कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’مولانا ابوالکلام آزاد‘‘:( علم و بصیرت کا چراغ)

تحریر:عرفان محمد اسحاق بانکری
(سوشل اُردو ہائی اسکول سولاپور)

مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام ابوالکلام محی الدین احمدتھا۔ وہ 11 نومبر 1888ء کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد مولانا خیرالدین مشہور عالمِ دین اور روحانی پیشوا تھے جن کا تعلق کلکتہ (موجودہ کولکاتا) سے تھا، جبکہ والدہ عرب نژاد خاتون تھیں…. مولانا آزاد نے بچپن ہی سے ایک علمی اور مذہبی ماحول میں پرورش پائی، جس نے اُن کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔
مولانا آزاد کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ اُن کے والد خود ایک ممتاز عالمِ دین تھے، اس لیے انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ، منطق اور فلسفے کی تعلیم گھر میں ہی حاصل کی۔
مولانا نے عربی، فارسی اور اردو زبانوں پر گہری دسترس حاصل کی، نیز تاریخ، فلسفہ، سائنس اور جدید علوم سے بھی غیر معمولی دلچسپی رکھی۔ وہ خودمطالعہ کرنے والے فرد تھے اور کم عمری ہی میں مختلف زبانوں اور فلسفیانہ مضامین پر عبور حاصل کر لیا۔
ان کی مذہبی تعلیم نے اُنہیں روحانی گہرائی دی، جبکہ دنیاوی علم نے اُنہیں جدید فکر اور اصلاحی شعور بخشا۔ اسی امتزاج نے اُنہیں ایسا مفکر بنایا جو نہ صرف مذہب کی گہرائی کو سمجھتا تھا بلکہ جدید دنیا کی ضروریات سے بھی بخوبی واقف تھا۔
مولانا آزاد نے کم عمری میں ہی ”الہلال“ اور بعد میں ”البلاغ“ جیسے جریدوں کا اجرا کیا، جو برطانوی سامراج کے خلاف آواز بلند کرنے والے انقلابی رسائل تھے۔ ان جرائد نے ہندوستانی عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا اور تعلیم و آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ان کی تحریریں دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتی تھیں۔ وہ لفظوں کے ذریعے فکر کو بیدار کرتے، دلوں میں حریت کی آگ بھڑکاتے اور قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کا درس دیتے۔
آزادی کے بعد مولانا آزاد نے آزاد بھارت کے پہلے وزیرِ تعلیم (1947 تا 1958) کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا یقین تھا کہ قوموں کی ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔۔
مولانا ابوالکلام آزاد آزادیِ ہند کی تحریک کے عظیم رہنما، مفکر، ادیب اور تعلیم کے علمبردار تھے۔ آزادی کے بعد جب بھارت کی پہلی حکومت بنی تو پنڈت جواہر لال نہرو نے انہیں ملک کا پہلا وزیرِ تعلیم مقرر کیا۔ مولانا آزاد نے اپنے عہدِ وزارت میں تعلیم کو قوم کی تعمیر کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ "تعلیم انسان کی روحانی آزادی کی کنجی ہے”۔ انہوں نے ملک میں جدید، سائنسی اور ہمہ گیر تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی۔ ان کی کاوشوں سے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) قائم ہوا، اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے لیے 1951 میں پہلا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT) کھڑگ پور وجود میں آیا۔ ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی ترویج کے لیے انہوں نے ساحتیہ اکادمی، سنگیت ناٹک اکادمی، اور لالیت کلا اکادمی جیسے ادارے قائم کیے۔ انہوں نے بنیادی تعلیم کو ہر بچے کا حق قرار دیا اور اسے مفت و لازمی بنانے پر زور دیا۔ بین الاقوامی سطح پر انہوں نے یونیسکو سے قریبی تعلقات قائم کیے اور ہندوستان کو تعلیمی دنیا میں نمایاں مقام دلایا۔ اردو زبان اور ہندوستانی تہذیب سے گہری محبت رکھنے والے مولانا آزاد نے ثقافتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا پیغام دیا۔
مولانا آزاد ہمیشہ کہتے تھے کہ ۔۔
“تعلیم محض کتابوں کا علم نہیں، بلکہ وہ روشنی ہے جو انسان کے ذہن کو آزاد کرتی ہے۔”
انہی خدمات کے اعتراف میں مولانا آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر ہر سال 11 نومبر کو قومی یومِ تعلیم (National Education Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔
یہ دن 2008ء سے حکومتِ ہند کے اعلان کے مطابق باقاعدہ طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس دن پورے ملک میں تعلیمی ادارے سیمینار، تقریری مقابلے، مضامین، اور نمائشیں منعقد کرتے ہیں تاکہ مولانا کی تعلیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے اور اُن کے نظریات کو عام کیا جا سکے۔
مولانا آزاد صرف ایک سیاست‌دان یا عالم نہیں تھے بلکہ وہ ایک مفکر، مصلح، ادیب اور انسان دوست شخصیت تھے۔
ان کی تقریروں اور تحریروں میں علم کی خوشبو، ایمان کی روشنی اور وطن کی محبت ایک ساتھ جھلکتی ہے۔۔۔۔۔
ان کی کتاب ”غبارِ خاطر“ اردو ادب کا شاہکار ہے، جو اُن کے فلسفیانہ، روحانی اور فکری عروج کی عکاسی کرتی ہے۔۔۔۔
ان کی ذات ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کی علامت تھی۔۔۔
وہ تعلیم کو صرف ذاتی ترقی نہیں بلکہ قوم کی آزادی اور بیداری کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی علم، قربانی، بصیرت اور حب‌الوطنی سے عبارت ہے۔
وہ ہندوستان کے تعلیمی نظام کے معمار تھے جنہوں نے بھارت کے تعلیمی میدان میں ایک ایسی بنیاد رکھی جس پر آج کا جدید ہندوستان کھڑا ہے۔
ان کا فلسفہ آج بھی زندہ ہے، کیونکہ وہ ہر اس دل میں دھڑکتے ہیں جو علم، عقل اور انسانیت کی روشنی میں یقین رکھتا ہے۔۔۔۔۔
(حوالہ )
1) "بھارت نے آزادی جیت لی” – مولانا ابوالکلام آزاد
2) "غبارِ خاطر” – مولانا ابوالکلام آزاد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے