कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولانا سجاد نعمانی کی پریس کانفرنس کومسلم پرسنل لا بورڈ اور ووٹ جہاد سے جوڑنے کی وضاحت

از قلم: محمد سرور شریف ابن یوسف شریف
خادم رحمن فاؤنڈیشن پربھنی وضلع نامہ نگار اعتبار نیوز
مورخہ 16 نومبر 2024
بروز سنیچر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قارئین
مفکر قوم ملت مفسر قرآن نباض زمانہ فرید وقت حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی مدظلہ العالی جو ہمارے عظیم رہنما ہمارے بے باک قائد اور ہمارے سروں کے تاج ہیں جو اپنی پیرانہ سالی اور خرابی صحت کے باوجود ملک ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کے مسائل پر دانشمندی کے ساتھ آج بھی نوجوانوں کی طرح جوش اور خروش کے ساتھ بے باک نمائندگی کرتے ہیں اس سلسلے میں ملک ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آپ نے یہ تاریخ رقم کی کہ ریاست مہاراشٹر کے 20 نومبر کو ہونے والے اسمبلی انتخاب کے ضمن میں آپ نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کر کے مہاراشٹر اسمبلی کے لیے جن امیدواروں کو آپ نے اپنی تائید اور حمایت کا اعلان کیا ہے اس کی فہرست جاری کی ہے اسی کانفرنس کے سلسلے میں بتاریخ 14نومبر بروز جمعرات کو حضرت مولا نا خلیل الرحمن سجاد نعمانی مد ظلہ العالی نےایک خصوصی ویڈیو بنا کر جس میں کچھ اہم وضاحتیں کی گئی ہیں جاری کیا ہے مجھے عاجز و ناچیز نے حضرت والا کے اس ویڈیو کو سن کر آپ کی بات کو تحریراً عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی ہے اس غرض سے کہ حضرت والا کی کوشیشوں میں مجھ عاجز وگنہگار کا بھی حصہ شامل ہو جائے جو آخرت میں میری بخشش کے کام آئے ۔
حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی مدظلہ العالی کی مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کے ضمن میں منعقد پریس کانفرنس کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان کی حیثیت سے جوڑنے میڈیا کی سازش کی وضاحت بہ زبان حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کی من وعن تحریری شکل حسب ذیل ہے :
مہاراشٹر کے انتخاب کے سلسلے میں میں نے ممبئی میں ایک کانفرنس کی تھی جس میں ایک بڑی تعداد میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے آئے تھے میں ان سب کا شکر گزار ہوں بہت سے میڈیا ہاؤس نے اپنے معمول کے مطابق مجھے اور میرے نام کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان کا ٹیگ بھی لگا دیا یہاں تک بعض لوگوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ترجمانی کے لیے پریس بلائی گئی تھی میں بار بار اپنے میڈیا کے لوگوں سے یہ بتاتا رہا ہوں اور انہیں یہ یاد دلاتا رہا ہوں یہ جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں کہہ رہا ہوں اپنی ذاتی حیثیت اور Capacity سے کہہ رہا ہوں اور کر رہا ہوں مسلم پرسنل لا بورڈ کا تو اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں میں یہ بھی وضاحت کر رہا ہوں کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا الیکٹورل سیاست سے کوئی تعلق نہیں اس کا دائرہ کار بہت محدود ہے اور میں بھی اس حق میں ہوں کہ اس کا دائرہ کار محدود ہی رہے ہمارے جو ساتھی اس پریس کانفرنس کو مخاطب کر رہے تھے ان سے یہ گزارش کر دی گئی تھی کہ آپ شروع میں یہ وضاحت کر دیں کہ مولانا سجاد نعمانی صاحب اس وقت آپ سے جو کچھ کہیں گے اپنی Individual Capacity میں کہیں گے ہم چند لوگوں نے باہم مشورہ کر کےحکمت عملی طے کی ہے وہ آپ کے سامنے پیش کریں گے مسلم پرسنل لا بورڈ سے یا کسی اور مذہبی تنظیم سے اس کا کوئی تعلق نہیں مگر سو اتفاق کے ہمارے وہ ساتھی شاید وہ بات صراحتاً کہنا بھول گئے اور بعض میڈیا چینل نے میرے نام کے ساتھ پرسنل لابورڈ لگا دیا میں اس وقت اس وضاحت کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ وہ جو کچھ بھی کل کی پریس کانفرنس میں کہا گیا اس کا پرسنل لا بورڈ سے کوئی تعلق نہیں امید ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی ہوں گی۔
دوسری بات جس کی آج میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ میڈیا چینلز نے میری اس کاوش کو جس کے ذریعے میں نے یہ کوشش کی ایک مہینے کی شب و روز محنت اور تحقیق کے بعد مہاراشٹر جو یو پی کے بعد سب سے بڑا صوبہ ہے اور بعض پہلوں سے ایک اہم صوبہ ہے اس کی اسمبلی کی ایک ایک سیٹ کی نوعیت وہاں امیدواروں کے بارے میں تفصیلات وہاں کے اصحاب رائے کے رحجان جاننے کی کوشش کی میری ٹیم کے ساتھی مختلف علاقوں میں خود گئے کچھ اضلاع میں میرا خود بھی جانا ہوا بہت سے علاقوں کے وفود میرے پاس آئے اور بہرحال ہم نے اپنے محدود وسائل کے مطابق جاننے کی کوشش کی اور ہمارے سامنے اصل نشانہ یہ تھا اور یہ ہے کہ وہ کون سا امیدوار ہے جو موجودہ فسطائی حکومت فاشسٹ سرکار سے مہاراشٹر اور پھر اس کے نتیجے میں ملک کو چھٹکارا دلا سکے اب اس معیار کو سامنے رکھ کر ممکن حد تک اپنی بساط اور استعداد کے مطابق تحقیق کے مختلف مرحلوں سے گزر کر ہم لوگوں نے ایک لسٹ تیار کی اور پریس کانفرنس میں اس لسٹ کو ہم نے میڈیا کے ذریعے مہاراشٹر کے ووٹروں کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ظاہر ہے کہ جو موجودہ سماجی حالات ہیں اس میں ہمارے اخلاقی شرعی معیار پر شایدہی کوئی امیدوار پورا اتر پائے ہم کو دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ یہ جو گروہ آر ایس ایس کی گودوں میں پلاہوا اقتدار پر قابض ہے اور جس کا یقینی منصوبہ ہے دستور کو بدل دینا اور مسلمانوں کو اقلیتوں کو دلتوں کو دیگر کمزور طبقات کو دستوری حقوق سے محروم کر دینا اس امیدوار کو شکست دینے کی پوزیشن میں کون ہیں ہمیں کئی بار ایسے امیدواروں کی بھی تائید کرنی پڑی عام حالات میں جس کی تائید کرنا مناسب نہیں لیکن سارے باشعور اور باخبر حضرات زمینی حقیقتوں سے واقف ہیں جس کی میں تفصیل بیان کرنا ممکن اور مناسب نہیں سمجھتا اب اس کو کچھ میڈیا ہاؤس نے کچھ اس طرح کا رخ دے کر عوام کے سامنے رکھا کہ ووٹ جہاد کا نعرہ دیا گیا اور اب تمام مسلمانوں کو اکٹھا کر کے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے اس کے نتیجے میں تمام ہندو اکٹھا ہو جائیں گے یعنی مسئلے کو ہندو مسلم کا رنگ دے دیا گیا ہے حیرت کی بات ہے جن امیدواروں کے حق میں ہم نے اپیل کی ہے ان میں غالب اکثریت ہندوں کی ہے صرف 23 مسلمان ہیں جن کے حق میں ہم نے اپیل کی ہے گزارش کی ہے اس کے باوجود اس کو یہ رخ دیا جا رہا ہے جھوٹ اور فریب اور عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی یہ مکروہ ترین مثال ہے ہمارے سامنے صرف ایک بات رہی ہے کہ وہ کون سے امیدوار ہیں جو ان تنظیموں سے وابستہ ہیں ان پارٹیوں سے وابستہ ہیں جن کا عزم مصمم ہے دستور کو بدل دینا اور میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ لوگ مہاراشٹر میں جیت گئے تو دستور نہیں بدل پائیں گے لیکن میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مہاراشٹر کے الیکشن نے ایسی اہمیت اختیار کر لی ہے کہ اگر یہاں وہ جیت گئے ہریانہ کی جیت کے بعد تو اس کے بعد ان کے حوصلے بہت بلند ہو جائیں گے اور پھر دلی سرکار وہ نئے حوصلوں کے ساتھ دستور کی تبدیلی جیسے اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل کی طرف اگے بڑھیں گی اور اگر مہاراشٹر میں ان کو شکست ہو گئی تو اطلاعات کے مطابق دلی سرکار بھی بہت دنوں تک نہیں ٹھہر پائے گی تو ہمارا نشانہ صرف مہاراشٹر سرکار نہیں ہے بلکہ مرکزی حکومت ہے اور ملک کا مستقبل ہے ملک کا اتحاد اور سالمیت ہے دیش کی ایکتا اوراکھنڈتا ہے جس کے پیش نظر ہم نے بہت محنت کر کے کینڈیڈیٹس امیدوار کا انتخاب کیا تو میں اپنا احتجاج رجسٹر کرنا چاہتا ہوں ان میڈیا ہاؤسیز کے خلاف جنہوں نے بالکل ٹوئسٹ کیا ہے میری بات کو اور میری اور ہماری اس ٹیم کی محنت کی جو اسپریٹ ہے اس کے جسٹ اپوزٹ رنگ دینے کی کوشش کی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں سیکولرزم مضبوط رہے ہم چاہتے ہیں کہ ڈیموکریسی اور مضبوط ہو ہم چاہتے ہیں ملک میں جو ہمارا سویدھان ہے اس پر لیٹرل اور اسپریٹ کے لحاظ سے عمل ہو اس میں مزید ضروری اصطلاحات ہوں اس میں جو نئی تبدیلیاں وقف ترمیمی بل جیسی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں وہ کوششیں کامیاب نہ ہوں پائیں ان چیزوں کو سامنے رکھ کر اور بہت سے امیدواروں سے ہمیں ملاقات کا موقع ملا وہ آتے رہے میرے پاس میں نے ان سے Commitment لیا کچھ لوگوں سے تحریری commitment لیا تب جا کر ہم نے ایک لسٹ بنائی اس لیے اس کو یہ رخ دینا کہ یہ ووٹ جہاد ہے اور مسلمانوں کو اکٹھا کر کے ہندوؤں کے خلاف متحد کیا جا رہا ہے یہ سراسر جھوٹ اور فریب ہے اور میں نے کل ایک یوٹیوب چینل کے انٹرویو میں یہ بات کہی کہ یہ کیسا ووٹ جہاد ہے؟ جس کےسپہ سالار ہیں شرد پوار جس کے عظیم سپاہیوں میں ہیں ادھو ٹھاکرے ، راہل گاندھی ، نانا پٹولی جی ، میں امید کرتا ہوں اس وضاحت کے بعد یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی اور میں میڈیا کہ لوگوں سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ دیانتداری کے ساتھ بات کو پیش کیا کریں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے