कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ملک کے مستقبل کو سنوارنےمیں نئے چیلنجز

آٹھارہویں لوک سبھا کا الیکشن سات مرحلے سے گزرتا ہوا اپنی پوری ہنگامہ آرائی کے ساتھ یکم جون 2024کو تمام ہوگیا ۔ نتیجے بھی 4جون کووقت پر سامنے آگئے۔ اس کے بعد ان میں ہار جیت کی نئی بحث شروع ہوگئی ہے اوراسی کے ساتھ جوڑ توڑ بہلانے پھسلانے مننے روٹھنے اور سرکار بنانے کی قواعد بھی جاری ہے میڈیا پر نئی بحثوں کا شور بھی ہے ۔کار آمد اور مفید بحثیں کم ہیں زیادہ تر بحثیں تکرار اور اشتہارکا فریضہ انجام دے رہی ہیں ۔
میرے نزدیک الیکشن کے نتائج پر اس حیثیت سے اب ہم سب کو غور کرناچاہئے کہ کیا نئے چیلنجزہیں جو ملک کے مستقبل کو سنوارنے میں اب ہمیں درپیش ہوں گے اور حالیہ الیکشن نے کیا امکانات عوام کے سامنے پیدا کردیے ہیں ۔
اس سلسلے میں پہلی بات جو واضح رہنی چاہئے وہ یہ کہ اس پارلیمانی الیکشن میں حالات کو بدلنے میں سیاسی پارٹیوں سے زیادہ اہم رول ملکی سماج کے ہر حلقے وعلاقے میں کام کرنیوالی سول سوسایٹیز کا ہے ۔پہلی دفعہ ملک کی سول سوسائٹیوں کا یہ کردار کھل کر سامنے آیا ہے ۔سیاسی پارٹیوں میں بھی ولولہ وجوش ان کی پشت پناہی سے بعد میں پیدا ہوا ۔
اس لئے سچی بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں جو کچھ حاصل ہوا ہے چاہے وہ جمہوری قدروں کی آبرو ہو مذہبی آزادی و رواداری کی ہندوستانی روایت ہو ، دستوری آداب اور اداروں کا پاس ولحاظ ہو ،کمزوروں اور مظلوموں کی داد رسی و حمایت ہو ،حکومت کے ولفیر کردار اور سوشل جسٹس کے سبق کی یاددہانی ہو سب میں اصل رول سول سوسائٹی کا ہے ۔ ہم سبھوں کو یاد ہے سیاسی پارٹیاں تو اپنے اپنے ذاتی ،خاندانی اور پارٹی مفادات سے اوپر اٹھ نہیں رہی تھیں ۔زیادہ تر خوف زدہ تھیں ۔بی جے پی حکومت نے بھی انہیں تنگ کر رکھا تھا ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادہ تر پارٹی کے لیڈروں کے دامن داغدار ہیں لھذاانکم ٹیکس اور ای ڈی کا خوف ان پر چھایا ہواتھا چنانچہ ان پارٹیوں کا الکشنی بیانیہ بھی پارٹی کے محدود سیاسی مفادات سے آگے نہیں جارہا تھا اس سلسلے میں راہل گاندھی کا بیانیہ قابل ستائش رہا ‘ انہوں نے بہت صاف صاف ہندتوا آئڈیولوجی کو نشانہ بنایا بی جے پی کی بنیادی پالیسی پر دو ٹوک تنقید کی ۔گاندھی جی اور نہرو کے خوابوں کو ہندوستان کے اصل خواب کی حیثیت سے پیش کیا بعد میں دوسری پارٹیوں نے بھی اس بیانیے کو تقویت پہنچائی لیکن راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور نیایے یاترا نے بڑا کام کیا ۔
آج حکومت بنانے میں انڈیا گٹھ بندھن کو جوکمی ہورہی ہے اس کی ایک وجہ خود گٹھ بندھن سے وابستہ سیاسی پارٹیوں کی کمزوری ہے ۔ بہار میں لالو پرساد کا پتر موہ یعنی اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو منصب اقتدار پر بٹھانے کی خواہش بھی ایک ہے ۔بھلا پپو یادو ا پیچھے اتنا پڑنے کی کیا ضرورت تھی کنیہیا کمار کو دہلی جانا کیوں پڑا ۔امیدواری میں کس طرح الٹ پھیر نوک جھونک ہوتا رہا آخری وقت تک بات بن بن کر بگڑ جاتی تھی حنا شہاب کا مسئلہ آخر تک نہ سلجھ سکا نتیش کمار اور ان کے پلٹنے سے بہار کی حکومت بھی ایک دم پلٹ گئی اور ریاست میں پارلیمانی انتخاب بی جے پی کے اقتدار میں شریک رہتے ہویے ہوا اس نے سیاسی پس منظر بدل دیا اور حالیہ پیش منظر نتیش کی اسی سیاسی عیاری کا نتیجہ ہے ۔ خود کانگریس کی تنظیمی صورت حال بہار میں کیا ہے بنگال میں کانگریس کے ریاستی صدر کا رول گٹھ جوڑ کے منفی رہا ہے ۔ سیاسی پارٹیوں کا معاملہ بالکل دوسرا ہے ان کے رولس اف گیم کا بنیادی فارمولہ اقتدار کا حصول ہے۔
لھذا حکومت کسی کی تشکیل پایے کتنے دنوں تک چلے سول سوسایٹیز کو مل جل کر پورے ملک میں منصوبہ بند طریقے سے گراس روٹ لیول پر بہت چھوٹے چھوٹے پروگرام اور اس کے بعد ریاستی سطح پر ایک بڑے پروگرام کے ذریعے اپنے سیاسی فرایض کی ادائیگی کے کامیابی کا جشن منانا چاہئے ۔اور اس مشن کو مشترکہ طور پر جاری بھی رکھنا چاہیے ۔اس کام میں سیاسی پارٹیوں سے ایک بامعنی قربت اور حکیمانہ فاصلہ بناکر ہر سطح پر نئی نئی سیاسی ،اجتماعی اور مشترکہ قیادت برپا کرنا چاہئے ۔ مسلمانوں کو بھی اس مہم میں شریک ہوکر اپنے اندر نئ نسل میں سیاسی قیادت کو پروان چڑھانا چاہئے کیوںکہ ہماری یہاں بھی سیاسی نمایندگی کرنیوالے پارٹیوں سے وابستہ لیڈران اسی مرض میں مبتلا ہیں۔مسلمانوں کے اندر تو اور پستی آگئی ہے یہاں تو بس اقتدار کے دسترخوان سے چوسی ہوئی ہڈیوں کی حرص و ہوس اور امید میں سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کی کاسہ لیسی اور بروکری مسلم سیاسی لیڈروں کا وطیرہ ہوگیا ہے الا ماشاء اللہ اگر ایک دو ہیں تو وہ قابل قدر ہیں ۔
بہرحال اس سلسلے میں خیر امت کے فرایض کاشعو ر رکھنے والوں کوبھی اپنے خول سے نکل کر اس میں پیش پیش رہنا چاہئے ۔
کیوںکہ اس الیکشن میں سول سوسائٹی سے وابستہ ہندوستانی عوام اور بعض میڈیا پرسن کارویہ بہت قابل قدر اور قابل تعریف رہا ہے اس کی تعریف اور تزکیہ دونوں ہونا چاہئے ۔
یاد رہے ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا یہی وہ لمحہ ہے جب مسلمان قوم بحیثیت مجموعی ایک قوم کے قومی کشمکش کی سیاست کی تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا پر عزم فیصلہ کریں تو تاریخ کا رخ بدل سکتےہیں ۔ ورنہ یہ جو تھوڑی مہلت ملی ہے اس میں وہی راگ قومی سیاست کا الا پتے رہے اور خیر امت اور اخرجت للناس کا فریضہ ادا نہیں کیا تو یاد رہے کہ اس کے بعد ہندتوا کا ایک آخری کلایمکس آنا باقی ہے ۔ اس کو آپ روک نہیں سکیں گے ۔یقین نہ ہوتو ملت کے بڑے لوگوں کی تحریر کو دوبار پڑھ لیجئے دور کیوں جائیے مولانا ابوالکلام آزاد کی شاہجہانی مسجد کے خطبے اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے خطبہ مدراس کے ابتدائی نکات کو تازہ کرلیجئے اور نظام حیدرآباد کو جو خیرخواہانہ مشورے انہیں نے دئیے تھے ان کو بھی پڑھ لیجیے ۔یا 1963-64 میں آل انڈیا مجلس مشاورت کا جو پس منظر تھا اور اس موقع پر ملت کے اکا برین نے جو بیانات دئے ہیں انہیں کو تازہ کرلیجئے صرف مولانا علی میاں مرحوم کی تقریر پڑھ دوبار سن لیجئے اور ڈاکٹر سید محمود کے تبصرے کو دیکھ لیجئے ۔اس وقت کی روداد ہی کم ازکم پڑھ لیجئے
بہرحال ہندتوا فورسیز کی نصف شکست نے ایک نیا چیلنج کھڑا کردیا مکمل شکست ہوتی تو بات دوسری تھی ۔یہ تو معاملہ ہی دوسرا ہے ۔کہیں یہ ایک وقفہ جیسا نہ ہوجائے ۔ملکی سیاست کی زمین اور آسمان کا رنگ نہیں بدلا ہے ۔ نہیں بھولنا چاہئے کہ بس ابھی چند ماہ اور ایک ڈیڑھ سال میں کئی ریاستوں کے الیکشن بھی ہیں ۔نئی حکمت عملی کے ساتھ چوٹ کھایے ہویے اجگر کی طرح سب کام یہ لوگ کریں گے ۔ان کی تنظیمی قوت وسایل وذرایع کمٹمنٹ سب پر نظر رہے ۔قدرت نے دونوں کو کام کرنے کا موقع دیا ہے ہندتوا سیاست کو بھی اور جمہوری و مذہبی رواداری کی قوتوں کو بھی کلچرل نیشنلزم کو بھی اور دستوری قومیت کے علمبرداروں کو بھی ۔بلکہ ابھی بھی تعداد میں جادوئی نمبر نہ سہی لیکن بحیثیت مجموعی تنظیمی قوت ہو یا دوسرے وسائل وذرایع ہوں پلڑا انہیں کا بھاری ہے ۔دونوں کا میزانیہ دیکھیے گا تو ابھی بھی جمہوری قدروں کی علمبرداروں کے اسکور کی قوت کم ہے
ایک اور پہلو ہے ایم پی کی تعداد کم تو ہویی ہے لیکن نفوذ اور پھیلاؤ بڑھا ہے کیرالا میں ایک ایم پی کا ہونا بہت معنی رکھتا ہے کانگریس کے بارے میں یہ واضح رہنا چاہئے کہ کیرالا کے کانگریسی بھی بدلیں گے تو ایک جست میں بھا جپائی ہوجائیں گے جنوب کی ریاستوں میں بی جے پی کی رسائی ایک بڑا اہم قدم ہے اور پھیلاؤ کا نتیجہ ہے۔کرناٹک ،آندھرا اور تلنگانہ ہر جگہ نفوذ ہوگیا ہے ۔اس لئے حالات کو فوری سرکار بنانے اور نہ بنانے جادوئی تعداد تک پہنچنے اور نہ پہنچنے کے زاویے سے مت دیکھئے ۔بلکہ تاریخی قوت کے پورے بہاؤ اور بدلاؤ کو تمام زاوے سے دیکھئے ۔تب آپ چیلنجز اور امکانات پر غور فکر کا حق ادا کرسکتے ہیں ۔اسی لئے ہم لوگوں نے کل شام میں یو ایم ایف کے ذمہدارون کی ایک نشست اسی عنوان سے رکھی ہے بلکہ میں نے اپیل کی ہے کہ اس اتوار کو جھارکھنڈ میں تمام سول سوسائٹی کے لوگ مل جل کر اس سوال پر غور کریں اور دوسروں کو بھی شریک کریں

والسلام
حسن رضا یو ایم ایف جھارکھنڈ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے