कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولانا ابو الکلام آزاد کی تاریخ پیدائش بطور یوم قومی تعلیم منائیں

از قلم: محمد سرور شریف ابن یوسف شریف
معلم مؤیدالمسلمین پرائمری اسکول پربھنی و ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز
9960451708

قابل صد احترام قارئین۔ ہمارے لیے یہ بات بڑی خوشی اور مسرت کی ہے کہ گذشتہ حکومت ہند نے مولانا ابوالکلام آزاد کی تاریخ پیدائش یعنی اا نومبر کو یوم قومی تعلیم منانے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی موقع کی مناسبت سے اس دن کو یاد رکھنے باقی رکھنے مجھ جیسا کم علم طالب علم نے ضروری سمجھا کے مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت اور ان کے کاناموں سے آپ کو واقف کراوں
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
تاریخ جنوں یہ ہیکہ ہر دور خرد میں
ایک سلسلہ دارورسن ہم نے بنایا
اس سلسلے کی ایک کڑی مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد بھی ہیں۔ مولانا آزاد 11 نومبر 1888ء کو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام محی الدین احمد تاریخی نام فیروز بخت لقب ابوالکلام اور تخلص آزاد تھا۔ ایک اسکالر اور تحریک آزادی کے پر جوش مجاہد صاحب طرز انشاء پرداز کامیاب صحافی اور دیدہ ور عالم دین کی خوبیوں سے متصف مولانا آزاد کی شخصیت ہندوستان کی تہذیبی ، سیاسی اور ادبی تاریخ کا ایک درخشاں نقش ہے۔
مولانا آزاد کی تصانیف میں خاصہ تنوع ہے۔ اُنہوں نے خطوط بھی سپرد قلم کیے ہیں۔ انشائیے اور مضامین سے بھی سرو کار رکھا۔ قرآن کے ترجمے کرنے کی سعادت بھی حاصل کی اور الہلال و البلاغ “ میں سنجیدہ مضامین بھی سپرد قلم کیے ہیں ۔ مولانا آزاد کوکئی زبانوں پر عبور تھا وہ اردو، عربی، ہندی، فارسی کے یکساں طور پر اسکالر تھے۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے فقہ حنفیہ، شریعت ، ریاضی، فلسفہ، عالمی تاریخ اور سائنس کا بھی عمیق مطالعہ کیا تھا۔
عالم شباب میں آزاد نے ابتدائی طور پر اردو میں نہ صرف شاعری کی بلکہ مذہب اور فلسفہ پر مضامین بھی رقم کئے۔ لیکن ایک صحافی کی حیثیت سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا۔ بحیثیت صحافی اُنہوں نے وطن پرستی کو فروغ دینے والے اور برطانوی حکومت کے خلاف مضامین لکھے۔ مولانا آزاد ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار اور مذہبی بنیاد پر وطن عزیز کی تقسیم کے سخت مخالف تھے۔ ہندوستان آزاد ہونے کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم بنائے گئے ۔ اولین وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا آزاد نے قومی تعلیم کے نظام کا از سر نو جائزہ لیا۔ اُنہوں نے نہ صرف مفت پرائمری تعلیم فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے بلکہ اعلیٰ تعلیم کے جدید ترین اداروں کے سلسلے میں بھی گہرائی سے غور و خوص کیا۔ انڈین انسٹی ٹیوت آف ٹکنالوجی کا قیام ان کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی نگرانی کرنے کیلئے اُنہوں نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن بھی تشکیل دیا۔
مولانا آزاد نے الہلال اور البلاغ نامی اخبارات کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں میں تحریک آزادی کی روح پھونکی جس کی وجہ سے انھیں کئی مرتبہ جیل جانا پڑا لیکن وہ اپنے مشن سے ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹے یہاں تک کہ ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرا کر ہی دم لیا۔
مولانا ہمارے ملک کی جنگ آزادی کی تحریک کے ایک ستون ہیں۔ ان میں حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم کی حیثیت سے اُنہوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری الفاظ میں درج ہیں۔ مجاہد آزادی مولانا آزاد کی جدو جہد علمی بصیرت، سیاسی تدبیر اور ان کے بے مثال کارنامے ہمیشہ نئی نسل کی رہنمائی کرتے رہیں گے ان کا شمار تحریک آزادی اور آزاد ہندوستان کے ان عظیم رہنماؤں میں ہوتا ہے جن پر ہندوستان کو ہمیشہ ناز رہے گا۔ علم کا سورج امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کا انتقال ۲۲ فروری ۱۹۵۸ء ہوا۔ لہذا ہمیں چاہیے کے اس عظیم مجاہد آزادی کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں ہماری آنے والی نسلوں کو ان سے واقف کرائیں بلخصوص تعلیمی اداروں میں یوم قومی تعلیم کو منایا جاۓ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے