कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ملتِ اسلامیہ کا ایک درخشاں ستارہ غروب ہوگیا

(امیرِ شریعتِ کرناٹک، حضرت مولانا مفتی صغیر احمد خان صاحب رشادی رحمہ اللہ۔مہتمم و شیخ الحدیث، دارالعلوم سبیلُ الرشاد، بنگلور)

از:محمد رضوان الدین حسینی
فاضل دارالعلوم وقف دیوبند

(فقیر کل سےہی کچھ حوالہ قلم کرنےکی کوشش کرتارہالیکن اس بحرذخار کو چندقطروں میں سمیٹنامشکل ہے،اس لیےچند سطوراپنےتاثرات سپرد قلم کردیاہوں)
ملتِ اسلامیہ خصوصاً اہلِ کرناٹک کے لیے یہ خبر نہایت رنج و الم کا باعث ہے کہ علم و عمل، تقویٰ و للّٰہیت، اور اخلاص و دعوت کی جیتی جاگتی تصویر، امیرِ شریعتِ کرناٹک حضرت مولانا مفتی صغیر احمد خان صاحب رشادی رحمہ اللہ کل(1/12/2026) کواس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف رخصت فرما گئے۔ یقیناً ان کی وفات ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، ایسا خسارہ جس کا خلا بآسانی پُر ہونا مشکل نظر آتا ہے۔
حضرت مولانا مرحوم نہ صرف شہرِ بنگلور بلکہ پورے صوبۂ کرناٹک کی ایک نمایاں، معتبر اور باوقار علمی و دینی شخصیت تھے، بلکہ ان کی خدمات اور اثرات ملک گیر سطح پر تسلیم کیے جاتے تھے۔ ان کا شمار ان علماء ربانیین میں ہوتا تھا جن کی زندگیاں کتابوں میں نہیں بلکہ انسانوں کے دلوں میں لکھی جاتی ہیں۔ آج علم کا ایک مینار، تقویٰ کا ایک چراغ اور ملت کی رہنمائی کرنے والا ایک امین ہم سے جدا ہوگیا۔
حضرت مولانا دارالعلوم سبیلُ الرشاد کے تیسرے مہتمم اور شیخ الحدیث تھے۔ اس عظیم ادارے کی علمی شان، فکری اعتدال اور دینی وقار میں ان کی محنتوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ درسِ حدیث میں ان کی گہرائی، فقہی بصیرت میں ان کا توازن، اور طلبہ کی تربیت میں ان کی شفقت و حکمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
آپ امیرِ شریعتِ کرناٹک کے منصبِ جلیل پر بھی فائز تھے اور اس ذمہ داری کو نہایت دیانت، بصیرت اور اعتدال کے ساتھ نبھایا۔ امت کے اجتماعی مسائل ہوں یا شریعت کے نازک معاملات، حضرت مولانا کی رائے اعتماد، حکمت اور خیرخواہی پر مبنی ہوتی تھی۔ اسی بنا پر آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکنِ عاملہ بھی تھے اور پابندی کے ساتھ اس کے اجلاسوں میں شرکت فرما کر ملت کے اجتماعی مفادات کے تحفظ میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔
آج کا یہ دور ویسے ہی علماء حق اور اللہ والوں کی رحلت کا دور بنتا جارہا ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ کی وفات نے دلوں کو غمگین کردیا تھا، اور اب ایک اور ولیِ کامل، ایک اور مردِ درویش کی جدائی نے اس زخم کو اور گہرا کردیا ہے۔ بلاشبہ یہ وہ شخصیات تھیں جن کی موجودگی امت کے لیے سایۂ رحمت ہوتی ہے، اور جن کی رحلت پر دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے:
“علم اٹھ رہا ہے، چراغ بجھ رہے ہیں۔”
حضرت مولانا کی زندگی سادگی، اخلاص اور للّٰہیت کا نمونہ تھی۔ شہرت اور مناصب کے باوجود انکساری ان کا زیور تھی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے مشن، ان کے افکار اور ان کی دی ہوئی علمی و اخلاقی امانت کو سنبھالیں۔ ان کے شاگرد، متعلقین اور اہلِ علم اگر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں تو یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مفتی صغیر احمد خان صاحب رشادی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، اور انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت نصیب فرمائے۔
*خدارحمت کندایں عاشقان پاک طینت را*
اللہ تعالیٰ دارالعلوم سبیلُ الرشاد، اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین اور پوری ملتِ اسلامیہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اللهم اغفر له وارحمه واجعل مثواه الجنة

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے