कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ملک کی ترقی کی ضمانت ــــ میرا ایک ووٹ

از قلم: ـــ آفرین شیخ سولا پور، مہاراشٹر

جیسے چراغ اس وقت تک نہیں جلتا اسی طرح جمہوری حکومت کا وجود ووٹ سے ہے۔ ابراہم لنکن نے کیا خوب کہا کہ "جمہوریت ایسی حکومت ہے جو عوام کے لئے ہے ،عوام سے ہے اور عوام کے ذریعہ ہوتی ہے۔”
ووٹ دینا نہ صرف ہمارے شہری ہونے کی ذمہ داری ہے بلکہ ہمارا دینی اور شرعی فریضہ بھی ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں اسلام نے بات نا کی ہو میں تو یو کہو کہ اسلام بذریعہ قرآن سے بہتر کوئی رہبر ہی نا ہو۔
اس دین نے جہاں عبادت، تجارت،نکاح طلاق جائیداد کی تقسیم ،زکوٰۃ و صدقات ،نماز ،روزہ پر بات کی ہو بذریعہ قرآنی واقعات سے رہنمائی کی ہو بھلا سیاست کو لے کر بلکہ میں تو یو کہو کہ حکومت قائم کرنا ،سیاسی قابلیت ہمارے انبیاء و خلفاء راشدین سے بہتر مثال ہو ہی سکتی نہیں۔
اسلام نے دنیا کو بہترین نظام حکومت اور اقتدار پسندانہ سیاست بتائی ہیں ۔
ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایک اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بین المذاہب اور باہمی زندگی گزارنے کے اصول و آداب اور قوانین و ضوابط مرتب کئے ۔
اسلامک آئین دنیا کا پہلا تحریری آئین مانا جاتا ہیں ۔
قرآن ہمارے ہر مسئلہ کا واحد حل ہے
ووٹ دینے کے بارے میں
قرآن و حدیث کے مطالعہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ وو ٹ ڈالنا، انتخاب میں حصہ لینا اور انتخابی تقاضوں کو پورا کرناایک دینی فریضہ ہے۔ اگر اچھے اور نیک لوگ اس میں شریک نہیں ہوں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ غلط اور شرپسند جوملک و ملت کے حق میں ظلم وتشددکو اپنا مقصد بنالیتے ہیں ملک کے دیگر طبقات اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ پیار محبت اور امن و آشتی کی فضا کو ہر ممکن طریقے سے باقی رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حالات کو اسی وقت تبدیل کرے گا جب ہم خود ان حالات کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو ہمارے حالات میں کسی طرح کی مثبت تبدیلی کی امید بے کار ہے۔ جب ہم خود اپنی حالت کو بدلنے کے لیے جہدو جہد کریں گے تو اللہ کی تائید اور نصرت بھی ہمیں حاصل ہوگی کہ: ’’اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلے۔ ‘‘ (الرعد:۱۱)
آپکا ووٹ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ووٹ جمہوری معاشرے میں ایک طاقتور ترین ہتھیار ہے، ووٹ کے ذریعےآپ اپنی حکومت پرملکیت کا احساس پیدا کر سکتے ہیں ووٹنگ افراد کوملک، حلقے یا امیدوارکے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اجازت دیتی ہے، آپ جس امیدوار کو پسند کر رہے ہیں آپ اسے ووٹ دے کر ایوان اقتدار میں بھیجتے ہیں۔
بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ہمارا ایک ووٹ کیا وقعت رکھتاہے ؟ ہمارے ایک ووٹ دینے یا نہ دینے سے کیا فرق پڑنے والا ہے؟ اس طرح کی سوچ بظاہر تو انفرادی ہوتی ہے مگر اسی طرح کی انفرادی آراء جمع ہوتے ہوتے قومی و اجتماعی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ نتیجتاً ہمارا پولنگ تناسب نا قابل یقین حد تک کم ہو جاتا ہے۔ ’قطرہ قطرہ دریا شود‘‘ کے مصداق انتخابات میں ہر ہر فرد کا ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ امیدواروں کی جیت بسا اوقات چند ووٹوں کے فرق سے ہوتی ہے۔ اسی طرح حکومت کا بننا اور بگڑنا بھی کبھی کبھی محض ایک ووٹ سے ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں محض ایک
وو ٹ کا فرق پوری حکومت کی فتح یا شکست کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایک ووٹ سے کیا ہوگا ؟
یہ خیال بہت غلط ہے۔ اس کیفیت سے ہم کو باہر نکلنا ہوگا۔ ہم میں سے ہر فرد کو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارا ووٹ لازماً درج ہو۔
قربانیاں مانگ رہا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ہندوستانی شہری کہے سر فروشی کی تمّنا اب ہمارے دل میں ہیں
دیکھنا زور کتنا بازوے قاتل میں ہے۔ ہر فرد شہید ٹیپوسلطان کی طرح ،نواب سراج الدولہ کی طرح میدان میں ووٹ کا ہتھیار لے کر میدان عمل میں اترجائے۔
ووٹ دینے کے لئے نہ دولت کی ضرورت ہے نہ ڈگری کی ضرورت ہے نہ اچھے لباس کی، ضرورت ہے تو بس جذبہ کی عمر کی
بلکہ ضروری یہ ہے کہ ہم 18 سال کے ہوجائیں اور اس طرح مرتے دم تک ہم ووٹ دیتے رہیںگے۔ اپنا ووٹ فروخت نہ کریں اور بوگس رائے دہی سے بچتے رہیں۔کوئی مذہب ووٹ دینا حرام ہے کی تعلیم نہیں دیتا۔یہ سال بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ فرقہ پرست اور سیکولر جماعتوں میں راست ٹکرائو ہورہا ہے۔ ایسے وقت ہم صرف اور صرف سیکولرزم کی چادر کو پھٹنے نہ دیں، ہر قیمت اس کی حفاظت کریں۔
نہ سمجھوگے تو مٹ جائوگے اے قوم کےمسلمانو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
کیونکہ آپ ہی طے کر سکتے ہے ۔۔۔
میرا ملک، میرا دیش ،میرا یہ وطن
شانتی کا اوننتی کا پیار کا چمن
اس کے واسطے نثار ہے
میرا من میرا تن
آپکا ووٹ اس اگتے ہوئے سورج کی مانند ہے جو یہی پیغام دیتا ہے صبح کی پہلی کرنوں کو آسمان میں پھیلاے ہر کالی رات کے بعد ہی خوبصورت صبح ہوتی ہے جو رات کی سیاہی کو اپنے اندر سمیٹ کر اُمید ،امنگ کچھ کرنے کا پیغام دیتی ہے
کہ اُردو کے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کے اس نظم کو میں تحریر نا کرو تو شاید مضمون پھیکا سا لگے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہے اس کی یہ گلستاں ہمارا
آپ کا ووٹ آپ کا حق ہے۔۔۔
آپ کا ووٹ ہی آپکا تابناک مستقبل ہیں
آپ کے ایک ووٹ ہی ملک کی ترقی کی ضمانت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے