कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مہاراشٹر کی تعمیر و ترقی میں ہمارا کردار اور صالح خطوط

تحریر:ایس ایم صمیم،
ضلع صدر،
موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس MPJ ناندیڑ
موبائل نمبر: 9960942261

مہاراشٹر، یہ نام ہی ہمارے دلوں میں فخر، عزم اور ایک عظیم تاریخ کا احساس جگاتا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں شیواجی مہاراج نے انصاف اور مساوات کا پرچم بلند کیا، عثمان شیخ اور ماں فاطمہ شیخ نے مظلوم اور محروم طبقات کے لئے علم و تعلیم کی راہیں آسان کی، جہاں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین ہند لکھ کر ہر شہری کو عزت کی زندگی کا حق دیا۔ آج، جب ہم اپنی ریاست کی طرف دیکھتے ہیں، تو ہمیں ترقی کے بلند مینار تو نظر آتے ہیں، مگر ساتھ ہی کسانوں کی پریشانی، غریبوں کی بے بسی اور نوجوانوں کی بے روزگاری بھی دکھائی دیتی ہے۔ جسے دیکھ یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ہم مہاراشٹر کو ایک ایسی ریاست بنا سکتے ہیں جہاں ہر شہری خوشحال ہو، ہر بچہ تعلیم یافتہ ہو، اور ہر دل میں بھائی چارہ ہو؟ جی ہاں، آئین ہند کی روشنی میں یہ ممکن ہے۔ بس ضرورت ہے آغاز سفر کی، یہ مضمون نہ صرف صالح خطوط کا تعین کرتا ہے بلکہ ایک ایسی عوامی تحریک کی دعوت دیتا ہے جو مہاراشٹر کو ایک مثالی اور خوشحال ریاست بنانے میں کارگر ثابت ہوگی۔
آئین ہند: ہمارا سب سے بڑا ہتھیار:
آئین ہند کا دیباچہ ہمیں ایک خواب دکھاتا ہے – ایک ایسا بھارت جہاں انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارہ ہر شہری کا حق ہو۔ مہاراشٹر، جو بھارت کی معاشی رگ ہے، اس خواب کو حقیقت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آرٹیکل 14 (قانون کے سامنے برابری)، آرٹیکل 15 (امتیازی سلوک کی ممانعت)، آرٹیکل 21 (زندگی اور ذاتی آزادی کا حق)، اور حصہ IV کے ہدایتی اصول (جیسے آرٹیکل 39 اور 46) ہمیں بتاتے ہیں کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ہر شہری کو معاشی، سماجی اور سیاسی انصاف فراہم کرے۔ لیکن آج، ممبئی کی چمکتی عمارتوں کے سائے میں جھونپڑ پٹیوں کے بچوں کی آہٹ، مراٹھواڑہ اور ودربھ کے کسانوں کی خودکشیوں کی خبریں، اور ریاست میں موجود قبائلیوں کی محرومی ہمیں چونکاتی ہے۔ آئین ہمیں بلاتا ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں – ہم اٹھیں، لڑیں، اور ایک نئے مہاراشٹر کی تعمیر کریں۔
مہاراشٹر کی تعمیر کے لیے صالح خطوط:
آئین ہند کی روشنی میں، مہاراشٹر کی تعمیر و ارتقاء کے لیے درج ذیل صالح خطوط تجویز کیے جاتے ہیں:
1. *دیہی خوشحالی اور کسانوں کی فلاح (آرٹیکل 39):* مہاراشٹر کے کسان، جو اناج اگاتے ہیں، آج قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ مراٹھواڑہ اور ودربھ میں خودکشیوں کی شرح شرمناک ہے۔ *صالح لائن:* اس کے لئے ہر کسان کو کم از کم امدادی قیمت (MSP) کی ضمانت دی جائے، واٹر شیڈ مینجمنٹ پروگرامز شروع کیے جائیں، اور دیہی انڈسٹریل ہب بنائے جائیں۔ مثال کے طور پر، پونے کے قریب ناندیڑ میں واٹر ہارویسٹنگ پروجیکٹ ایک ماڈل بن سکتا ہے۔ ہمارا کردار؟ ہر گاؤں میں "کسان حق کمیٹی” بنائیں، جو آئین کے آرٹیکل 39 کی بنیاد پر مطالبات پیش کرے۔
2. *تعلیم اور صحت سب کے لیے (آرٹیکل 21A اور 47):* مہاراشٹر کے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے، جبکہ نجی سکولز غریبوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ صحت کے شعبے میں، دیہی علاقوں میں ہسپتالوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ *صالح لائن:* آرٹیکل 21A کے تحت ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم دی جائے، اور ہر ضلع میں کم از کم ایک بڑا سرکاری ہسپتال ہو جو جدید سہولیات سے لیس ہو اور دیہات و گاؤں میں آبادی کے لحاظ سہولتوں کے ساتھ صحت عامہ کے بنیادی مراکز ہو۔ ہمارا کردار؟ طلبہ اور والدین کی "آئین ہند اور حق تعلیم تحریک” شروع کریں، جو سوشل میڈیا اور زمینی سطح پر آگاہی پھیلائے۔
3. *ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی (آرٹیکل 48A):* مہاراشٹر کے جنگلات، جیسے سہیادری رینج، تاپکیشور اور ست پوڑا، تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ دریائے گوداوری اور کرشنا کی آلودگی ایک سنگین خطرہ ہے۔ *صالح لائن:* صنعتی آلودگی پر سخت قوانین نافذ کیے جائیں، اور ہر ضلع میں *”گرین مہاراشٹر پروجیکٹ”* شروع کیا جائے، جیسے کہ ناسک میں شجر کاری مہم کی کامیاب مثال ہے۔ ہمارا کردار؟ "آئینی گرین واریرز” گروپ بنائیں، جو مقامی سطح پر درخت لگائیں اور عدالتوں میں ماحولیاتی مقدمات دائر کریں۔
4. *سماجی مساوات اور خواتین کی بااختیاری (آرٹیکل 15):* مہاراشٹر میں ذات پات اور صنفی عدم مساوات اب بھی ایک چیلنج ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد اور سیاسی نمائندگی کی کمی تشویشناک ہے۔ *صالح لائن:* خواتین کے لیے 33% ریزرویشن ایکٹ کو فوری عملی طور پر نافذ کیا جائے، اور ذات پات کے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ *ہمارا کردار؟* آئینی ہند اور سماجی انصاف فورم” بنائیں، جو دیہی اور شہری خواتین کو آئین کے حقوق سے آگاہ کرے۔
*عوامی تحریک:* ایک نئے مہاراشٹر کی شروعات
آئین ہند کا آرٹیکل 51A ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ آئین کی روح کو زندہ رکھے۔ مہاراشٹر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے – چاہے وہ شیواجی مہاراج کی مغلوں کے خلاف جنگ ہو یا پیشوائی راج کا خاتمہ یا پھر ڈاکٹر امبیڈکر کی ذات پات کے خلاف جدوجہد ہو یا جیوتی با پھلے کی غلام گیری مخالف تحریک۔ آج ہمیں پھر سے مہاراشٹر کی ترقی و انصاف پر مبنی پُرامن ریاست کی تعمیر کے لئے ایک نئی و متحرک تحریک کی دعوت دیتی ہے–
عملی منصوبہ:
1. *مقامی سطح پر تنظیم:* ہر گاؤں، قصبے اور شہر میں "آئینی و حقوق بیداری کمیٹیاں” بنائیں، جہاں لوگ آئین پڑھیں اور اپنے حقوق سے آگاہ ہوں۔
2. *سوشل میڈیا مہم:* #JagrutMaharashtraAbhiyan ہیش ٹیگ کے ذریعے کہانیاں، ویڈیوز اور میمز شیئر کریں۔ مثال کے طور پر، ایک کسان اپنی کہانی بتائے کہ MSP کی کمی نے اسے کیسے متاثر کیا۔
3. *مارچ اور احتجاج:* ممبئی سے ناگپور تک یا ناگپور سے ممبئی تک "آئینی مارچ” کا اہتمام کریں، جہاں ہر شہری آئین کی کاپی ہاتھ میں رکھے اور نعرے لگائے: "انصاف ہمارا حق ہے، آئین ہماری طاقت ہے!”، "نوجوانوں کو روزگار دو، مہاراشٹر کو انصاف دو!”, "مزدوروں کو حق دو، کسانوں کو انصاف دو!”
4. *قانونی جنگ:* آئینی ماہرین کے ساتھ مل کر عدالتوں میں پٹیشنز دائر کریں، جیسے کہ کسانوں کے قرض معافی کے لیے یا ماحولیاتی تحفظ کے لیے۔
5. *ووٹ کی طاقت:* ہر الیکشن میں ووٹروں کو آگاہ و بیدار کریں کہ وہ ایسی پارٹیوں کو ووٹ دیں جو آئینی اصولوں پر عمل کریں اور عوامی جمہوریت اور بھائی چارے کو مضبوط کریں۔
اگر ہم واقعی ریاست مہاراشٹر سے محبت کرتے ہیں اور اس کی ترقی کے لئے ایک وژن رکھتے ہیں تو یہ تحریک صرف ایک مہم نہیں، بلکہ ریاست مہاراشٹر کی نئی شناخت ہوگی۔ جس سے ہم ایک منصفانہ، خوشحال اور پائیدار مہاراشٹر کے خواب کی بنیاد رکھیں گے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے