कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مولانا ابوالکلام آزاد ہمہ گیر و ہمہ جہت شخصیت۔۔۔!!

از قلم :- ف خ مسرت، ناندیڑ 

روشن خیال ، منور ذہن ، آئینہ دار حافظہ ، زبان پر قدرت ، تحریر میں آہنگ ، رواں بیانی ، جادو بیاں ، شگفتہ مزاج ، طبیعت میں وقار ، ٹہراؤ ، اور متانت ، کردار و گفتار کے غازی ، جوش ، یقین ، خود اعتمادی ، اولوالعزمی ، فکر کی گہرائی ، تخیل کی بلندی ، ذہانت ، فراست ، علمیت ، غرض خالق کائنات نے انسانیت کے لئے درکار تمام تر لوازمات سے نواز کر ایک ہمہ گیر و ہمہ جہت ، وفور حب الوطنی کا جذبہ رکھنے والی منفرد شخصیت ہندوستان کے نامور پیر ومرشد مولوی خیرالدین صاحب جو انگریز حکمرانی سے متنفر ہوکرمکہ معظمہ ہجرت کرچکے تھے ان کے یہاں ان کی عرب بیوی عالیہ بیگم جو مدینہ منورہ کے مشہور عالم شیخ محمد طاہر کی بھانجی تھیں ، ان کے بطن سے مکہ مکرمہ میں تولد ہوئ نام محی الدین احمد رکھا گیا. گیارہ نومبر اٹھارہ سو اٹھاسی 11/11/1888 کو پیدا ہونے والے بیٹے کا پدر بزرگوار نے تاریخی نام فیروزبخت رکھا۔مولوی خیر الدین اہل خانہ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے وقتاً فوقتاً ہندوستان آتے رہتے تھے لیکن پھر 1898 میں مستقل طور پر ہندوستان میں بس گئے
1900ء میں خدنگ نظر لکھنؤ میں:
محی الدین احمد نے اپنا نام غلام محی الدین آزاد لکھا ۔۔۔۔۔۔دو سال بعد مخزن میں ابوالکلام محی الدین آزاد چھپا 1903 میں لسان الصدق کی ادارت میں انہوں نے اپنا نام ابو الکلام آزاد لکھا اور تاحیات وہ اسی نام سے مشہور رہے۔۔۔۔وہ بچپن ہی سے غیر معمولی اوصاف کے مالک تھے ۔ بارہ سال کی عمر میں شعر کہنے لگے ان کی پہلی غزل ارمغان فرخ (ممبئی) میں شائع ہوئی ۔ان کی یہ غزل اتنی مشہور ہوئ کہ ان کی غزل کا پہلا مصرعہ پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی ضرب المثل بن گیا ۔اسی سال انہوں نے شاعری کا مجلہ نیرنگ عالم کے نام سے شائع کیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں
تھا جوش و خروش اتّفاقی ساقی
اب زندہ دِلی کہاں ہے باقی ساقی
میخانے نے رنگ و روپ بدلا ایسا
میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی
———
نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
———
گنبد ہے گرد بار تو ہے شامیانہ گرد
شرمندہ مری قبر نہیں سائبان کی
———
آزاد بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی
———
سب لوگ جدھر ہیں وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
———
ان کی ایک اور مشہور غزل ملاحظہ فرمائیں
ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
اور ان کی اداؤں میں مزا اور ہی کچھ ہے
———
یہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے
دل آئینہ ہے جلوہ نما اور ہی کچھ ہے….!!
———
ہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے…..!!
کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے
———
بے خود بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں دیکھنے والے
ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے….!!
———
آزادؔ ہوں اور گیسوئے پیچاں میں گرفتار
کہہ دو مجھے کیا تم نے سنا اور ہی کچھ ہے
———
مولانا کی مادری زبان عربی تھی چودہ سال کی عمر تک انہوں نے اسلامی علوم ، فلسفہ ، منطق، عربی ، ترکی ، سب علوم کی تکمیل کرلی تھی۔مولانا آزاد شاعر تھے، ادیب تھے، صحافی تھے، عربی وفارسی کے جید عالم تھے، مفکر اسلام تھے، مفسر قرآن تھے، دانشور تھے، سیاست داں تھے،
بہترین مقرر تھے، بلکہ یوں کہئے کہ وہ اپنی ذات سے ایک انجمن تھے
مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریروں و تقریروں میں ان کی شخصیت کا علمی فکری فنی اور شگفتہ پہلو محسوس ہوتا ہے مولانا کے طرز تحریر میں انوکھا پن، شعریت، عالمانہ سنجیدگی اور دوسری خصوصیات مسلم ہیں۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عربیت کے غلبے کی وجہ سے کہیں کہیں عبارت گرانبار نظر آتی ہے عبدالماجد دریابادی مولانا آزاد کے بارے میں 14/مارچ 1958 کے صدق جدید میں لکھتے ہیں
خدا معلوم کتنے علوم متعدد فنون کے خزانے دماغ میں جمع ہوگئے تھے جو بروقت مستحضر طب ہوکہ الٰہیات ,فقہ ہویا کلام شعر و ادب ہو یاموسیقی ,تاریخ ہو کہ سیاست جس فن سے متعلق جو بھی موضوع ہو بس گفتگو چھیڑنے کی دیر تھی تقریر بھی ایسی دلآویزومربوط کہ فصاحت وبلاغت بلائیں لیتی جارہی ہے
مولانا آزاد کی تعلیم وتربیت اپنے والدین کے زیر سایہ ہوئی۔ وہ دس سال کی عمر میں اپنے خاند ان کے ساتھ ہندوستان آئے اور یہیں پر ان کی تعلیم وتربیت کا سلسلہ جاری رہا۔ مولانا آزاد کی ادبی زندگی کا آغاز گیارہ سال کی عمر سے ہوا۔ سب سے پہلے شاعری کی طرف توجہ دی اور بعد میں نثر کی طرف متوجہ ہوئے۔
مولوی عبدالواحد خاں نے ان کا تخلص آزاد رکھا
24 سال کی عمر میں 13/جولائی 1912ء کو الہلال جاری کیا جو 18 نومبر 1914 تک جاری رہا ۔اپنی بیباکی ۔۔۔۔مہذب انداز تکلم اور اعلیٰ ادبی معیار کی وجہ سے محض دو سال کے عرصے میں اس کی اشاعت 26000 تک پہنچ گئ
الہلال اخبار میں انگریزوں کی پالیسیوں کے خلاف مضامین شائع ہوتے تھے اس لیے انگریز حکومت نے 1914 میں اس اخبار پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد مولانا نے ’البلاغ‘ کے نام سے دوسرا اخبار جاری کیا یہ اخبار بھی آزاد کی انگریز مخالف پالیسی پر گامزن رہا۔
مولانا ابولکلام آزاد نے پیغام اور لسان الصدق جیسے اخبارات و رسائل بھی شائع کیے اور مختلف اخبارات سے بھی ان کی وابستگی رہی جن میں وکیل اور امرتسر قابل ذکر ہیں۔وفور حب الوطنی نے مولانا ابوالکلام کو ہمیشہ سیاسی محاذ پر بھی پورے جوش وخروش سے سرگرم عمل رکھا ۔ انہوں نے’تحریک عدم تعاون‘ ’ہندوستان چھوڑو‘ اور ’خلافت تحریک‘ میں بھی حصہ لیا۔ مہاتما گاندھی، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خاں اور علی برادران کے ساتھ ان کے بہت اچھے مراسم رہے۔ گاندھی جی کے فلسفۂ عدم تشدد سے وہ بہت متاثر تھے۔ گاندھی جی کی قیادت پر انہیں پورا اعتماد تھا۔ گاندھی کے افکار و نظریات کی تشہیر کے لیے انہوں نے پورے ملک کا دورہ کیا۔
مولانا آزاد ایک اہم قومی لیڈر کی حیثیت سے ابھرے۔ وہ کانگریس پارٹی کے صدر بھی رہے، تحریک آزادی کے دوران انہیں جیل کی مشقتیں بھی سہنی پڑیں۔ اس موقع پر ان کی شریک حیات زلیخا بیگم نے ان کا بہت ساتھ دیا۔ زلیخا بیگم بھی آزادی کی جنگ میں مولانا آزاد کے شانہ بہ شانہ رہیں۔ اس لیے ان کا شمار بھی آزادی کی جانباز خواتین میں ہوتا ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاست کے چار بنیادی نکات تھے اول ہندو مسلم اتحاد ، خلافت تحریک ، انگریزوں سے عدم تعاون ، مشترکہ قومیت کی تعمیر۔۔۔۔۔۔ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت سے بے حد متاثر تھے۔ اس حقیقت کا برملا اعتراف کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
میں صرف عملی سیاست ہی نہیں جانتا، سیاست کا طالب علم بھی ہوں۔ علم سیاست کی کتابیں مجھ سے زیادہ ہندوستان میں کسی اور نے نہیں پڑھیں۔ میں تیسرے چوتھے سال یورپ کا بھی دورہ کرتا ہوں جہاں سیاست کا قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے سیاست کے تازہ ترین علم سے واقفیت حاصل کر لی ہے۔ لیکن جب ہندوستان پہنچ کر مولانا ابوالکلام آزاد سے باتیں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب بھی بہت آگے ہیں (’ابوالکلام آزاد: ایک ہمہ گیر شخصیت‘، رشید الدین خاں، صفحہ 12)
ہندوستان کی آزادی کے بعد مولانا آزاد ملک وزیر تعلیم بنائے گئے۔ انہوں نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے بہت اہم کارنامے انجام دیے۔ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن اور دیگر تکنیکی، تحقیقی اور ثقافتی ادارے ان ہی کی دین ہے۔
مولانا آزاد صرف ایک سیاست داں نہیں بلکہ ایک صاحب طرز ادیب، بہترین صحافی اور مفسر بھی تھے۔ انہوں نے شاعری بھی کی، انشائیے بھی لکھے ابوالکلام آزاد کی انشاء پردازی کا کمال یہ ہے کہ ان کی تحریر کے انداز ایک سے زیادہ ہیں۔ وہ متعدد اسالیبِ نثر پر قدرت رکھتے ہیں اور حسب ضرورت انھیں کامیابی کے ساتھ برتتے ہیں
سائنسی مضامین بھی تحریر کیے، علمی و تحقیقی مقالات بھی لکھے۔ قرآن کی تفسیر بھی لکھی۔ غبار خاطر، تذکرہ، ترجمان القرآن ان کی اہم نصانیف ہیں۔ ’غبار خاطر‘ ان کی وہ کتاب ہے جو قلعہ احمد نگر میں قید کے دوران انہوں نے تحریر کی تھی۔ اس میں وہ سارے خطوط ہیں جو انہوں نے مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام تحریر کیے تھے۔ اسے مالک رام جیسے محقق نے مرتب کیا ہے اور یہ کتاب ساہتیہ اکادمی سے شائع ہوئی ہے۔ یہ مولانا آزاد کی زندگی کے حالات اور ان کےقابلیت جاننے کے لیے بہترین ماخذ ہے۔
غبارخاطر‘ کا سب سے اہم حوالہ اس کا اسلوب ہے۔ اسی چیز سے متاثر ہوکر مولانا حسرت موہانی فرماتے ہیں
؎جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرتؔ میں بھی مزہ نہ رہا
مولانا ابوالکلام آزاد کی چنندہ تصانیف:
دعوتِ حیات نو 1987
قرآن قانون عروج وزوال 1984
میرا عقیدہ 1909
ہجرووصال 1988
مضامین مولانا آزاد
ترجمان القرآن
حجتہ ابراھیمی
غبارخاطر
انڈیاونس فریڈم
مسلمان عورت
رباعیات سرمد شہید
وغیرہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ تصانیف مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھی اور کچھ مولانا ابوالکلام آزاد پر لکھی گئیں دو ڈھائی سو کے قریب کتابیں ہیں
مولانا آزاد اپنے عہد کے نہایت ذہین اور مضبوط حافظ رکھنے والے شخص تھے جس کا اعتراف پوری علمی دنیا کو ہے اور اسی ذہانت، لیاقت اور مجموعی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھارت رتن سے نوازا گیا تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ہمیں ایک لمحے کے لئے بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بنیادی تعلیم ہر ایک پر فرض ہے یہ ہر فرد کا پیدائشی حق ہے کہ وہ کم از کم بنیادی تعلیم حاصل کرے جس کے بغیر وہ بطور شہری اپنے فرائض پوری طرح ادا نہیں کرسکتا
آج یعنی گیارہ نومبر کو مولانا آزاد کا یوم پیدائش قومی یوم تعلیم کے نام سے موسوم کیا گیا ہے
امام الہند مولانا آزاد کا انتقال 2 فروری 1958 کو ہوا۔ ان کا مزار اردو بازار جامع مسجد دہلی کے احاطہ میں ہے-
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے