कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مہاراشٹرا میں کانگریس کا زوال!

مضبوط اور سیکولر و ایماندار قیادت کو ابھرنے کے مواقع

تحریر:ایس ایم صمیم، ناندیڑ
موبائل: 9960942261

مہاراشٹرا کی سیاست میں ایک سوال ہر طرف گونج رہا ہے: "کانگریس کہاں ہے؟” یہ وہ جماعت تھی جو کبھی آزادی کی علامت، عوامی اعتماد کا محور، اور مہاراشٹرا کی سیاست کا مضبوط ستون ہوا کرتی تھی۔ لیکن آج، اس کی حالت ایسی ہے کہ نہ صرف اس کے رہنما بلکہ اس کا نظریاتی وجود بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ آئیے، اس تاریخی جماعت کے زوال کی کہانی کو سمجھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی کانگریس مہاراشٹرا کی سیاست سے کنارہ کش ہو چکی ہے؟
کانگریس کی غفلت: ایک دردناک حقیقت:
انڈین نیشنل کانگریس، جو کبھی مہاراشٹرا میں سیاسی طاقت کا مترادف تھی، آج اپنی شناخت کے بدترین بحران سے گزر رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں 120 سے زائد اہم رہنماؤں جن میں ایم ایل ایز، سابق وزرا، کونسلرز، اور ضلعی سطح کے عہدیدار شامل ہیں نے پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاسی ہجرت ہے جو کانگریس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔
یہ رہنما کہاں گئے؟
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سب سے بڑا حصہ سمیٹا، جس نے 55 بڑے لیڈروں کو اپنی صفوں میں شامل کیا۔ ان میں مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اشوکراؤ چوہان جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔
اجیت پوار کی این سی پی نے بھی بی جے پی کے قریبی اتحادی کے طور پر کانگریس کے کئی رہنماؤں کو اپنی طرف کھینچا۔
ایکناتھ شندے کی شیو سینا نے 2 ایم ایل ایز اور 1 ترجمان کو اپنا بنایا۔
ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا، شرد پوار کی این سی پی، ونچت بہوجن اگھاڑی (VBA)، اور حتیٰ کہ اے آئی ایم آئی ایم تک نے کانگریس کے رہنماؤں کو اپنی طرف راغب کیا۔
یہ اعداد و شمار محض تعداد نہیں، بلکہ کانگریس کے گرتے ہوئے عوامی اعتماد اور نظریاتی کمزوری کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔
بی جے پی: کانگریس کے زوال کی سب سے بڑی وجہ:
بی جے پی نے نہ صرف کانگریس کے رہنماؤں کو اپنی طرف کھینچا بلکہ اس کی سیاسی زمین کو بھی ہتھیانے میں کامیابی حاصل کی۔ بابا صدیقی (ممبئی کے اہم لیڈر)، دلیپ کمار سانندہ، ہیرامان کھوسکر، شلبھا کھودکے، ڈاکٹر ستیہش پاٹل، گلاب راؤ دیوکر، دلیپ واگھ، ہیمنت ہمبرڈے اور دلیپ سوناونے جیسے ناموں نے NCP (اجیت پوار) کے ذریعے بی جے پی کا دامن تھاما۔ اس کے علاوہ، 50 سے زائد ایم ایل ایز، کارپوریٹرز، اور عہدیداروں نے بھی این سی پی اجیت پوار کے ذریعے کانگریس کو خیرباد کہا۔
بی جے پی کی یہ حکمت عملی صرف رہنماؤں کو شامل کرنے تک محدود نہیں تھی۔ اس نے کانگریس کے روایتی ووٹر بیس —مراٹھا، دلت، اور اقلیتی طبقات— کو بھی اپنی طرف کھینچنے میں کامیابی حاصل کی۔ نتیجتاً، کانگریس اپنی بنیادی طاقت سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔
شیو سینا اور این سی پی: خاموش شکار:
بی جے پی کے علاوہ، ایکناتھ شندے کی شیو سینا اور اجیت پوار کی این سی پی بھی کانگریس کے زوال سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ شندے دھڑے نے دو اہم ایم ایل ایز اور ایک ترجمان کو اپنی طرف کھینچا، جبکہ ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا اور شرد پوار کی این سی پی نے بالترتیب ایک اور چار رہنماؤں کو اپنا بنایا۔ یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ کانگریس نہ صرف بی جے پی بلکہ علاقائی جماعتوں کے مقابلے میں بھی اپنی گرفت کھو رہی ہے۔
اقلیتوں اور دلتوں کا کھوکھلا اعتماد:
کانگریس، جو کبھی اقلیتوں، دلتوں، اور او بی سی طبقات کی آواز سمجھی جاتی تھی، آج ان کا اعتماد کھو رہی ہے۔ ایک ایم ایل اے کا ونچت بہوجن اگھاڑی اور ایک کا اے آئی ایم آئی ایم میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس اپنے روایتی ووٹر بیس سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ یہ طبقات اب متبادل سیاسی پلیٹ فارمز کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ان کے مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے اٹھا سکتے ہیں۔
قیادت کا بحران: کانگریس کی کمزوری کا اصل سبب:
مہاراشٹرا میں کانگریس کی موجودہ حالت کا سب سے بڑا ذمہ دار اس کی قیادت کا بحران ہے۔ ایک وقت تھا جب شرد پوار، ولاس راؤ دیشمکھ، اور وسانت دادا پاٹل جیسے مضبوط رہنماؤں نے پارٹی کو ناقابل تسخیر بنایا تھا۔ لیکن آج، پارٹی میں نہ تو کوئی واضح نظریاتی سمت ہے اور نہ ہی کوئی ایسی قیادت جو عوام کو متاثر کر سکے۔
حال ہی میں، ہرش وردھن سپکال کو مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر مقرر کیا گیا، جبکہ وجے وڈیٹیوار کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر بنایا گیا۔ لیکن 2024 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی بدترین کارکردگی — جہاں اسے صرف 16 نشستیں ملیں — نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ تبدیلیاں کافی نہیں ہیں۔ نانا پٹولے کی قیادت میں بھی پارٹی اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکی، اور اب سپکال کے سامنے تمام دھڑوں کو متحد کرنے اور بی جے پی کی مہایوتی کا مقابلہ کرنے کا مشکل چیلنج ہے۔
2025 اسمبلی انتخابات: آخری موقع؟
2025 کے اسمبلی انتخابات کانگریس کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہوں گے۔ اگر پارٹی اب بھی اپنی کمزوریوں کو دور نہ کر سکی، تو وہ مہاراشٹرا کی سیاست میں ایک غیر اہم جماعت بن کر رہ جائے گی۔ اسے درج ذیل شعبوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے.
مضبوط قیادت: ایک ایسی قیادت جو عوام کو متاثر کر سکے اور پارٹی کے اندر اتحاد پیدا کرے۔
تنظیمی ڈھانچہ: گراس روٹ سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنا اور نئی قیادت کو تیار کرنا۔
نظریاتی وضاحت: کانگریس کو اپنے نظریات کو واضح کرنا ہوگا، خاص طور پر اقلیتوں، دلتوں، اور او بی سی طبقات کے لیے۔
متحدہ حکمت عملی: مہا وکاس اگھاڑی اتحاد کو مضبوط کرتے ہوئے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ کرنا۔ اگر کانگریس یہ اقدامات نہ اٹھا سکی، تو اس کا سیاسی وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
عوام کی آواز: بی جے پی کا متبادل کیا ہے؟
کانگریس کے زوال نے ایک نظریاتی خلا پیدا کر دیا ہے۔ بی جے پی کی نفرت کی سیاست اور مہایوتی کی جارحانہ حکمت عملی کے مقابلے میں عوام ایک متبادل کی تلاش میں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس یہ خلا پر کر سکتی ہے؟ یا عوام کو خود اپنی آواز بننا ہوگا؟
آج مہاراشٹرا کے عوام پوچھ رہے ہیں کیا کانگریس کبھی واپس آئے گی؟
کیا وہ اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس لے سکے گی؟
یا یہ صرف ایک تاریخی جماعت کی داستان بن کر رہ جائے گی؟
بیدار ہوجائے کہ بیداری کا وقت ہے!
مہاراشٹرا میں کانگریس کا زوال صرف ایک سیاسی جماعت کی کہانی نہیں، بلکہ ایک نظریاتی بحران کی عکاسی ہے۔ یہ وقت ہے کہ کانگریس اپنی کمزوریوں کا جائزہ لے، اپنے کارکنوں کو متحد کرے، ہم نظر اور اقلیتوں و مظلوم طبقات پر مبنی پارٹیوں سے اتحاد کریں اور عوام کے اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اگر وہ ناکام رہی، تو عوام کو خود اپنی آواز بننا ہوگا — ایک ایسی آواز جو ناانصافی، نفرت، اور استحصال کے خلاف بلند ہو۔
آؤ، مہاراشٹرا کی سیاست کو ایک نئی سمت دیں۔ سوال اٹھائیں، آواز بنیں، اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں۔ کیونکہ خاموشی اس نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور بیداری اس کے زوال کی پہلی سیڑھی!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے