कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’معاشرتی برائیوں کے خلاف امتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں: عصمت دری کے بڑھتے واقعات کا تجزیہ‘‘

از قلم :احسن ستّار عبدالشکیل(Mob:8421904630)

دورِ حاضر میں آئے دن بنتِ حوا کے ساتھ عصمت دری کے واقعات پیش آنے سے ملک کے حالات میں بے چینی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے حالات میں امتِ مسلمہ کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ کیا اُمتِ مسلمہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہ سکتی ہے؟ آئیے، موجودہ حالات سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے ان حالات اور ان کے وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کوئی مؤثر حل نکالا جا سکے۔حال ہی میں کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک خوفناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک 31 سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 9 اگست 2024 کو پیش آیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم، جو کولکتہ پولیس کے ساتھ ایک شہری رضا کار تھا، اس بدبخت نے پہلے شراب پی، پھر اس نے سیمینار ہال میں آرام کر رہی ڈاکٹر کو نشانہ بنایا۔ اس کے جسم پر 14 سے زائد چوٹوں کے نشان ملے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس پر انتہائی بے رحمی سے حملہ کیا گیا تھا۔اس کیس کے بعد پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، اور ڈاکٹروں اور نرسوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ یہ تو ایک واقعے کی تفصیل تھی، لیکن ایسے ہی کئی واقعات معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں۔جیسا کہ ابھی حال ہی میں ایک خبر کے مطابق تھانے کے اسکول میں نرسری کی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان واقعات کی کیا وجوہات ہیں۔کسی بھی پودے کو درخت بننے کے لیے سازگار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے؛ اگر اسے وقت پر پانی، ہوا، اور مناسب ماحول نہ ملے تو وہ ایک مضبوط درخت نہیں بن سکتا۔ اسی طرح ان برائیوں کو بھی پروان چڑھانے والے لوگ ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جو انہیں سہارا دیتے ہیں۔ سماج میں ان برائیوں کو مختلف ذرائع سے چند مفادات کے لیے فروغ دیا جاتا ہے، تب یہ برائیاں معاشرے میں عام اور مضبوط ہوجاتی ہیں۔ ان تمام معاملات کے ذمہ دار وہ لوگ بھی ہیں جو ان برائیوں کو فروغ دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ان لوگوں میں اول درجے کے وہ لوگ ہیں جو ان برائیوں کو برائی نہیں سمجھتے اور سادہ سا جملہ کہہ دیتے ہیں کہ "آج کل یہ سب چلتا ہے”۔ آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان دو گروہوں کو بندر بنا دیا تھا، جن میں سے ایک گروہ تو اللہ کے حکم کو مانتا تھا، لیکن دوسروں کو اللہ کی نافرمانی سے بچانے کی کوئی فکر نہیں کرتا تھا۔ اور دوسرے وہ تھے جو اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تھے۔ کامیاب صرف وہ لوگ ہوئے جو لوگوں کو برائی سے روکتے، اچھائی کی طرف بلاتے، اور خود بھی عمل کرتے۔ اسی لیے دوسرے درجے کے وہ لوگ ہیں جو برائی کو دیکھتے ہیں، اسے برائی سمجھتے ہیں، لیکن اس کے خاتمے کے لیے کوئی کوشش نہیں کرنا چاہتے۔ آپ کو یہ پڑھ کر حیرانی ہوگی کہ جن لوگوں نے کچھ نہیں کیا، جو اس معاملے سے بالکل دور ہیں، وہ کیسے اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟ میری نظر میں اصل ذمہ دار تو یہی لوگ ہیں، کیونکہ یہ برائی کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی اسے دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ خاموش تماشائی بن کر تماشا دیکھتے رہتے ہیں، حالانکہ اگر وہ چاہیں تو معاشرے میں بیداری پیدا کر سکتے ہیں۔وہ والدین بھی ذمہ دار ہیں جو اپنے بچوں پر اندھا دھن بھروسہ کر کے انہیں اسمارٹ فون دلوا دیتے ہیں اور اس پر توجہ نہیں دیتے کہ ان برائیوں کے دلدل میں ان کی اولاد کون سی برائی کا بیج بو رہی ہے اور یہ آگے چل کر سماج کے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں جن کے پاس اقتدار ہے اور وہ ان عصمت دری کرنے والوں کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں، انہیں بےگناہ قرار دیتے ہیں، ان سے دوستی کرتے ہیں، اور انہیں اقتدار میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔آئیے اب بات کرتے ہیں کہ ان تمام معاملات کا کیا حل ہے۔سب سے پہلے تو ان فلموں اور گانوں کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے جو معاشرے میں فحاشی پھیلاتے ہیں اور نوجوانوں میں عصمت دری جیسے خیالات کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔ جو لوگ فحاشی پھیلانے والوں کا ساتھ دیتے ہیں، ان کے لیے کہنا چاہوں گا کہ جس چیز کا تم ساتھ دے رہے ہو، وہ کل تمہارے کسی اپنے کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔ہمیں بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کا فروغ ضروری ہے تاکہ وہ معاشرتی برائیوں سے بچ سکیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور ان کے لیے بہترین نمونہ بنیں۔ اسی کے ساتھ حکومت اور عدلیہ کو ان مجرموں کو سخت ترین سزا دینی چاہیے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا باعث بن سکے۔ اگر حکومت مناسب اقدام نہیں کرتی تو عوام کو پرامن احتجاج اور قانونی راستے سے دباؤ ڈالنا چاہیے۔یہاں علماء اور مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ معاشرتی اصلاح کی مہم چلائیں اور جمعہ کے خطبات میں اس مسئلے کو اُجاگر کریں۔ قرآن و سنت کے مطابق رہنمائی فراہم کریں اور لوگوں کو اللہ کے احکامات کی پیروی کی تلقین کریں۔ انہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ کون ہیں اور دنیا میں کس لیے بھیجے گئے ہیں۔ہمیں اس ملک کے سامنے ایک ایسا مثالی معاشرہ تشکیل دینا ہے کہ لوگ ہمارے اعمال دیکھ کر اسلام کی طرف راغب ہو جائیں۔ اُمتِ مسلمہ کو کہا گیا ہے کہ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو، تو یہ اُمتِ مسلمہ کا فرضِ عین ہے کہ وہ اپنے اطراف برائی دیکھ کر، چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو، اسے روکنے کی پوری کوشش کریں۔ حدیث میں آتا ہے کہ برائی دیکھو تو اسے ہاتھوں سے روکو، اگر ہاتھوں سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو، اور اگر زبان سے بھی نہیں روک سکتے تو دل میں برا جانو۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو تمہارے اندر ایمان کا سب سے آخری درجہ ہے۔ جس معاشرے میں مسلمانوں کے ہوتے ہوئے یہ برائیاں فروغ پاتی ہوں اور مسلمان انہیں روکنے کے لیے کسی قسم کی کوشش نہ کرتے ہوں، تو یہ بہت سوچنے کی بات ہے کہ ہم قرآن اور احادیث سے کتنا دور ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر کیسے پیش کر رہے ہیں؟ اور ہمارے اندر ایمان کا کیا درجہ ہے؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے