कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

موسمِ سرما میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں

از قلم مفتی محمد اسلم جامعی
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

صحت و تندرستی اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ عظیم نعمت ترین نعمت ہے، بل کہ بقول علامہ عبدالرحمن مبارک پوری رح جسمانی صحت ایمان کے بعد سب سے بڑی نعمت ہے، اسی بنا پر اسلام میں حفظانِ صحت پر خاص توجہ دی گئی ہے، سورہ اعراف آیت ٣١ میں ارشادِ خداوندی ہے،، کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ نکلو،، اس آیت میں حد سے نکلنے کی ممانعت حفظانِ صحت کے اصول سےہے، چناں چہ حضرت مفتی سعید صاحب پالنپوری رح لکھتے ہیں کہ طب کی ترتیب وار تین بنیاد ہیں، حفظانِ صحت، استخراج مادۂ فاسد اور حِمْیة(پرہیز) پہلے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ صحت محفوظ رہے، کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے صحت خراب ہوجائے، موسم بدل رہا ہے ہو تو کھلی جگہ نہ سوئے، کھائے پیئے مگر انداز سے کھائے، اشتہا کے بغیر نہ کھائے، مضر چیزیں نہ کھائے اور بہت کم بھی نہ کھائے، بقائے صحت کے بقدر کھائے اس اصل کا ذکر اس آیت میں ہے فرمایا کھاؤ پیئو مگر حد سے تجاوز مت کرو، بے حد کھائے گا تو معدہ خراب ہوجائے گا اور بیمار پڑے گا (ہدایت القرآن جلد ٢ صفحہ ٥٦٠) صحت و تندرستی کی اہمیت و افادیت کو اُجاگر کرتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصّحة الفراغ (مشکوة المصابيح) دو نعمتیں ہیں جن کے بارے میں بیشتر افراد دھوکے میں ہیں ایک صحت اور دوسری فراغت، یعنی غفلت، لاپرواہی اور خوش فہمی میں اس کی قدردانی نہیں ہوتی جب یہ نعمت فوت ہوجاتی ہے تو پھر قلق، افسوس، اور ندامت ہوتی، اس لیے وقت سے پہلے ہی اس کی قدردانی اور اس کی حفاظت کرنا چاہیے، اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فإن لجسدك عليك حقا، وان لعینك علیك حقا، وان لزوجك علیك حقا( بخاری) اس روایت پر غور کریں، کثرتِ عبادت سے جسم کے حقوق متاثر ہونے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو کثرتِ عبادت سے منع فرمایا، چوں کہ ان دنوں موسمِ سرما کی شدت، عروج پر ہے ایسے موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا از حد ضروری ہے، تاکہ جسمانی صحت متاثر نہ ہوں، کیوں کہ موسمِ سرما کو انسان کا دشمن بتایا گیا، اور اس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، چناں چہ حضرت سلیم بن عامر رح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جب موسمِ سرما اپنی تمام تر رعنائی کے ساتھ بندگانِ خدا پر سایہ فگن ہوتا تو آپ اپنے ماتحت افراد کو خط لکھتے کہ موسمِ سرما آ گیا جو ایک دشمن ہے، اس کے مقابلے کے لیے اونی کپڑے، موزے، اور جرابیں وغیرہ تیار کرو، اون ہی کا لباس زیب تن کرو، اور اوپر بھی اونی چادریں دراز کرو، کیوں کہ موسمِ سرما وہ دشمن ہے، جو جلد داخل ہوتا ہے اور دیر سے جان چھوڑتا ہے، (لطائف المعارف صفحہ ٥٦٣ لإبن رجب الحنبلی رح) ان ایام میں گرم لباس زیب تن کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالی کے عطاکردہ جسم کی حفاظت بھی ہوسکے اور اُسے مزید اطاعت و بندگی میں لگایا بھی جاسکے، بعض لوگ جوانی یا جوانمردی کے جوش میں احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے سے اجتناب کرتے ہیں، اس کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں حالاں یہ بھی ایک طرح سے نعمتِ خداوندی کی ناقدری ہے، راقم السطور نے ایک صاحب کو دیکھا وہ فل سردی میں ٹھنڈا پانی پے رہے تھے راقم کے استفسار پر کہنے لگے کہ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ سردی میں صبح سرد پانی سے غسل کرتا ہوں، قارئین بتائیں کیا یہ شرعاً و عقلاً درست ہے؟ کیا یہ جسم کو نقصان پہنچانے کے مترادف نہیں ہے؟ گویا کہ خود بیماری کو دعوت دی جارہی ہے، اگر چہ مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہیں البتہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں فائدہ حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے لیے اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے موسمِ سرما میں گرم لباس اور گرم پانی استعمال کریں، تاکہ عبادت خداوندی میں ضعف اور خلل واقع نہ ہو، البتہ مسند احمد، سننِ بیھقی، مجمع الزوائد، ابویعلی اور جامع الصغير میں موسمِ سرما کو ربیع المومن کہا گیا، یہ عبادات کا موسم ہے اس کی طویل راتیں قیامِ تہجد اور مختصر دن روزوں کے لیے بڑے مفید ہیں ، اس میں نیک اعمال پر اجر و ثواب زیادہ کردیا جاتا ہے، نیک اعمال کے لیے اس موسم کی تعریف بیان کی گئی، اس لیے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ذوق عبادت اور شوقِ ریاضت سے اس موسم سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا جائے،

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے