कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ملت کی شیرازہ بندی کیلئے کرنے کا بنیادی کام

تحریر:عارف عزیز (بھوپال)

فرقہ وارانہ فسادات پر مباحثہ کے دوران کچھ عرصہ پہلے ایک ملی رہنما نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ایک سروے سے یہ معلوم ہوا کہ ہندوستان کے مسلمان یومیہ ڈھائی کروڑ روپے کے قریب رقم صرف فلم بینی پر خرچ کر دیتے ہیں، اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر مسلمان اس رقم کو ملت کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کریں تو اُس کے کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح پتہ نہیں کن کن مشاغل میں پورے ملک کے مسلمانوں کی رقم یوں ہی ضائع ہورہی ہے اور قوم کی تعمیر کے لئے کام میں اس کا استعمال نہیں ہوتا۔ اگر صحیح طریقہ سے مسلمانوں کے تعلق سے مختلف قسم کے اعداد و شمار جمع کئے جائیں تو اسی طرح کے اور بھی مثبت اور منفی پہلو ہمارے سامنے آئیں گے، مسلمانوں کے یہاں کسی طرح کا کوئی منضبط مرکزی کام نہیں ہو پاتا ہے اور ہزاروں جگہ اِن کی زکوٰۃ، فطرہ، چرم قربانی، خیرات اور عطیات کی رقوم منتشر ہوکر اپنی قوت کھو بیٹھتی ہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو کسی ایک مرکز کے تحت کام کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر ہم عزم کرلیں تو صرف قوت ارادی کی ضرورت ہے، اس کے بعد یہ کام مشکل نہیں رہے گا۔ پھر مسلمانوں کو اپنی شناخت اور بقاء کے لئے نیز اپنے مال، اپنی جان اور آبرو کی حفاظت کے لئے دوسرے کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ مسلمان اپنے وسائل سے ہر سال ملک کے مختلف شہروں میں مسلم آبادی کے لئے مدرسہ، دارالعلوم، اسکول، کالج، اسپتال، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کرسکتے ہیں مگر اس کے لئے مسلمانوں کو مل کر کوئی مشترکہ اور متحدہ پروگرام بنانا ہوگا اور اس مقصد کے لئے کسی ایک ادارے کی مثال کے طور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی دامے درمے قدمے سخنے مدد کرنا ہوگی۔ اس مقصد سے ہم مسلم پرسنل لا بورڈ کی شیرازہ بندی اس طرح کریں کہ مسلمانوں کی روز مرہ کی زندگی اور معمولات سے براہ راست اس کا رابطہ اور تعلق قائم ہوجائے، اس کی ملک کے ہر ضلع، ہر شہر میں شاخیںقائم ہوں۔ سب مکاتب فکر کے علماء اور عوام اِس سے وابستہ ہوجائیں۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ دین اسلام میں ہم مسلمانوں کے لئے مہد سے لیکر لحد تک ہر ہر لمحہ کے لئے ہدایت موجود ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام بھی اِسی مقصد کے لئے عمل میں آیا تھا تو کئی طرح کی آل انڈیا تنظیمیں بناکر الگ الگ طریقہ سے کام کرنے سے بہتر ہے کہ مسلمان من حیث القوم اپنے اپنے مسلکوں پر قائم رہتے ہوئے اور اپنے اپنے نظریات کے مدارس اور دارالعلوم میں تدریس کے لئے عصری تعلیم، تکنیکی تعلیم اور دیگر علوم و فنون اور مہارت حاصل کرنے کے لئے اسکول، کالج، یونیورسٹی اور اسپتال، ہوسٹل وغیرہ قائم کریں جن میں ہمارے مسلم بچے تعلیم حاصل کرکے ملک و ملت کی تعمیر میں ہاتھ بٹاسکیں۔ نیز کورونا جیسی وبا کے مقابلہ کے لئے ان کے پاس ایک لائحہ عمل یا ایکشن پلان موجود رہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے