कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مکہ مکرمہ کے مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور لسانی امتیازات

تحریر:عارف عزیز(بھوپال)

مذہبی امتیازات
روئے زمین کی تمام عبادت گاہوں میں جو امتیازی شان وعظمت مسجدِ حرام کو حاصل ہے ، دنیا کے تمام شہروں میں وہی محبوبیت وافضلیت مکہ مکرمہ کے لئے مسلم ہے، اسے ہم دنیا کا قدیم اور متمدن شہر بھی کہہ سکتے ہیں، یہاں پختہ مکان، عمارات، اور محلات بنانے کا رواج بعد میں شروع ہوا لیکن جب اِس کا آغاز ہوگیا تو اہل مکہ کے تعمیری ذوق نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیا، یہاں کے مکان عام طور پر کشادہ، آرام دہ اور خوبصورت ہوتے ہیں، جس میں قومی روایات کا خواب اظہار ہوتا ہے، مہمان نوازی یہاں کے شہریوں کے رگ وپے میں پیوست ہے اور اس کا ثبوت ہر مکان میں مہمانوں کے لئے مہیا کی جانے والی آرام وآسائش کی سہولتوں سے ملتا ہے، حجاج کرام کی ہر سال خدمت کرنا تو اہل مکہ کی زندگی کا ایک حصہ ہے لیکن حج کے بعد سال بھر آنے والے زائرین کو بھی وہ سر آنکھوں پر جگہ دیتے ہیں۔
مکہ مکرمہ کی سرزمین بجز مرقدِ اطہر ﷺ سب سے افضل ہے، حدود حرم کے ساتھ سارا مکہ محترم ہے، حجرِ اسود کی چمک جہاں جہاں پہونچی وہاں تک حرم کے حدود قائم ہوئے، بیت الحرام کی یہی حرمت نصِ قرآنی سے بھی ثابت ہے۔ یہ انبیاء کرام کی جائے عبادت ہے، سینکڑوں انبیاء اس شہر میں آسودہ خواب ہیں ۔ یہاں آنے والا اللہ کا مہمان ہوتا ہے، اسے قرآن نے ’’بلد امین‘‘ امن والا شہر قرار دیا ہے، اسی لئے یہاں قتال و جدال یہاں تک کہ شجر کاٹنا بھی منع ہے۔
بعض علماء نے یہاں زراعت کو بسبب کٹائی ممنوع قرار دیا ہے، مشرکین کے داخلے اور اسلحہ لانے پر پابندی عائد ہے، یہاں کی مٹی کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا حرام ہے، یہ وہ شہر ہے جسے مولدِ نبیؐ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، یہاں رسول پاک ﷺ کا عہدِ طفولیت بیتا، یہاں آپؐ نے پرورش پائی ، جوانی کا عہد بھی اسی شہر میں گزرا، یہاں آپ نے تین عقد فرمائے، سوائے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ تمام اولادیں یہاں پیدا ہوئیں، اسی شہر کے غارِ حرا (جبل نور) پر آپؐ نے تنہا عبادت فرمائی، وحی ناز ل ہوئی اور قرآن کے اترنے کے سلسلہ کا آغاز ہوا ، اسی شہر میں نبی آخر الزماں ﷺ نے منصب نبوت کا اعلان فرماکر اسلام کی عالمگیر تبلیغ کا آغاز کیا۔اسی شہر میں اکثر فرائض و احکام نازل ہوئے۔اسی شہر پاک میں معجزہ شق القمر کا صدور ہوا، اسی جگہ پتھروں نے آپؐ کو سلام کیا اور درخت تعمیل ارشاد میں قریب آئے، یہیں سے اسریٰ اور معراج ہوئی، آپؐ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور ۸ ہجری میں فتح مکہ پر عام عفو ودرگذر کا اعلان کیا، یہاں مسجدِ حرام کے ’’باب السلام‘‘ سے تھوڑے فاصلہ پر محلہ سوق اللیل تھا، اس سے متصل گلی میں حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کا گھر تھا، یہی مکان رسول پاکؐ کا جائے پیدائش ہے جسے سعودی حکومت نے لائبریری کی حیثیت سے باقی رکھا ہے، حرم شریف اور اس مکان کے درمیان دشمنِ اسلام ابو جہل کے مکان پر طہارت خانے بنادیئے گئے ہیں جواس جگہ کا مناسب مصرف ہے۔ ہم مولدِنبیؐ کی زیارت کرنے پہونچے تو دیکھا کہ لوگ وہاں مختلف طریقوں سے اپنی عقیدت کا اظہار کررہے ہیں، ایک ترک خاتون اپنے رومال سے مکان پر جمی گرد کو سمیٹ رہی تھی، کئی لوگ اپنا چہرہ ہاتھ یا بدن مکان کی دیواروں سے مس کرنے میں مصروف تھے، یہاں ہماری ملاقات مہاراشٹر کے ایک نوجوان سے ہوئی جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مکان کی نشاندہی کی اب یہاں بلند وبالا عمارت بن گئی ہے، جس کے اوپر غالباً مسجد تعمیر ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہ کی رہائش گاہ کے آثار بھی نہیں ملتے، کیونکہ وہاں دوسری تعمیرات کھڑی ہیں، نکاح کے بعد رسول اللہ ﷺ محلہ زقاق الحجر میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے مکان میں ہجرت تک مقیم رہے، اسی مکان میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت ہوئی، بعد میں یہاں مسجد بنا دی گئی لیکن اب اس مکان کا وجود نہیں ،اس شہر میں مذکورہ مقامات کے علاوہ اسلام کا پہلا مدرسہ ’’دارِ ارقم‘‘ مسجد رایہ، مسجد جن، مسجد اجابہ، مسجد کائن، مسجد ذی طوی، مسجد عائشہ، مسجد ماثورہ، قدیم زیارت گاہیں جنت معلی، جبلِ ماثورہ،ثبیر مقدس پہاڑ ہیں، تین قدیم قلعے ، قلعہ جیاد، قلعہ ہندی اور قلعہ شاہی کے آثار اب بھی نظر آجاتے ہیں۔
مکہ معظمہ ہر دو ر میں سربراہان حکومت، اربابِ اقتدار، زعماء اور حکام کا مرکزِ نگاہ رہا ہے، مقامی باشندوں کی میزبانی، مہمان نوازی، سیر چشمی اور فراخ دلی اس سرزمین پر قدم رکھنے والوں کو متاثر کردیتی ہے، چالیس پچاس سال پہلے یہاں غربت کا بول بالا تھا، میرے والد بزرگوار (سید رحمت علی صاحب عزیزمیاں مرحوم) ۱۹۶۳ء میں فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے تشریف لے گئے تھے، اس وقت دو ہندوستانی روپیوں کے بدلہ میں بآسانی تین ریال مل جاتے تھے، آج ایک ریال کی قیمت ساڑھے گیارہ روپے ہے، بھوپال نژاد اور امورِ خیر میں پیش پیش رہنے والے معلم شیخ صالح عبدالصمد ساعاتی مرحوم فرماتے تھے کہ’’ میرے دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کی دنیا بدل گئی، پہلے آنے والے حاجی معلوم کرتے تھے کہ ان کی رقم کس مستحق کو دی جاسکتی ہے، بعد میں آنے والوں کو یہ تلاش ہونے لگی کہ فلاں سامان کہاں سے خریدا جائے‘‘، پچاس سال کے عرصہ میں تیل کی دولت سے صورتِ حال اتنی تبدیل ہوگئی کہ جو آنے والوں کے منتظر کرم ہوا کرتے تھے آج وہ حجاج کی میزبانی وخدمت میں طمانیت محسوس کرتے ہیں لیکن اللہ کے گھر کعبۃ اللہ سے اہل مکہ کا جو پرانا اور مستحکم تعلق ہے اس میں ذرا بھی کمی نہیں آئی، پہلے کی طرح وہ ہر نئے کام کا آغاز عمرہ یا کم از کم طواف سے کرتے ہیں، ہر سطح کے لوگ اہلِ خاندان کے ساتھ حرم شریف میں حاضری کو سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں، ایام حج کا ہجوم کم ہوتے ہی صحنِ حرم میں ایسے خاندان نظر آنے لگتے ہیں جن کا وقت زیارتِ کعبہ یا طواف میں گزرتا ہے اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ادھر اُدھر دوڑ بھاگ میں مصروف رہتے ہیں۔ مقامی باشندوں کی کوشش ہوتی ہے کہ حج کے دوران حرم میں بیرونی زائرین کو زیادہ سے زیادہ عبادت کا موقع ملے اور ان کو کسی طرح کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے، اسی مقصد سے وہ ٹھنڈے اور گرم مشروبات کے علاوہ کھانا اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں، نومولود بچوں کو ولادت کے بعد نہلا دھلا کر سب سے پہلے حرم میں لانے کا رواج آج بھی قائم ہے، بحیثیت مجموعی مکہ شریف کی معاشرتی زندگی سادگی سے عبادت ہے، مرد یکساں لباس زیب تن کرتے ہیں، نیم آستین والا سفید قمیض، تہہ بند، ٹوپی، عقال اور غطرہ ان کا عام لباس ہوتا ہے، عورتیں ضرور اعلیٰ لباس کے ساتھ زیور پہنتی ہیں لیکن پردہ کی اتنی شدید پابندی ہوتی ہے کہ غیر محرم ان کی آواز نہیں سن سکتا، برقعہ کے بغیر وہ باہر نہیں نکلتیں اور مکانوں کے مردانہ حصہ میں بھی بے پردہ داخل نہیں ہوتیں، حرم میں دوسری ایشیائی خواتین کو تیز آواز میں گفتگو کرتے دیکھ کر عرب خواتین اکثر ٹوک دیتی ہیں، اسی طرح بغیر برقعہ کے نظر آنے والی خواتین کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتیں۔
مکرمہ مکرمہ زمانہ قدیم سے دینی علوم کا مرکز رہا ہے لیکن اب یہاں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم پر بھی توجہ دی جارہی ہے، ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے مدارس وکلیات کی تعداد یوروپ کے کسی بھی بڑے شہر سے کم نہیں حالانکہ پچاس برس قبل تک یہاں صرف چند مدارس قائم تھے، یہی حال کتب خانوں کا تھا، لیکن آج شہر مکہ میں درجنوں لائبریریاں کام کررہی ہیں، حرم شریف میں درس کے حلقے اور وعظ کی مجالس کی سینکڑوں سال پرانی روایت آج بھی زندہ ہے۔
ثقافتی امتیازات
شادی بیاہ کی تقاریب کے بارے میں یہاں عرصہ سے مقیم لوگوں کا بیان ہے کہ بہت سادہ اور شائستہ ہوتی ہیں مرد اور عورتوں کے لئے بیٹھنے کی الگ الگ نشستوں کا انتظام کیا جاتا ہے ، نفیس عربی کھانوں سے مہمانوں کی ضیافت ہوتی ہے، مرد اکثر شادی کی تقریب میںتلوار زیبِ تن کرکے شرکت کرتے ہیں، بعض شادیوں میں تیغ زنی کے کرتب بھی دکھائے جاتے ہیں، مکہ شریف میں غمی کے موقع پر سادگی برتی جاتی ہے، ہندوستان کی طرح میت کا سوگ کئی دن تک نہیں منایا جاتا، کفن ودفن کے بعد ہر ایک معمول کے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہے، اس سے قبل ضرور میت کے ورثاء جن مراحل سے دوچار ہوتے ہیں، ہندوستان میں رہنے والے اس کا تصور نہیں کرسکتے کیونکہ موت کے بعد لاش کو فوراً سینٹرل اسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کردیا جاتا ہے، یعنی میتیں گھروں میں رکھنے کا طریقہ نہیں، غسل ہو یا کفن ودفن یا میت کو نماز جنازہ کیلئے مسجد اور اس کے بعد تدفین کیلئے قبرستان لے جانے کاکام حکومت یا اس کے ماتحت فلاحی ادارے انجام دیتے ہیں، اس سے پہلے پولس کا اجازت نامہ حاصل کرنا لازم ہوتا ہے ، مقامی باشندے ہوں یا تارکِ وطن (غیر مقیم) سب کو تدفین کی اجازت کے لئے کئی سرکاری دفاتر سے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے پڑتے ہیں، غیر مقیم متوفی کے ورثاء کی دشواریاں اس لئے بڑھ جاتی ہیں کہ انہیں اپنے سفارت خانے سے بھی رجوع کرنا پڑتا ہے، جہاں سے متوفی کی قومیت کی تصدیق کے ساتھ ایک سفارشی لیٹر سعودی حکومت کے نام جاری ہوتا ہے، اسے امیر شہر کے دفتر میں پیش کرکے تدفین کی اجازت مل جاتی ہے۔اسی سال(۲۰۰۶ء میں) نظام الدین کالونی بھوپال کی ایک خاتون منیٰ کے حادثہ میں زخمی ہوکر فوت ہوگئیں تھیں اور مختلف کارروائی میں تقریباً ایک ہفتہ کی تاخیر سے ان کی تدفین عمل میں آئی۔
مکہ شریف میں کسی زمانے میں اونٹ اور گدھے کی سواری عام تھی، آج کل دنیا کی قیمتی سے قیمتی کاریں یہاں کی شاہراہوں پر دوڑتی نظر آجاتی ہیں، دولت کی فراوانی اور خوش حالی کے باعث ۹۵ فیصد مکہ کے شہری موٹر نشیں ہیں۔ یہاں اونٹ، بھیڑ ، بکری بکثرت اور گائے بہت کم نظر آتی ہیں، اسی طرح کبوتروں کی افراط، چڑیوں کی کمی، بلیوں کی کثرت ہے لیکن کوے دکھائی نہیں دیتے۔ جرول، حارث الباب، شبیکہ، جبل عمر، مصفلہ، معاہدہ، حجون، جبل ابو قبیس، شعبِ بنی ہاشم، فلک، طریق ہجرہ اور شامیان، مشہور محلے ہیں جبکہ سوق الکبیر، ، بازار سویقہ، بابِ دریبہ، سوق اللیل، سوق الصغیر قابل ذکر بازار ہیں۔
پولس کی مستعدی اور عدالتوں کے کارگر نظام کے باعث ماخوذین کو مقدمات کے فیصلہ کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا، شرعی نظام کے نفاذ سے جرائم کی شرح بھی محدود ہے، میونسپل کا محکمہ چاق وچوبند ہے، ٹرافک ضابطوں کی خلاف ورزی یا گاڑیوں کی ممنوعہ مقامات پر پارکنگ کے خلاف فوراً کارروائی ہوتی ہے۔ اور انہیں بلڈوزر کے ذریعہ اٹھا لیا جاتا ہے، حج کے ایام میں رات ۱۱ بجے تک حرم کے ارد گرد سوائے سرکاری گاڑیوں کے سبھی گاڑیوں کا داخلہ ممنوع رہتا ہے، ٹیکسی ڈرائیور بھی ٹرافک کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے، پھر بھی حادثات ہوجاتے ہیں، اس کی ایک وجہ گاڑیوں کی تیز رفتاری ہے تو دوسرا سبب ہندوستان جیسے ممالک کے شہری ہیں، جن کی عادت سڑک کے بائیں جانب چلنے کی ہے، اکثر وہ یہاں کے دائیں طرف چلنے والے ٹرافک سے دھوکہ کھاجاتے ہیں، بھوپال کے ایک حاجی محمد احمد صاحب جو اپنی اہلیہ اور کمسن بچی کے ہمراہ حج کے لئے گئے تھے، مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانگی سے عین قبل ٹرافک کا صحیح اندازہ نہ ہونے سے حادثہ کا شکار ہوکر چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے اور مدینہ منورہ کے دس روزہ قیام میں انہیں وہیل چیئر استعمال کرنا پڑی۔
یہاں کا مواصلاتی نظام دنیا کے لئے ایک مثال ہے، خاص طور پر ٹیلی فون کے ذریعہ مکہ مکرمہ کو پوری دنیا سے مربوط کردیا گیا ہے، حالانکہ حج کے پرہجوم ایام کے دوران صارفین کی تعداد حد سے تجاوز کرجاتی ہے لیکن نیٹ ورکنگ کی کمی کا پہلے جو عام شکوہ رہتا تھا اب وہ دورہ ہوگیا ہے۔ خاص طور پرجنوری ۲۰۰۶ء کے حج میں تو اندازہ ہوا کہ ہر چوتھے یاپانچوے حاجی کے پاس موبائل فون ہے، اس کی سِم سویا پچاس ریال میں مل جاتی تھی، اگر موبائل فون کا سیٹ نہ ہو تو زرِ ضمانت پر وہ بھی کرایہ سے حاصل ہوجاتا تھا۔
مکہ مکرمہ میں قدیم باشندوں کی اکثریت قبائلی عرب اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، عرب کے قدیم خاندان جن کی نسلاً بعد نسلٍ یہاں سکونت رہی، ان کی تعداد اب کم ہوگئی ہے، لوگوں کا عام پیشہ تجارت ہے اور بڑا حصہ حج کے موسم میں حجاج کی راحت رسانی اور مہمان نوازی کے کاموں سے وابستہ رہتا ہے اور یہی اس کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں زرعی پیداوار کا کوئی تصور نہیں، ضرورت کا سامان درآمد کیا جاتا ہے، صنعت وحرفت بھی نہیں ہیں، پھل اور سبزیاں طائف سے آتی ہیں، تربوز بکثرت ملتے ہیں اور خوش ذائقہ ہوتے ہیں، مکہ مکرمہ کے مذکورہ امتیازات وخصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے مجھے قاری محمدقاسم انصاری صاحب کے پہلے سفر حج کے وہ تجربات یاد آرہے ہیں جن میں موصوف نے مجھے شریک کرکے اسی حج کے دوران فرمایا تھا کہ آج جس سرزمین میں دنیا کی جملہ نعمتوں ، آسائشوں اور سہولتوں کی فراوانی ہے وہاں پچیس سال پہلے تک یہ حال تھا کہ حاجی کو منیٰ کے قیام کے لئے پانی کی فکر مکہ مکرمہ سے دامن گیر ہوجاتی تھی، مکہ شریف میں بھی پانی کافی تگ ودو کے بعد حاصل ہوتا تھا لیکن آج سعودی حکومت کے حسنِ انتظام سے سمندرکا وہ پانی جسے صاف کرکے فراہم کرنے میں اس کی قیمت پیٹرول کے مساوی ہوجاتی ہے، حجاج کرام کو وافر مقدار میں بغیر کسی معاوضہ کے دستیاب ہورہا ہے۔
حجازمقدس میں اردو کی خوشبو
اردوزبان کی خوشبو خلیج کے کئی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے، وہاں اس زبان کے شعر وادب کا ایک جہان گرویدہ نظر آتا ہے، خاص طور پر برصغیر ہند- پاک سے جو لوگ کام کی تلاش میں گئے ہیں ان کا اوڑھنا بچھونا یہی زبان ہے، خواہ اردو داں ہوں یا دوسری زبان بولنے والے، عام محفلوں، مجلسوں، بازاروں اور عبادت گاہوں میں وہ اپنے اظہار کا ذریعہ اردو کو ہی بناتے ہیں، اسی طرح مکہ مکرمہ میں حج کے ایام کے دوران جو مترنم الفاظ بارہا انسانی سماعت پر خوشگوار اثر ڈالتے ہیں۔ وہ اکثر اردو کے ہوتے ہیں، دوران طواف یا سعی کرتے ایسے حجاج مل جاتے ہیں جو بارگاہ الٰہی میں عرض ومناجات اپنی مادری زبان یعنی اردو میں کرتے ہیں۔ یہ بھی اس زبان کی مقبولیت کی دلیل ہے کہ بعض مقامات پر ہی سہی عربی اور انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی ہدایات، اطلاعات، اعلانات نظر آجاتے ہیں، مکہ مکرمہ سے اردو کا کوئی اخبار شائع نہیں ہوتا لیکن جدہ سے نکلنے والا روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ یہاں بروقت پہونچ جاتا ہے، برصغیر کے بڑے اردو اخبارات میں ’’سیاست‘‘ و ’’جنگ‘‘ بھی اسٹالوں پر موجود رہتے ہیں، مکہ میں مقیم اردو داں تارکین وطن انٹرنیٹ پر ہر صبح اردو روزناموں کا مطالعہ کرلیتے ہیں۔ مکہ شریف کے بارے میں تو علم نہیں لیکن جدہ اور ریاض دو ایسے سعودی شہر ہیں، جہاں مختلف عنوانات سے اہل اردو اپنی محفلیں منعقد کرتے ہیں اور سال میں دو تین بڑے مشاعرے اور جلسے بھی ہوجاتے ہیں، جن میں ہندوستان اور پاکستان سے معروف شخصیتوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔
اردو زبان کے تعلق سے عام لوگوں کی اس دلچسپی کو اردو کی شیرینی اور مقبولیت کا ہی نام دیا جاسکتا ہے، اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے اردو کی نئی بستیاں یوروپ وامریکہ میں ہی نہیں مشرقِ وسطیٰ میںبھی پھل پھول رہی ہیں۔مکہ مکرمہ میں میرے پہلے دن کا ذکر گزرچکا ہے ۶؍ جنوری کو بعد نماز جمعہ جب میں اپنے ساتھیوں کی تلاش میں سرگرداں تھا تو ناکام ہوکر ایک پولس مین کا سہارا لینا پڑا، اس نے مجھے ایک پاکستانی تارکِ وطن نوجوان کے سپرد کردیا، پہلے تو حالت احرام میں دیکھ کر وہ مجھے ترک سمجھا لیکن جیسے ہی اسے اندازہ ہوا کہ میں اردو داں ہندوستانی ہوں، اس نے میری رہبری کی، جب بھی چلتے پھرتے یا خرید وفروخت کے وقت، ہندوستانی حجاج کو زبان کی اجنبیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کوئی نہ کوئی اردو سمجھنے والا مل جاتا ہے، دوکاندار بھی تھوڑی بہت اردو سے واقف ہوتے ہیں۔ عربوں کو اگر احساس ہو کہ اردو بولنے والا ہندوستانی ہے تو وہ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ عالم عرب میں ہندوستانی مسلمانوں کو عام طور پر بے ضرر تصور کیا جاتا ہے۔
جدہ میں غالباً سب سے زیادہ اردو داں آباد ہیں، وہاں آئے دن مختلف عنوانات سے اردو کی مجالس منعقد ہوتی ہیں، مذہبی تہوار آئیں، یا قومی دن منائے جائیں، مشاہیر کی سالگرہ ہو یا کوئی دوسرا موقع ، جلسے اور مشاعرے منعقد کرنا جدہ کے محبان اردو کا محبوب مشغلہ ہے، جنہوں نے اردو اکادیمی کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کرلی ہے اور اس کے مقاصد میں اردو کے جلسے ومشاعروں کے علاوہ اس کی تعلیم وترقی کی سرگرمیاں انجام دینا شامل ہے۔
حرم کے لیل ونہار
حرم شریف میں ہر نماز کے بعد جنازہ کی نماز ہوتی ہے، فرض نماز کا سلام پھیرنے کے ایک دو منٹ بعد مکبّر نماز جنازہ کا اعلان کرتا ہے، کبھی کئی جنازوں کی تو کبھی ایک انفرادی جنازے کی نماز باجماعت پڑھی جاتی ہے، نابالغ میت کی نماز جنازہ علاحدہ سے ادا کی جاتی ہے مکہ مکرمہ میں ایک ماہ کے قیام کے دوران صرف ایک دن نماز مغرب میں کسی جنازہ کی نماز نہیں ہوئی ورنہ ہم روزانہ پانچ وقت نماز جنازہ پڑھتے رہے۔ وہاں نماز جنازہ کا سلام صرف ایک طرف پھیرتے ہیں۔ اس لئے حنفی مسلک کے پیرو امام کی آواز پر داہنی طرف او ر مکبّر کے دہرانے پر بائیں طرف سلام پھیردیتے ہیں، ہمارے یہاں اقامت میں مکبّر سبھی تکبیریں دو مرتبہ کہتے ہیں جبکہ حرم میں صرف ایک مرتبہ کہی جاتی ہیں، اسی طرح کسی نماز کے بعد دعا نہیں ہوتی البتہ جمعہ کی نماز سے قبل خطبہ کے آخر میں امام ماثور دعائیں پڑھتے ہیں، جن پر آمین کی سدائیں بلند ہوتی ہیں، جمعہ کا خطبہ کافی طویل ہوتا ہے جس میں موقع کی مناسبت سے قرآن وحدیث کی روشنی میں اصلاحِ حال پر زور دیا جاتا ہے، ہندوستان کی طرح وہاں خطبہ کے دوران خلفائے راشدین کا نام نہیں لیا جاتا۔عصر کے بعد حرم کے مختلف حصوں میں طلباء کے درس کے لئے درجات لگتے ہیں تو مغرب کے بعد مختلف گوشوں میں علماء کے حلقے نظر آتے ہیں جن میں اردویا عربی زبان میں علماء کرام احادیث اور سیرت طیبہ پر تقاریر فرماتے ہیں۔ اذان کے بعد بشمول نمازِ مغرب مقامی لوگ تہیۃ المسجد ضرور ادا کرتے ہیں، مغرب کی اذان کے بعد فوراً تکبیر نہیں ہوتی بلکہ چھ سات منٹ کا وقفہ ہوتا ہے تاکہ دو نفل ادا ہوسکیں۔ نماز کے اوقات بدلتے رہتے ہیں جن کا اندازہ حرم میں جگہ جگہ آویزاں گھڑیوں کے اوپر نماز کے نام اور وقت کے اندراج سے ہوتا ہے۔ حج کے مصروف ترین ایام میں خواتین کیلئے نماز کی جگہ مخصوص نہیں رہتی اس لئے ان کی صفیں کہیں بھی بن جاتی ہیں اور باوجود کوشش کے حرم کا نگراں عملہ مردوں سے عورتوں کے اختلاط پر قابو نہیں پاتا، لیکن ہجوم کا دبائو کم ہوتے ہیں عورتوں اور مردوں کیلئے نماز کے مقامات علاحدہ علاحدہ کردیئے جاتے ہیں۔ سیاہ برقعہ اور نقاب میں ملبوس طویل قامت خواتین ، عورتوں کو ان کے مقامات پر پہونچاتی ہیں۔ مسجد حرام کے دروازوں پر تعینات پولس کا عملہ اور ان کے معاون جو سرخ رومال اور جبہ میں ملبوس ہوتے ہیں اندر داخل ہونے والوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اگر کوئی بیگ یا دوسرا سامان لیکر جاتا ہے تو اس کی تلاشی ضرور لی جاتی ہے، عورتوں کے پرس وغیرہ کی تلاشی کا کام خواتین عملہ انجام دیتا ہے۔
ایک اور بات جس کا مشاہدہ ہوا حج کے پرہجوم ایام میں نماز کے اوقات کی سخت پابندی ہوتی ہے، وقت پر جماعت اداہوجاتی ہے اور امام مختصر نماز پڑھاتے ہیں، جہری نمازوں میں حج اور اس سے متعلق آیات کی تلاوت کا اہتمام ہوتا ہے ، بعد میں یہ صورتِ حال باقی نہیں رہتی، تھوڑے بہت توقف کے ساتھ جماعت کھڑی ہوتی ہے اور اس میں امام کی قرأت بھی طویل ہوجاتی ہے، حرم کی نماز کی طرح وہاں کی اذان بھی ایک خاص کیفیت کی حامل ہے، خالص عربی لہجہ اور خوش الحانی کے ساتھ اذان شروع ہوتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل کھینچ رہا ہے، اتنی کشش ہوتی ہے کہ لوگ دیوانہ وار، چہار طرف سے دوڑ پڑتے ہیں ۔
دور سے دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ میں تل بھر جگہ نہیں ہے لیکن قدم آگے بڑھالیں تو تنگی کے باوجود روشیں بنتی جاتی ہیں، کسی نے حرم شرف میں حاضرین کی روز افزوں تعداد کا ذکر کیا تو میری اہلیہ کہنے لگیں انسانوں کے اس ہجوم کو بھیڑ بھاڑ کہہ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے یہ تو صوفیوں، بزرگوں ، عالموں، ولیوں اور اللہ کے نیک بندوں کا اجتماع ہے۔اور ان میں بعض ایسی جانی پہچانی صورتیں نظر آتی ہیں جن کو ہم اپنے وطن چھوڑ آئے ہیں یا جو بہت پہلے اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ حرم سے واپسی پر میں اکثراپنی اہلیہ اور بیٹی مرضیہ کی گفتگو سنتا کہ آج خاندان کی فلاح مرحومہ کو ہم نے نماز پڑھتے دیکھا، صبح ہمارے فلاں بھائی نظر آئے ، کل مرحوم نانا، پھوپی اور ماموں طواف کرتے دکھائی دئے تھے وغیرہ وغیرہ، کئی مرتبہ مجھے بھی احساس ہوا کہ سامنے سے گزرنے والا فلاں دوست یا عزیز ہے حالانکہ اس کی رحلت کو عرصہ بیت گیا، حرم شریف میں لوگ اپنے اپنے ذوق کے مطابق عبادات میں مصروف رہتے ہیں ، کوئی تلاوت کررہا ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے ، کوئی طواف کررہا ہے تو کوئی کعبۃ المشرفہ کو دیکھنے میں مصروف ہے۔یہ بھی ایک عبادت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے