कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولانا علی میاں کی تحریک ’’پیامِ انسانیت‘‘ سارے مسائل کا حل ہے

ڈاکٹر مرضیہ عارف، بھوپال

مفکر اسلام حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی کی شخصیت برّصغیر ہی نہیں، سارے عالمِ اسلام میں انسانیت پرست اور اخوت ومحبت کی مثال سمجھی جاتی تھی، وہ اپنے ملک ہندوستان کو بھی امن و آشتی کا گہوارہ دیکھنا چاہتے تھے اور اِس کے لیے زندگی بھر سرگرمِ عمل رہے۔ برادرانِ وطن سے تبادلۂ خیال فرماتے اور کوشاں رہتے تھے کہ ملک میں بھائی چارہ قائم رہے ۔ اِس مقصد سے انھوں نے ملک کے بڑے سے بڑے رہنما اور عہدیدار سے لے کر عام لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنا پیغامِ انسانیت پہونچانے میں کبھی جھجھک سے کام نہیں لیا، بلکہ یہ اُن کی زندگی کا ایک مشن بن گیا تھا۔
۱۹۷۴ء میں جب ہندوستان کا ماحول زیادہ خراب ہونے لگا تو مولانا علی میاں نے ’’پیامِ انسانیت‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا، اِسے کسی خاص علاقے تک محدود نہیں رکھا، جہاں جاتے لوگوں تک پیغام پہونچاتے، تقریر و تحریر، جلسے اور اجتماعات کے ذریعہ اپنے دل کا درد بانٹتے، ملک کی تباہی پر اپنے اور پرایوں کو جگاتے اور نہایت دردمندی کے ساتھ انسانوں کے دلوں پر یہ کہہ کر دستک دیتے :
’’آج ہمارے ملک میں انسان کو انسان سے محبت نہیں رہی، پہلو میں وہ دل نہیں رہے، جو انسانیت کے سوز میں جلتے ہوں، اُس درد کو محسوس کرتے ہوں، نفسانفسی کا قیامت خیز منظر ہے، ہر ایک کو اپنی پڑی ہے، ہمارے ملک میں جب ریل اور ہوائی جہاز کے حادثات ہوتے ہیں تو سماج کی اخلاقی پستی عیاں ہوتی ہیں، لوگ حادثہ کا شکار ہونے والے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے بجائے اُن کی کلائی کی گھڑیاں اور جیبوں سے پرس نکال لیتے ہیں، یہ خطرہ کا وہ سگنل ہے، وہ الارم ہے، جس پر پوری سوسائٹی کو چوکنا ہوجانا چاہیے۔ فرقہ وارانہ فسادات، ہندو مسلم مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کی بے حرمتی کی علامت ہے، اصل مرض انسانیت کی بے وقعتی ہے، ہم نے بعض اوقات درخت اور جانور کو انسان سے زیادہ وقعت دی ہے۔ (تحفۂ انسانیت، صفحہ: ۳۸)
مولانا علی میاں نے اپنی تقاریر میں بارہا اِس واقعہ کو نقل فرمایا ہے کہ ایک بزرگ کی خدمت میں جب اُن کے مرید نے تحفہ میں قینچی پیش کی، تو بزرگ نے فرمایا کہ یہ دور قینچی پیش کرنے کا نہیں، سوئی دینے کا ہے، قینچی سے تو کاٹنے کا کام لیا جاتا ہے اور سوئی سے جوڑنے کا گویا، یہ اشارہ تھا کہ انسان کو آپس میں کاٹنے کا نہیں بلکہ جوڑنے کا کام کرنا چاہیے۔
محبوبِ الٰہی حضرت نظام الدین اولیاؒ کا یہ قول بھی وہ اکثر نقل فرماتے کہ :
’’اگر کوئی کانٹا رکھے اور توبھی اِس کے عوض کانٹا رکھے تو کانٹے ہی کانٹے ہوجائیں گے، عام لوگوں میں تو یہ دستور ہے کہ نیک کے ساتھ نیک اور بد کے ساتھ بد ہوتے ہیں، لیکن درویشوں میں یہ دستور نہیں، یہاں نیک و بد دونوں کے ساتھ ایک بھلائی کا رویہ ہونا چاہیے۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کے نزدیک اِس وقت کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ ’’ہم اپنے اپنے مذہب کے دائرہ میں انسانیت کا احترام پیدا کرنے اور انسانیت کو زندہ کرنے کی کوشش کریں، انسان، اِنسان کی طرح ملے، اِس کے بعد غوروخوض اور توفیقِ الٰہی سے اپنے لیے پسندیدہ طریقۂ زندگی منتخب کرلے، لیکن پہلے باہمی اعتماد ومحبت کی فضا تو پیدا کیجئے، لوگوں کو گلے لگایئے، تب آگے بات ہوگی، اگر انسانیت ہی نکل گئی تو کس سے بات کی جائے‘‘۔ (تحفۂ انسانیت، صفحہ: ۴۲)
پیامِ انسانیت کے اسٹیج سے حضرت کے خطابات سن کر اور پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے دل نکال کر رکھ دیا ہو، آپ ہمیشہ قومی اتحاد کے لیے فکرمند رہے، اپنے ملک کو ہرا بھرا، خوش حال دیکھنا چاہتے تھے، انسانیت، ایک دوسرے کا دردوغم وہ جس طرح محسوس کرتے، چاہتے تھے کہ ایسے ہی سارے ملک کے لوگ ایک دوسرے کے غم میں شریک ہوں، حضرت اپنے اکثر خطاب میں فرماتے تھے کہ’’ تمام قومیں انسانیت کی شاخیں ہیں، اُن کی اصل شناخت انسانیت ہے، آج کتنی پارٹیاں آدمیت و انسانیت کو بچانے کے کام میں مصروف ہیں؟ یاد رکھئے! تہذیب وتمدن، سیاست و حکومت، ادب وفلسفہ اور علم و فن کے آشیانے انسانیت کی شاخ پر قائم ہیں، اگر انسانیت باقی نہیں رہی تو اُن کا وجود بھی بے معنی ہوجائے گا۔
حضرت والا! اخلاق، کردار اور قومی یکجہتی کے تعلق سے اپنے وطن ہندوستان کی صورتِ حال کو نہایت خطرناک قرار دیتے تھے اور اس کو بدلنے کے لیے چار نکاتی پروگرام پیش فرماتے تھے جس کے مطابق پہلا کام مذہبی، اخلاقی اور انسانی بنیاد پر عوام سے جلسوں، ملاقاتوں، تقریروں، تحریروں کے ذریعہ رابطہ قائم کرکے انسانوں کی جان، مال، عزت اور آبرو کی قیمت بتاکر اُنھیں احترام و تحفظ کی ذمہ داری ذہن نشین کرائی جائے، دوسرا کام پرائمری سے لے کر کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں اصلاح کرکے ہندومسلم اتحاد اور قومی یک جہتی کے واقعات شامل کرکے انسانیت کے احترام کے جذبات اُبھارے جائیں، تیسرے میڈیا کو اُس کی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے تاکہ اُس کے ذریعہ نفرت وعداوت بھڑکانے کا کام بند ہو، چوتھے سرکاری انتظامیہ خاص طور پر پولیس محکمہ میں اصلاح ہو اور عملہ کی تربیت کا اہم کام ہو۔ ساتھ ہی مخلص رہنماؤں نے ملک و قوم کے لیے جو تین بنیادی اُصول طے کیے تھے اور جن پر ہمارا دستور قائم ہے یعنی جمہوریت، سیکولرازم اور عدم تشدد اِس کی حفاظت کے لیے عمل پیرا ہوا جائے۔
آج کا ہندوستان، جن مسائل و مشکلات سے دوچار ہے اور اُس میں بھائی کو بھائی کے خلاف صف آرا کردیا گیا ہے، ہر سطح پر بدامنی، بے چینی، اعتماد ومحبت کی کمی نظر آرہی ہے، اِس کا کارگر علاج مولانا علی میاںؒ کی تحریک ’’پیامِ انسانیت‘‘ کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور اِس پر عمل پیرا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کاش کہ اربابِ اقتدار اور عوام کو اِس کی اہمیت کا احساس ہو۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے