کبھی کبھی اس کی چرب زبانی اور مبالغہ آرائی سے شرم آنے لگتی ہے، لیکن وہ کمبخت وقت کے ساتھ بے شرم ہوتا جا رہا ہے۔ اس نے سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی بلا کی مہارت حاصل کر لی ہے۔ کوئی پلیٹ فارم ایسا نہیں ہے جہاں اس نے میری قصیدہ خوانی کے جھنڈے نہ گاڑے ہوں۔ اس کے کارنامے بہت ہیں اور روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اکثر خیال آتا ہے کہ اس دوست سے پیچھا چھڑا لوں، لیکن کیا کروں، اس کی صحبت اور محبت سے جو فیض اور سکون حاصل ہوتا ہے، اس کا جواب نہیں۔ اب مزید اس کے کرشمے بتانے سے پہلے اس دوست کا نام تو جان لیجیے۔ آپ کہیں گے کہ بہت دیر سے بس اپنے ہمدم اور ہر دلعزیز کے کارہائے نمایاں تو بتا رہے ہو لیکن اس کا نام نہیں بتا رہے ہو۔ تو لیجیے، سنیے! اس دوست کا نام ’’مَیں‘‘ ہے۔
کیا اس طرح کا کوئی دوست آپ کا بھی ہے؟ ہوشیار رہیے!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے