कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

موسیقی

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

موسیقی سننے کو مذہب اسلام میں منع فرمایا ہے ۔ لیکن ہم رات دن اسی میں لگے رہتے ہیں۔۔۔ افسوس ان مسلمانوں پر ہوتا ہے جو اس بات پر فخر کرتے ہیں اور کافروں کی طرح کہتے ہیں کہ میوزک سے دل کو سکون ملتا ہے، اور موسیقی کے بغیر جی نہیں لگتا۔۔۔ یا بے چینی سی ہوتی ہے۔۔۔ لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو میوزک سے نفرت کرتے ہیں ،لیکن میرے خیال میں انسانی جسم کے پانچ حواس خمسہ جو کان ، آنکھ ،ناک ، زبان اور جلد ہیں ۔۔ ان سے ہمیں احساس ہوتا ہے، ان اعضاء کی حرکات ‘ارادی حرکات کہلاتی ہیں۔ جیسے ہم آنکھوں کو اپنی مرضی کے مطابق کھول اور بند کر سکتے ہیں، بالکل اسی طرح سانس روک دو تو آپ کچھ وقت ناک کے سونگھنے کی قوت کو روک سکتے ہیں۔ زبان بھی ان میں سے ایک ہے ۔۔ جلد یعنی ہاتھ ،پیر یہ بھی ہم اپنے مرضی کے مطابق حرکت دے سکتے ہیں، لیکن میرے خیال میں یہ جو معزز دو دو کان ہیں یہ کان جن کو سماعت کا کام سونپا گیا ہے یہ ایک غیر ارادی حرکت ہے ، ہم چاہ کر بھی انھیں روک نہیں پاتے۔۔ اس کے لیے کانوں میں پوری قوت اور زور باز و سے انگلیوں ٹھونس دو لیکن کہیں نہ کہیں آواز سنائی ضرور دیتی ہے ، لیکن اس کے لیے اگر آپ اپنے کانوں میں ایئر فون ڈال دو اور اس میں کچھ لگادو تو شاید بات بنے۔۔۔ یہ ناچیز معافی کی طلب گار ہے کہ میں موضوع سے بہت دور چلی گئی ،دراصل مجھے کہنا یہ تھا کہ دن رات نہ چاہ کر بھی میوزک سننے کو مل رہی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں موسیقی سننا عام بات ہے اور ہمارے کان نہ چاہ کر بھی میوزک کو محسوس کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ،اس میوزک کے عاشق و معشوق گاہے بہ گاہے نظر آتے ہیں۔اگر ان کی لیلا ناراض ہوئی تو انھوں نے میوزک کو مجنوں بنایا، کوئی غصہ ہوگیا اس نے میوزک سے غصہ کو تسلی بخشی ، کہیں وقت گزارنے کے لیے میوزک لگادی، کسی نے کہا میرا مشغلہ اور ہی میوزک سے ماخوذ ہے، کوئی کہتا ہے listening 🎧 a music is my passion ۔۔ کہیں اس میوزک کے لیے کلاسیس بھی لیے جاتے ہیں اور تو اور اس میوزک کے طالب علم بھی ہوتے ہیں اور عام کتابی طالب علم بھی اسی میوزک کے فسانے سناتے ہیں کہ وہ میوزک کے بغیر پڑھائی ہی نہیں کرسکتے ؟؟ اور تو اور انھیں میوزک کے بغیر ایک جملہ بھی اچھی طرح یاد نہیں ہوتا، ان میوزک کے شاگردوں کو اگر موقع ملے تو یہ امتحان گاہ میں بھی ہلکی ہلکی میوزک ضرور لگائیں گے!! کیونکہ ان کا نازک دل بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔۔ میوزک کے بغیر جی نہیں لگتا۔۔ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ میوزک کے شیدائی ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بھی میوزک کی سروں میں بولتے۔۔ ۔ اس میوزک کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ، یہی ہے جس کی پہنچ طبلے سے لے کر موبائیل فون تک ہے، ڈھول ، ستار، گیٹار، بانسری، ڈھولک ، ترہی ، پیانو ، اور ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ سیٹی۔۔۔ اسی میوزک سے آج بازار جھوم رہے ہیں ،اور جھومتے جھومتے گناہوں کے مرتکب ہو رہے ہیں لیکن احساس بھی نہیں ہوتا۔۔۔
صبح سے لے کر شام تک ، ہم اسی منحوس سی میوزک میں پھنس گئے ہیں،صبح الارم لگایا اس میں میوزک ، کسی نے کال کیا ،میوزک ،کچھ وقت موبائیل فون پر تو ہر لمحہ میوزک ،چاہے آپ گیم کھیلتے ہیں یا ویڈیوز دیکھتے ہیں، ہر ایپ پر یہی میوزک رقص کرتی نظر آتی ہے ، قوالی سنانے والوں نے بھی پہلے میوزک بعد میں کلام کا اصول اپنایا ہے، کوئی موٹیویشن سنو تومیوزک ، بات یہاں تک پہنچ چکی کہ کسی مولوی صاحب کا درس سن لیں تو وہیں بھی ہاں آں آں آں آں۔۔۔ ہو وووووو۔۔۔ ہمم مم مم ہم ہم مممم ہے ہےہےےےےے جیسی آواز یں پیچھے سے سنائی دے رہی ہیں اور جیسے آج کل کے دور میں تو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی بجائے یا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ اپنی ویڈیو کے چند لائیکس بڑھانے اور اچھے تجزیے کے لیے حمد باری تعالیٰ اور نعتِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی میوزک لگاتے ہیں ، اور ویڈیوز دیکھنے والوں نے بھی خوب اچھے کمینٹس کیے ۔۔ خوف تو اس بات کا ہے کہ کہیں موت کا فرشتہ سر پر ہو اور ہمارے کان اور زبان کلمہ طیبہ کی بجائے میوزک میں مصروف ہوں؟؟؟ اللہ تعالیٰ ہمیں میوزک سے ہونے والے گناہوں سے بچائے ، آمین ثم آمین۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے