कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

معمارِ ملک اور قوم :مولانا ابوالکلام آزاد

ڈاکٹر مرضیہ عارف (بھوپال)

مولانا ابوالکلام آزادؔ ایک جامع صفات شخصیت کے مالک تھے۔ اُن کے فکر کی معنویت اور نظر کی وسعت نے ہر میدان میں اپنی صلاحیت و عظمت کا لوہا منوایا ہے لیکن جن شعبوں میں اُنھوں نے اپنی غیرمعمولی صلاحیت کے نقش ثبت کیے اُن میں دو قومی نظریہ کے خلاف جہاد، متحدہ قومیت یعنی غیرفرقہ وارانہ سیاست کے حق میں دیوانہ وار جدوجہد نیز آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرتعلیم کی حیثیت سے ہندوستان کی تعلیمی پالیسی کو نوآبادیاتی اثرات سے نکال کر آزاد ملک کے نظامِ تعلیم میں بدلنے کا کام مولانا نے ہی اپنے وژن کے ساتھ انجام دیا، جس کے نتیجہ میں ۲۰ویں صدی کی تعلیمی تاریخ میں ہندوستان کو باوقار طریقہ سے اُبھرنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملا۔
مولانا ابوالکلام آزاد سرتاپا اسلامی فکر اور ذہن کے مالک تھے، اُنھوں نے جس وقت ہندوستانی سیاست میں دلچسپی لینے کا فیصلہ کیا اُس وقت اُن کی عمر بمشکل سولہ سال رہی ہوگی۔ تین وجوہات تھیں جن کی وجہ سے انھوں نے عملی سیاست میں حصّہ لینا شروع کیا۔ پہلی وجہ انگریز حکومت کا تقسیم بنگال کا فیصلہ، مولانا اِس تقسیم کے سخت مخالف تھے، دوسری وجہ مولانا کا مصر، شام،ترکی وغیرہ مسلم ملکوں کا دورہ تھا، جہاں اُن کی ملاقات چند انقلابی رہنماؤں سے ہوئی، اُن کی تحریکات سے متاثر ہوکر مولانا آزادؔ نے محسوس کیا کہ ہندوستان کی جنگِ آزادی میں اُنھیں خود حصّہ لینا اور مسلمانوں کو اِس میں شامل کرنے کی ترغیب دینا چاہیے، تیسری وجہ اُن کا عالمِ دین اور مفکر ہونا تھا، جس کی بدولت وہ اِس نتیجہ پر پہونچے کہ آزادی کے لیے جدوجہد اُن کا ملّی اور قومی فریضہ ہے۔
اُن کی سیرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اُن میں بڑا جوش و ولولہ تھا، وہ جو فیصلہ کرلیتے تو ہر حالت میں اُس پر جمے رہتے، اِس کا ثبوت یہ ہے کہ مولانا نے پوری زندگی سیاست میں لگادی، تحریک ترکِ موالات، ہندوستان چھوڑو تحریک، سول نافرمانی تحریک، دوسری جنگِ عظیم کے دوران انگریزوں سے عدمِ تعاون کی تحریک، غرض کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے تمام تحریکات میں مولانا پیش پیش رہے ہیں، انڈین نیشنل کانگریس کے صدر کی حیثیت سے ۱۹۳۳ء اور ۱۹۴۰ء میں مولانا آزاد کا انتخاب ہوا تو اُن کے دورِ صدارت میں ہی ہندوستان چھوڑو تحریک ۱۹۴۲ء میں شروع ہوئی ، مولانا نے آزادی کی تحریک میں حصّہ لینے کے لیے کافی مصیبتوں کا سامنا کیا، وہ بنگال سے ریاست بدر کیے گئے، دوسری کئی ریاستوں نے بھی اُن کے داخلہ پر پابندی لگادی اور وہ کلکتہ سے نکل کر رانچی میں نظربند رہے، انگریز حکومت نے اُنھیں بار بار بند کیا، کوئی دس سال کا عرصہ اُن کا جیل میں گزرا اور اِس دوران اُن کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا۔ مولانا آزادؔ کی سیاسی بصیرت کا ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ آزادی کے حصول کے لیے ہندو مسلم اتحاد کو ضروری سمجھتے تھے، اِسی مقصد سے اُنھوں نے خلافت اور آزادی کی تحریک کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر گاندھی جی، لوک مانیہ تلک اور دیگر کانگریسی لیڈروں کی تحریک خلافت کے لیے تائید حاصل کی، اِس کوشش سے ملک کے دو بڑے فرقے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے قریب آئے اور اُنھوں نے انگریزوں کا مل جل کر اِس شدت کے ساتھ مقابلہ کیا کہ انگریز کے قدم ہندوستان سے اُکھڑ گئے۔
مولانا ابوالکلام آزادؔ نے میدانِ صحافت میں بہت پہلے قدم رکھ دیا تھا۔ ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ جیسے تاریخی اخبار انھوں نے اِسی مقصد سے آخر میں نکالے، وہ وطن سے محبت اور اُس کی آزادی کو ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کا دینی فریضہ سمجھتے تھے اور ہندو مسلمانوں کو متحد کرنا چاہتے تھے، وہ ملک کی تقسیم کے بھی اِس لیے خلاف تھے کہ اِس کے ذریعہ دو قومی نظریہ کو طاقت ملے گی۔ اِسی لیے ملک کی تقسیم سے ملنے والی آزادی اُنھیں منظور نہ تھی۔ اِس بارے میں اُن کا ایک قول بہت مشہور ہے، اُنھوں نے کہا تھا:
’’آج ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اُتر آئے اور دہلی کے قطب مینار پر کھڑا ہوکر یہ اعلان کردے کہ سوراج چوبیس گھنٹوں کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان، ہندو مسلم اتحاد سے دست بردار ہوجائے تو میں سوراج سے دست بردار ہوجاؤں گا، اگر سوراج ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہوگا‘‘۔
مولانا آزادؔ ہندوستان کو جلد سے جلد آزاد دیکھنے کے آرزو مند تھے لیکن اِس آزادی کے لیے ملک کے سبھی فرقوں کے باہمی اتحاد کو بہت ضروری سمجھتے تھے، اُنھوں نے بار بار یہ اعلان کیا کہ ہندوستان کے سات کروڑ مسلمان یہاں کے ۲۲ کروڑ ہندو بھائیوں کے ساتھ مل کر ایسے متحد ہوجائیں کہ ہندوستانیوں کی ایک قوم اور نیشن بن جائے۔
مولانا ابوالکلام آزادؔ کی آرزو اور اُمیدوں کے خلاف ملک کی تقسیم اُن کے لیے بڑا صدمہ تھا، جس کے نتیجہ میں اُن کے سارے خواب چکناچور ہوگئے، وہ جس دو قومی نظریہ کے خلاف زندگی بھر لڑتے رہے، اُسے مان لیا گیا لیکن وہ تھک ہار کر نہیں بیٹھے، آزادی کا سورج طلوع ہونے کے بعد بحیثیت وزیرِ تعلیم اُنھوں نے ملک وقوم کی تعلیم کا اہم کام اپنے ہاتھ میں لیا، حالانکہ وہ نہ کسی مدرسے، کالج یا یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے، نہ ہی معلّم کا فریضہ اُنھوں نے انجام دیا تھا، پھر بھی وہ ایک منفرد مفکرِ تعلیم ثابت ہوئے، اُنھوں نے وزیرِ تعلیم بنتے ہی انسانی زندگی کی سب سے اہم ضرورت تعلیم کے لیے مخصوص بجٹ کو ایک فیصد سے بڑھاکر دس فیصد کرنے کی تجویز رکھی کیونکہ وہ تعلیم کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اور قوموں کی حیات کے لیے اِسے ضروری سمجھتے تھے۔ اُنھوں نے تعلیم کے بارے میں پانچ پروگرام پیش کیے (۱) اسکول جانے والے تمام بچوں کے لیے بیسک ایجوکیشن کی فراہمی (۲) ناخواندہ بالغوں کے لیے سماجی تعلیم (۳) ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لیے سہولتوں کی فراہمی (۴) قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدید اور سائنسی تعلیم (۵) فنونِ لطیفہ کے فروغ اور دیگر تفریحات کی فراہمی کے لیے ثقافتی سرگرمیوں میں اضافہ۔
مولانا آزادؔ ملک کی ترقی میں سائنس کا کردار اہم سمجھتے تھے اور سائنسی علوم و فنون کے ذریعہ سماج کی ترقی کی راہ ہموار کرنے پر زور دیتے تھے لہٰذا اِس مقصد کے لیے انھوں نے ٹھوس قدم اُٹھاتے ہوئے کئی ادارے قائم کیے۔ خاص طور پر سائنس کی تعلیم و ترقی کے لیے شانتی سروپ بھٹناگر جیسے معروف سائنس داں کی سربراہی میں سائنس کا اعلیٰ تحقیقاتی ادارہ بنایا، ایٹمی ترقی کا ادارہ الگ سے وجود میں آیا، اِسی طرح صنعت اور ٹیکنالوجی میں کام کرنے والے سائنسی اداروں کے ساتھ انڈین کاؤنسل فار ایگریکلچر اینڈ سائنٹفک ریسرچ کا قیام، ساتھ ہی انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ تشکیل دی، گویا ملک میں پہلے ہی مرحلہ کے دوران اعلیٰ ترین سائنسی ریسرچ کی داغ بیل پڑگئی اور ایسے ادارے وجود میں آگئے جو اِس تحقیقاتی کام کو زراعت اور صنعت کے شعبوں تک لے جاسکیں۔
۱۹۵۶ء میں مولانا جب یونیسکو کے صدر منتخب ہوئے تو اُنھوں نے ہندوستان کے تعلیمی نظام کو سنوارنے کے لیے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، وہ اُردو، عربی اور فارسی کے عالم تھے لیکن اُنھوں نے زمانہ کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے انگریزی کی تعلیم کو اہمیت دے کر ملک و قوم کے لیے اُس کے حصول کو لازمی قرار دیا۔
دوسری طرف فنونِ لطیفہ، سماجی علوم اور تفریحات کے لیے ثقافتی سرگرمیوں میں اضافہ کے مقصد سے انڈین کونسل فار ہسٹوریکل ریسرچ اور انڈین کونسل فار سوشل سائنسیز ریسرچ قائم کیں، جن کا دائرہ تاریخ سے لے کر اقتصادیات، معاشیات اور سماجیات تک محیط تھا، اِسی سلسلہ کو مکمل کررہے تھے دو اور ادارے ایک انڈین کاؤنسل فار کلچرل رِلیشنز جو ہندوستان کے تہذیبی روابط کا امین تھا، دوسرے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز۔ جب کہ فنونِ لطیفہ اور ادبیات کے فروغ کے لیے مولانا آزادؔ نے اپنی صدارت میں اکادمیوں کی بنیاد ڈالی تھی۔
ذریعہ تعلیم کے نازک و حساس مسئلہ نیز ہندی اور غیرہندی زبانوں کے جھگڑے کو، جس میں میں عقل کی جگہ جذبات نے لے لی تھی، بڑی دانشمندی سے سنبھالا، یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام کے ذریعہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم کو زیادہ وسائل بخشے بلکہ یونیورسٹی کونسل کی تشکیل نو کی، کھڑک پور میں اعلیٰ ٹیکنالوجی کے لیے انسٹی ٹیوٹ قائم کیا، مذہبی تعلیم کا مسئلہ برسوں سے موضوعِ بحث بنا ہوا تھا، اگرچہ اس کی اہمیت سے مولانا آزادؔ کا دل و دماغ اچھی طرح آگاہ تھا تاہم ملک کے حالات کو پیشِ نظر رکھ کر اُنھوں نے یہی فیصلہ کیا کہ سرکاری درس گاہوں میں مذہبی تعلیم کو رائج کرنا مناسب نہیں ہے۔
مولانا ابوالکلام آزادؔ کی اِس تعلیمی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ نئی نسل بالخصوص نوجوانوں کو ایسی تعلیم مہیا کی جائے کہ وہ آگے چل کر اچھے شہری بن سکیں، تعلیم یافتہ معاشرہ ملک میں وجود میں آئے اور ملک برق رفتاری کے ساتھ آگے ترقی کرسکے۔ حقیقت میں وہ ایک مصلح اور معمارِ قوم تھے جس نے ہندوستان کے مستقبل کو سنوارنے اور بنانے پر اپنی پوری توجہ صرف کردی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے