कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مطالعہ کی افادیت، ضوابط اور طریقۂ کار

بقلم ️ : محمد رضوان الدین حسینی

تمہید:
علم کی بنیاد جہل کا احساس اور تحقیق و جستجو کا جزبہ ہے، آج دنیا میں جو بھی علوم ہیں، وہ اسی احساس نایافت اورتلاش و تحقیق کے جزبہ کی مرہون منت ہیں، علم جتنا بڑھتا جاتا ہے، جہالت کااحساس اسی قدر شدید ہوتا جاتا ہے، انسان کی معلومات جس قدر بڑھتی جاتی ہیں ، یہ جزبہ قوی ہوتا جاتا ہے کہ ہم کتناکچھ نہی جانتے اور جو کچھ جانتے ہیں وہ کتنا کم ہے۔ اس حقیقت کا احساس متعدد علماء فضلاء اورفلاسفہ نے کیا ہے کہ *معلوم شد کہ ہیچ معلوم نہ شد* علم کی حقیقت جہل کااحساس ہی ہے، اس کے بر عکس جن لوگوں کے اندر اپنی جہالت کااحساس نہیں ہو تا وہ کبھی علم سے آشنا نہیں ہو پاتے تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔ کہ انہی لوگوں نے اپنے علم و فضل سے دنیا کو روشن کیا ہے جن کے اندر اپنی جہالت کا احساس تھا اور کچھ نیا جاننے کا جزبہ اور تلاش و تتبع کی لگن تھی۔
مطالعہ علم کی شاہ کلید ہے:
مطالعہ چاہے کتابوں کا ہو یا آفاق وانفس کا.وہ علم کے لیے شاہ کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ جیسے روح کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیاجاسکتا .اسی طرح مطالعہ کے بغیر علم کاتصور نہی کیا جاسکتا۔ کسی ادارے سے فراغت اور ڈگری کے حصول کے معنی محض یہ ہیں کہ اب وہ اس قابل ہوگیا ہے کہ کتابوں کاوہ خود سے مطالعہ کر کے علم حاصل کر سکے۔ جس طرح ایک بچہ پہلے ماں باپ کی گود میں رہتاہے،کچھ عرصہ بعد وہ کسی کا ہاتھ پکڑ کر چلنےلگتاہے اور مزید کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہ خود سے دوڑنے بھاگنے لگتاہے اسی طرح حرف شناسی کی صلاحیت اور علوم آلیہ و عالیہ یعنی وسائل اور مقصود کی کتابیں اساتذہ سے. پڑھنے کے بعداور متعلقہ فن کے مباحث واصطلاحات کو سمجھنے کے بعد آپ اس قابل ہوگئے ہیں کہ خود سے مطالعہ کرسکتے ہیں۔
مطالعہ کی افادیت:
مطالعہ کی اہمیت وافادیت سے ہر صاحب شعور بخوبی شناساہے–مطالعہ روح کے لیے غذا کی حثیت رکھتا ہے۔ مطالعہ سے ہی فکر و نظر کے بنددریچے کھلتے اورذہن زر خیز ہوتا ہے۔ مطالعہ اورکتب بینی سے انسان کا فکری ارتقاء ہوتا اور خیالات و نظریات میں پختگی آتی ہے۔ مطالعہ سے فہم وشعور میں وسعت و گہرائی اور شخصیت میں اعتدال و اعتماد پیدا ہوتاہے .یہی وجہ ہے کہ کتابوں کو انسان کا سب سے اچھا رفیق کہاجاتا ہے- بقول شورش کاشمیری.. *کتاب سا مخلص دوست کوئی نہیں۔*”
پیر زادہ عاشق کیرانوی کا شعر ہے:
سرور علم ہے کیف شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
کتاب ایک بار آپ کی ساتھی بن جائے پھر ہمیشہ ساتھ رہتی ہے،یہ اس وقتــــ بھی ہمیں تنہاء نہیں چھوڑتی جب باقی سب ہمارا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں-کتابیں صرف زمانۂ حال میں حق رفاقت ادا نہی کرتیں بلکہ کسی مخلص ترین دوست کی طرح مستقبل سنوارنے اور نکھارنے میں بھی معین ہو تی ہیـں-درحقیقت زندہ قوموں کے عروج و کمال کی راہ میں کتابیں راہبر بھی ہوتی ہیں اور ہمسفر بھی .جب کسی قوم میں مطالعہ اور تحقیق کا عمومی ذوق پیدا ہوجاتاہے تو وہ قوم ترقی کی شاہراہ پر چل پڑتی ہے اور بلندیوں کو سر کرلیتی ہے۔
:مطالعہ کے فوائد:
مطالعہ اور کتب بینی کے بے شمار فائدے ہیـں کتب بینی کے ذریعہ ہم تاریخ کے مختلف ادوار کی سیر کرتے ہیں اپنے وقت کی عظیم ہستیوں .نامور لوگوں.مشہور ومعروف بادشاہوں.قلمکاروں.ادیبوں .اور شعراء سے ملاقات کرتے ہیں-ان کے احوال زندگی سے واقفیت حاصل کرتے ہیں ان کے تجربات، مشاہدات، افکار و خیالات سے استفادہ کرتے ہیں -مطالعہ ہی کےذریعہ ہم دنیا کے ذہین و عظیم لوگوں کے علوم و معارف سے روشناس ہوتے ہیں، جنہونے اپنے اپنے وقتــــ میں اپنی ذہانت اور محنت سے علم و معرفت کے سربستہ رازوں کو کھولا قدرت اور فطرت کے قرینوں کو پہچانا، تجربہ مشاہدہ اور جانچ پرکھ کے اصولوں کوبروئے کار لاکر دانائی اورحکمت کے چہرے سے نقاب اٹھایا -مطالعہ کے ذریعہ ہم مختلف ملکوں اور علاقوں کی تہزیب اور کلچر کی معلومات حاصل کرتےہیں. ان کی خصوصیات، امتیازات اور تعلیمی .تمدنی اقتصادی صورتحال کو جانتے ہیں -اگرکتابیں نہ ہوتیں تو انسان کے سیکھنے، سمجھنے، افادے استفادے کی راہ بڑی حد تک مسدود ہوجاتی ۔ کسی نے بڑی سچی بات کہی ہے کہ قوت مطالعہ نہ ہوتو آدمی کی شخصیت ایک محدود شخصیت ہوتی ہے، قوت مطالعہ حاصل ہوتے ہی اس کی شخصیـت ایک آفاقی شخصیت بن جاتی ہے، پوری دنیاکا کتابی ذخیرہ اس کے لیے ایک وسیع علمی دستر خوان کی صورت اختیار کرجاتاہے،انگریزی زبان کے مشہور ناول نگار جارج مارٹن (George RR.martin)نے بالکل سچ کہا ہے:
A reader lives a thousands lives before he dies. The man who never reads lives only one.
مطالعہ سےشغف رکھنے والا شخص مرنے سے پہلے ہزار زندگیاں جیتاہے جب کہ اس کے مقابلہ میں مطالعہ نہ کرنے والا شخص محض ایک زندگی جیتا ہے-
مطالعہ اور انسانی ذہن:
مطالعہ کے فوائد میں سے ایک بڑافائدہ یہ ہے کہ مطالعہ کی جہ سے انسانی ذہن پر مثبت ارو خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھاپے کی طرف بڑھتی ہے اس کے ذہن کے خلئے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت سست پڑ جاتی ہے، یاداشت متاثر ہونے لگتی ہے۔ لیکن مطالعہ کے عادی افراد میں یہ آثار نسبتاً کم اور بہت سست روی سے ظاہر ہو تے ہیں۔ مطالعہ کی بناپر ذہن کی اچھی خاصی ورزش ہوتی ہے۔ جس سے ذہن تندرست و توانا رہتاہے اور حافظہ بھی صحیح سالم رہتاہے -حفظ و اتقان میں عدیم النظیر امیر المؤمنین حضرت امام بخاری رح سے دریافت کیاگیا کہ کیا کوئی ایسی دوا ہے جو حافظہ کو قوت دینے والی ہو تو آپ نے فرمایا:
لااعلم شئیا انفع للحفظ من نھمۃ الرجل و مداومۃ النظر
کہ حافظہ کے لیے آدمی کے انہماک دائمی نظر و مطالعہ سے بہتر کوئی چیز میرے علم میں نہیں ہے- (سیر اعلام النبلاء 406/12)
ہمارے اسلاف کا ذوق مطالعہ
ہم آج جن اسلاف اور اکابر کا نام عقیدت و احترام سے لیتے ہیں۔ جن کے حسین تذکروں سے ہماری مجلسیں آباد رہتی ہیں،جن کے کارناموں اور جلیل القدر خدمات کے اسباب میں مطالعہ اور کتب بینی کو ایک بنیادی. حیثیت حاصل ہے۔ ان حضرات نے اپنے شب و روز کا آرام .لزت کام و دہن .عیش وعشرت سب کچھ مطالعہ کے لیےقربان کردیا-مسلسل محنت .جد وجہد.شب بیداری کی تکالیف برداشت کر کے اپنی حیات مستعار کے بیشتر لمحات مطالعہ میں صرف کیے اور علم وادب .تحقیق و تدقیق کے وہ شہ پارے اور لعل و جواہر ہمارے لیے چھوڑ گئے کہ دنیا کی ساری دولت ان کے سامنے ہیچ ہے- مطالعہ کو ان حضرات کی زیست کا حاصل اور جوہر لازم کہا جا سکتا ہے۔ مطالعہ کے ذوق کو مہمیز دینے اورسرد پڑ چکے جزبات کو گرمئ احساس فراہم کرنے کی غرض سے ماضی قریب کے ہمارے دو بڑوں کے مطالعہ سے متعلق واقعات پیش خدمت ہیـں-
امام العصر علامہ سید انور شاہ کشمیری رح ایک بار سخت بیمار ہوئےاورعلالت طول پکڑ گئی -فجر کےبعد یہ افواہ مشہورہوگئ کہ حضرت کا وصال ہوگیا – دارالعلوم کے اساتذہ یہ سن کر آپ کے مکان کی طرف لپکے وہاں معلوم ہوا کہ خبر غلط پھیل گئی البتہ تکلیف کی شدت تھی جو برقرار ہے۔ عیادت کے لیے یہ حضرات کمرہ میں پہونچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت العلامہ نماز کی چوکی پر بیٹھے سامنے تکئے پر رکھی ہوئی کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہیں اوراندھیرے کی وجہ سے کتاب کی طرف جھکے ہویے ہیں ۔ آنے والے حضرات یہ منظر دیکھ کر حیران ہوئے کہ مرض کی یہ شدت اور مطالعہ میں اتنا انہماک! حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب رح نے ہمت کر کے عرض کیا حضرت!یہ بات سمجھ میں نہی آتی کہ اول تو وہ کونسی بحث رہ گئی ہے جو حضرت کےمطالعہ میں نہ آچکی ہو، اوراگر بالفرض کوئی بحث ایسی ہو تو اس کی فوری ضرورت کیا پیش آگئی ہے
اسے چند روز مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر کوئی فوری ضرورت کا مسئلہ ہے تو ہم خدام کہاں مرگئے ہیں-آپ حکم فرمادیتے ہم وہ مسئلہ تلاش کرکے پیش کر دیتے لیکن اس اندھیرے میں ایسے وقت میں آپ جو محنت اٹھارہے ہیں وہ ہم خدام کے لیے ناقابل برداشت ہے -حضرت علامہ کشمیری رح کچھ دیر بڑی معصومیت اور بے بسی کے انداز میں مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کی طرف دیکھتے ر ہے پھر فرمایا :بھائی ٹھیک کہتے ہو لیکن یہ کتاب بھی تو ایک روگ ہے اس روگ کا کیا کروں!
خطابت و صحافت اور ادب و سیاست کی نامور شخصیت امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد اپنے ذوق مطالعہ کے بارے میں لکھتے ہیں :میرے تخیل میں عیش زندگی کا سب سے بہتر تصور کیا ہوسکتا ہے?
جاڑے کا موسم ہو اور جاڑا بھی قریب قریب درجہ انجماد کا ہو .رات کا وقت ہو، آتش دان میں اونچے اونچے شعلے بھڑک رہے ہوں۔ میں کمرے کی ساری مسندیں چھوڑ کر اس کے قریب بیٹھا ہوں اور پڑھنے یا لکھنے میں مشغول ہوں۔
آج کا المیہ اور ہماری فرض شناسی:
یہ بات بڑی افسوس ناک ہے کہ ہماری موجودہ نسل اور مجھ جیسا طالب علم سردست مطالعہ اور کتب بینی سے بہت دور ہوگیا ہے- کمپیوٹر ..موبائل.سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ نے مطالعہ کا ذوق ہی ختم کردیاہے -ہمارے اکثر اوقات موبائل وغیرہ پر ضائع ہوتے ہیں جس کا ہمیں کبھی احساس نہی ہوتا، اور جب مطالعہ کی بات آتی ہے تو ہر شخص وقت کی تنگی کا شکوہ کرتا نظر آتاہے -یہی وجہ ہے کہ ایک ایسی نسل ہمارے درمیان پروان چڑھ رہی ہے جو علم ودانش سے عاری اور جس کا قلب و ذہن اخلاق وذمداری کے احساس سے خالی ہے- ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم سب مل کر موجودہ صورت حال کو تبدیل کرنے کی سعی کریں، والدین اساتذہ اورمربی حضرات کو اپنے بچوں اور شاگردوں پر نظر رکھنا چائیے کہ وہ موبائل کمپیوٹر وغیرہ کا استعمال ضرورت سے زائد تو نہی کرتے -ان کی ضرورت کے مطابق ان اشیاء کے استعمال کا وقت متعین کردینا چاہیے اس سے زائد استعمال کی انہیں ہر گز اجازت نہ دی جایے -نرمی اور حسن تدبیر کے ساتھ انہیں مطالعہ پر آمادہ کیاجائے-ان سے گفتگو کر کے اور خود اپنے مشاہدہ کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ انہیں کن موضوعات سے دلچسپی ہے اور کس طرح کی تحریریں پڑھنے پر ان کی طبیعت آمادہ ہوتے ہے -مثلا اگر آپ کے بچے کی توجہ ادب کی جانب زیادہ ہے تو اس بارے میں اس کی رہنمائی کریں. وہ علماء اور دانشور جن کی کتابیں علمیت کے ساتھ ادبیت سے مملو ہیـں. ان سے بچوں کو روشناس کرائیں- جیسے عاجز کی نظر میں درج ذیل علماء ”
مرحومین میں علامہ سید سلیمان ندوی ..مولانا ابو الکلام آزاد. .مولانا سید مناظر احسن گیلانی..مولانا عبد الماجد دریابادی، شورش کاشمیری..مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندوی .مولانا سید انظر شاہ کشمیری رحمھم ا للہ اور موجودین میں مفتی تقی عثمانی. مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، وغیرہ
یہ وہ حضرات ہیں جن کی کتابیں پڑھ کر جہاں ادب کے فطری ذوق کی تسکین ہوگی تو وہیں علم و فکر کے اعتبار سے بھی شخصیت کی تکمیل وہ تزئین ہوگی- اگر ابتداء میں اس پر توجہ نہ دی گئی تو لازمی طور پر بچوں کا دھیان بے مقصد .. غیر اخلاقی..حقیقت سے دور.. خیالی اور غیر صحت مند ادب کی طرف ہوجاۓ گا.. جس کے بڑے منفی اثرات ثابت ہوتے ہیں- کسی نے سچ کہا ہے !
دل بدل جاتے ہیں تعلیم بدل جانے سے:
اس تفصیل سے یہ بات سمجھانا مقصود ہے کہ مطالعہ کا ذوق اگرچہ فطری و طبعی ہوتاہے لیکن اس ذوق کی آبیاری .اسے پروان چڑھانے اور صحیح رخ پر ڈالنے میں والدین اور اساتذہ مؤثر کردار ادا کرتے ہیں_اس لیے ان حضرات کو چاہئے کہ اپنے تجربات کی روشنی میں بچوں کے مطالعہ کے لیے بہتر سے بہتر کتابوں کی ایک فہرست تیار کریں، جس میں تدریج اور ترتیب کا خاص لحاظ رکھا جائے -مطالعہ کا عمومی ذوق پیدا کرنے کے لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے. بچوں اور دوستوں کو کتابیں بطور تحفہ دیں۔ دیگر قیمتی تحایف کے مقابلہ میں کتابیں سستی اور عمدہ تحفہ ہیں–
ایک اہم سوال:
جب بات مطالعہ اور کتب بینی کی ہو تو ایک بنیادی سوال یہ سامنے آتاہے کہ ہمیں کس طرح کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے? کیا ہر کتاب کا مطالعہ کیا جائے?کیا کچھ کتابیں ایسی بھی ہیں جن کے مطالعہ سے اجتناب ضروری ہے? یہ ایک بنیادی سوال ہے جس کا واضح اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ ہر لکھی جانے والی تحریر اور ہر طبع ہونے والی کتاب مطالعہ کے لائق ہو یہ بالکل ضروری نہیں -کتابیں بنیادی طور پر دو طرح کی ہوتی ہیں، معیاری اور غیر معیاری -معیاری کتابوں سے ذہن روشن ہوتا اور فکر و نظر میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے، جبکہ غیر معیاری کتابیں شخصیت کے ارتقاء میں رکاوٹ بنتی ہیـں -اچھی کتابیں اچھا انسان اور اچھا معاشرہ بناتی ہیں ..اچھی کتابوں سے شخصیت میں توازن ..وقار اور شائستگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بر عکس خراب کتابیں بگاڑ اور فساد کا سبب بنتی ہیـں -اس لیے مطالعہ کے لیے کتابوں کے انتخاب میں بہت ہوشیاری سے کام لینے کی ضرورت ہے -ایسے مصنفین جو اپنے موضوع پر مکمل دسترس نہ رکھتے ہوں، اخلاقی قدروں کو نہ مانتے ہوں، دین بیزار یا مغربی افکار سے مرعوب ہوں، ان کی لکھی کتابوں سے بچنا چاہیے.-وہ بعض طلبہ جن میں ابھی مطالعہ کا شوق باقی ہے وہ بھی اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ اپنے بڑوں اور اساتذہ سے مشورہ کیے بغیر اپنی ناپختہ عقل پر اعتماد کرکے مطالعہ شروع کردیتے ہیں ، جس کےبسااوقات بڑے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں- سردست کتابوں کی بہتات ہوگئ ہے ، ایک موضوع پر درجنوں کتابیں دستیاب ہیں لیکن ان میں ایک بڑی تعداد ایسے کتابوں کی ہے ، جو اس لائق نہی ہوتیں کہ انہی مطالعہ کی میز پر جگہ دی جائے -خوشنما ٹائٹل اور عمدہ طباعت کے پس پردہ کیسی کیسی فکر کی غلطیاں چھپی ہوئی ہیں یہ پہچاننا ہر کس و ناکس کے بس میں نہی یہ تو خاص اہل علم کا کام ہے- دراصل کتاب دو دھاری تلوار کی طرح ہے جس کے غلط استعمال سے خود اپنی ذات زخمی ہوسکتی ہے۔ مولانا عبد الماجد دریابادی، کی زندگی ہمارے لئے باعث عبرت اور سبق آموز ہے کہ کس طرح غلط مطالعہ اور کتابوں کے غلط انتخاب نے ایک زمانہ میں انہی اسلام سے دور کردیا بلکہ اسلام بیزار بنادیا .خدا کی کرم نوازی رہی جو وہ اسلام کی طرف پلٹ آئے اور بحکم خداوندی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رح کے دست بر حق پر ان کی اصلاح ہوئی، یاد رکھئے کہ جسم کتنا ہی صحت مند اور مضبوط ہو اگر اس میں زہر داخل ہوگا تو ہلاک کئے بغیر یا شدید نقصان پہونچایے بغیر نہی رہے گا- مذہب بیزار ، لبرل .بے دین ..الحاد زدہ افراد کی کتابیں ایسے زہریلے افکار سے لبریز ہوتی ہیں کہ ایمان و یقین ک بنیاد ہلا دیتی ہیں اور انسان کو شک و تذبذب ..عدم اطمنان کی تاریکیوں میں بھٹکنے پر مجبور کردیتی ہیں -بہت سی کتابیں لفظ و بیان کے اعتبار سے غلطیوں سے پر ہوتی ہیں ایک طالب علم ایسی کتابیں پڑھ کر زبان کے درست استعمال پر قادر نہی ہوسکتا -کتاب کی زبان اور اسلوب بیان کا اثر راست طور پر پڑ تاہے -کسی مفکر نے بڑی قیمتی بات کہی ہے کہ اگر دو دن تک کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا جایے تو تیسرے دن گفتگو میں وہ شیرینی باقی نہی رہتی یعنی انداز تکلم تبدیل ہوجاتا ہے ، وجہ یہ ہے کہ عمدہ اور معیاری کتابوں کے مطالعہ ہی سے ہمیں گفتگو کا سلیقہ آ تاہے اپنی بات کو مدلل کرنے اور اپنے بیان میں حسن پیدا کرنے کا طریقہ معلوم ہوتاہے عمدہ کتابوں کا مطالعہ تقریر و تحریر میں شائستگی..سلاست و روانی ..حسن اور معنویت پیدا کرتاہے -اس لئے جو بھی پڑھیں معیار کا خیال رکھ کر پڑھیں -اگر شاعری سے دلچسپی ہے تو معتبر و مستند اور صف اول کے شعراء کو پڑھیں -سطحی غیر معیاری معنویت سے خالی ..محض تک بندی اور پھوہڑ شاعری سے خود کو دور رکھیں، یہی پیمانہ ہر فن میں استعمال کریں اس فن کے ماہرین اور بلند پایہ قلمکاروں کی کتابیں ہی اپنے مطالعہ میں رکھیں -خلاصہ یہ ہے کہ مطالعہ سے قبل اہل علم اور زبان و بیان سے واقفیت رکھنے والے اصحاب نظر سے مشورہ لینا لازمی ہے-کھرے کھوٹے کی پہچان کے پہچان بعد ہی اپنے نفع نقصان کی شناخت ہو سکے گی-
مطالعہ کا طریقہ اور چند بنیادی اصول
آج کی تیز رفتار زندگی میں ہر انسان کامیابی و ترقی کی آسان اور مختصر راہ(Shortcut)کی تلاش میں ہے-آج طبیعتوں میں صبر کا فقدان اور محنت کا کال پڑ چکا ہے۔ کتب بینی کے سلسلہ میں بھی لوگ یہ چاہتے ہیں کہ بغیر پڑھے یا تھوڑا بہت پڑھ کر .زیادہ محنت سے بچ کر معلومات کا وہ ذخیرہ اور مطالعہ کے وہ فوائد حاصل کرلیں جو دیگر افراد نے طویل زمانے میں مسلسل مطالعہ سے حاصل کئے ہیں- ظاہر سی بات ہے کہ یہ چیز فی الواقع دشوار بلکہ قریب قریب ناممکن ہے ،علت و معلول اور عمل و ردعمل کے ضابطہ سے بندھی اس دنیا میں بغیر عمل کسی نتیجہ کی امید محض ایک خواب کی حثیت رکھتی ہے۔
ایں خیال است و محال است و جنوں
اس خیال سے پیچھا چھوڑا کر مطالعہ کے مثالی (ideal)طریقہ اور تجربہ کی کسوٹی پر جانچے ہوئے ان اصولوں اور طریقوں کو جاننے کے سعی کریں جن کے ذریعہ مطالعہ کو زیادہ مفید زیادہ اثر انگیز اور کار آمد بنایا جاسکتاہے۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا کا ہر کام اصول کی پابندی سے ہی ممکن ہوسکتا ہے- بغیر اصول کی پابندی کے کوئی کام درست انداز میں انجام نہیں دیا جاسکتا۔ کھانا پکانے میں بھی اصول کی پابندی نہ کی جائے اور جس چیز کو جتنا ڈالنا ہے اورجب ڈالنا ہے اس کی پابندی نہ کی جائے تو کھانا بد مزہ ہوجائے گا۔ انسان رات کے وقت جاگے اور دن کے وقت سوئے تو تھوڑے دنوں کے بعد اس کی صحت تباہ ہوجاۓ گی حد سے زیادہ کام کرے یاآرام کرے تو بیمار پڑجائےگا ایسے ہی مطالعہ کے کچھ اصول و ضوابط ہیں جو انکی پابندی کرتے ہیں، وہ تھوڑی محنت سے بھی کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو ان کی پابندی نہی کرتے وہ بہت زیادہ محنت کرنے کے باوجود اور کتابی کیڑا بننے کے باوجود ناکام رہتے ہیں:
مطالعہ کے اصول
(1)……..علم کا احترام کرنا
انسان کو جس چیز سے فائدہ پہونچتا ہے- اس نفع اور فائدہ کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا احترام کیا جائے علم بذات خود بہت محترم ہے، مزید یہ کہ اس کا رشتہ اللہ سے جڑا ہوا ہے ،علم کا احترام اس نسبت سے بھی ہونا چاہیے۔ اور اس لیے بھی کہ یہ دنیا وآخرت میں ہماری کامیابی اور سعادت و نجات کا باعث ہے، یہی وجہ ہے کہ علماء اسلام خود بھی علم کا بڑا احترام کرتے تھے اور علم سے منسوب تمام چیزوں کا احترام کرتے تھے۔اوراس کی تاکید کرتے تھے۔ حصول علم.میں احترام علم کو بہت زیادہ دخل ہے- جس کے اندر علم کا احترام جس قدر ہوگا اللہ پاک اسی قدر اس کو علم سے نوازیں گے –
احترام علم کے کئی تقاضے ہیں۔ پہلا اور بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ گناہوں سے بچاجائے کیوںکہ علم.خدا کا نور اور اس کا انعام وعطیہ ہے اور اس کا محل قلب ہے، لہذا دل کو گناہوں کی آلائش سے بچایا جائے اور خدا کی اس نعمت کو پاک و صاف برتن میں رکھنے کا اہتمام کیا جائے-علم کے حصول سے قبل گناہوں سے بچاجائے اور حصول علم کے دوران بھی گناہوں سے بچنے کی کوشش جارے رہنی چاہیے۔ امام وکیع مشہور محدث ہیں علی ابن خشرم کہتے ہیں۔ میں نے وکیع سے کمزور حافظہ کی شکایت کی تو انھوں نے فرمایا یاداشت کے مضبوطی کے لیے گناہوں سے اجتناب کرو –
علم کے احترام کا دوسرا تقاضہ یہ ہے کہ علم سے وابستہ تمام چیزوں کی تکریم کی جائے کاپی کتاب قلم دوات اور ان سب سے بڑھ کر اساتذہ کا حتی الامکان ادب و احترام کیا جائے اور کبھی بھی ان کے اکرام کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے علم سے منسوب اشیاء اور اساتذہ کا احترام یہ ظاہر کرتا ہے کہ طالب علم کے اندر علم کا کس قدر احترام ہے اور جو انسان اساتذہ کا ، علم سے وابستہ اشیاء کا احترام کرے گا ،وہ خود نفس علم کا کس قدر احترام کرےگا ،یہ بتانے کی ضرور ت نہیں ہے۔
علم کے احترام کا تیسرا تقاضہ یہ ہے کہ انسان حصول علم میں پیش آنے والی تکالیف پر صبر کرے اور علماء ماضی کی زندگی سے سبق حاصل کرے کہ انھوں نے علم کے لئے کس طرح اپنی جان کو گھلایا اور اس راہ میں ہر طرح کی سختیاں اور مصیبتیں برداشت کیں حتی کہ بعض کو پیاس کے مارے اپنا پیشاب تک مجبوری میں پینا پڑا، بعض حضرات کو آنکھوں کی قربانی دینی پڑی سردی کی شدت سے امام لغت وادب زمخشری کا پاؤں گل گیا، جس کی وجہ سے پاؤں کاٹنا پڑا لیکن انہوں نے علم کی راہ سے منہ نہ موڑا اور ان ائمہ اعلام کا آج کے ہم سب طلبہ کے لیے بھی پیغام یہی ہےکہ-
میرے ساتھ ساتھ چلے وہی جو خار راہ کو چوم لے
جسے کلفتوں سے گریز ہو وہ میرا شریک سفر نہ ہو
(2)……..مطالعہ بامقصد ہو
مطالعہ ہمیشہ بامقصد ہونا چاہیے۔ محض یونہی وقت نکالنے کے لئے کوئی بھی کتاب ہاتھ میں لے لی۔ دو چار ورق پڑھ لیا اور پھر رکھ دیا۔ اس سے کوئی فائدہ نہی ہوتا، لائبریری گئے، کسی بھی الماری کے پاس کھڑے ہوکر بلا ارادہ کوئی کتاب ہاتھ میں لے لی اور پڑھنے لگے یہ وقت کا ضیاع ہے ، اس کا بڑا نقصان یہ ہے کہ آپ کا دماغ جسے علم کی لائبریری ہونا چاہیے معلومات کا کباڑ خانہ بنتا ہے ، جہاں سے وقت ضرورت کوئی چیز ڈھونڑنا آسان نہیں ہوتا-
بامقصد مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔آپ کونسی کتاب پڑھنا چاہتے ہیں اور کیوں پڑھنا چاہتے ہیں آپ فقہ پر کوئی کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو معلوم کرنا چاہیے کہ میں فقہ کی کس بحث کے تعلق سے پڑھنا چاہ رہا ہوں، اس سلسلہ میں اچھی کتاب کون سی ہے ، اور پھر آیا اس کتاب کو پڑھنا.چاہیے یا نہیں. .اگر فقہ کی تاریخ کا مطالعہ کر رہے ہیں توآپ کو کسی استاذ سے پوچھنا چاہئے کہ فقہ کی تاریخ پر اچھی کتاب کون سی ہے ، ہر فن میں اور ہر موضوع پر کچھ کتابیں ابتدائی طالب علموں کے لیے ہوتی ہیں- کچھ متوسط درجات والوں کے لیے ہو تی ہیـں اور کچھ منتہی طلبہ کےلیے ہوتی ہیں تو آپ تارخ فقہ کی ابتدائی کتابوں کا مطالعہ کریں پھر متوسط درجہ اور پھر تاریخ فقہ پر لکھی گیی ضخیم کتب کا مطالعہ کریں اسی طرح فقہ کی اصطلاحات کی بحث ہیں- اس پر بھی متعدد کتابیں ہیں اہل علم .. اپنے اساتذہ سے معلوم کریں کہ اس فن میں کونسی کتاب اچھی ہے اور اگر کئی کتابیں ہیں تو پہلے کس کو پڑھا جائے –
3……کتابوں کا انتخاب
بامقصد مطالعہ کی ہی ایک کڑی کتابوں کا انتخاب بھی ہے ،کیوں کہ جب ایک شخص کے سامنے مطالعہ کا کوئی مقصد ہو گا تو وہ کتابوں کا لازمی طور پر انتخاب کرےگا اس بات کو بابائے اردو مولوی عبد الحق صاحب نے نصاب اردو ص:۳۵ پر بڑی عمدہ مثال اور پیرایے میں سمجھایا ہے۔ کہ کتابوں کا انتخاب کیوں ضروری ہے۔ اور کیوں ہر کتاب اس لائق نہیں کہ آدمی اس کو پڑھے اور مطالعہ کرے،
اگر میں کسی روز بازار جاؤں اور چوک میں سے محض کسی اجنبی شخص کوساتھ لے آؤں اور اس سے بے تکلفی و دوستی کی باتیں شروع کردوں اورپہلے ہی روز اس پر اس طرح سے اعتبار کرنے لگوں جیسے کسی پرانےدوست پر تو آپ کیا کہیں گے۔
میں ایک بڑے آباد شہر یا مجمع میں جاتاہوں کبھی ایک طرف نکل جاتاہوں اور کبھی دوسری طرف جاپہونچتاہوں اور بغیر کسی مقصد کے ادھر ادھر مارے پھرتاہوں افسوس کہ باوجود آدمیوں کی کثرت کے میں وہاں اپنے تئیں اکیلا اور تنہا پاتاہوں اور اس ہجوم کا بار اور گراں معلوم ہوتاہے میرے کتب خانہ میں بیسیوں الماریاں کتابوں کی ہیں میں کبھی ایک الماری کے پاس جاکھڑا ہوتاہوں اور کوئی کتاب نکال کر پڑھنے لگتاہوں اور کبھی دوسری الماری میں سے کوئی کتاب اٹھاکر دیکھنے لگتاہوں میں اس طرح کئی کتابیں پڑھ جاتاہوں لیکن اگر میں غور کروں تو دیکھوں گا کہ میں نے کچھ بھی نہیں پڑھا اس وقت مجھے میری آوارہ خوانی ستائے گی اور جس طرح ایک بھرے شہر میں میری تنہائی میرے لئے وبال تھی اسی طرح اس مجمع علماء ادباءو شعراء میں یکہ و تنہا اور حیران رہوںگا –
لہذا عمدہ کتابوں کا انتخاب کریں اور مطالعہ کے اصول و ضوابط کو سامنے رکھیں –
4……فضول اور بری کتابوں سے دوری
جو طالب علم اور انسان جس قدر لا یعنی اور فضول کتابوں کا مطالعہ کرتاہے وہ اسی قدر اچھی کتابوں سے دور ہوجاتاہے کیوںکہ جو وقت وہ ان فضول کتابوں کے پڑھنے میں لگا رہا ہے،وہ وہی وقت اچھی کتابوں کے مطالعہ میں بھی لگا سکتا تھا، وقت بہت قیمتی ہے، یہ دو دھاری تلوار ہے ، یا تو آپ اسے اپنے لیے فائدہ مند بنائیں یا پھر تیار رہیں کہ یہ آپ کے لئے ضرر رساں اور تکلیف کا باعث بنے گا-
(5)……سرسری مطالعہ سے اجتناب
سرسری مطالعہ سے مراد یہ ہے کہ انسان کتاب کھولے اور پڑھتا جائے اور کیا سمجھا کیا نہی سمجھا اس کی کچھ فکر نہ کرے.کس لفظ کا صحیح اعراب کیا ہے؛ اشخاص اور مقامات کے نام.کا صحیح تلفظ اور اعراب کیا ہیں-اگر کوئی لفظ درمیان میں آگیا ہے۔ جسکا معنی معلوم نہیں تو قیاس سے ایک معنی بطور خود متعین کرلیا لغت کی جانب رجوع نہیں کیا – سرسری مطالعہ درحقیقت مطالعہ نہی بلکہ یہ ضیاع وقت کا مہذب طریقہ ہے۔ اگر انسان کتاب پڑھے اور نامعلوم لفظ کا معنی معلوم نہ کرے کسی نام کا صحیح تلفظ اور اعراب جاننے کی سعی نہ کرےکوئی مغلق اور پیچیدہ بحث ہے تو اس کے حل کی جانب توجہ نہ کرے تو ایسے مطالعہ سے کوئی فائدہ نہی ہوگا اس طرح مطالعہ کرنے والے علمی مباحث میں کبھی بھی پر اعتماد نہی ہوسکتے-
مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ مطالعہ کرنے والا ہر لفظ کا صحیح اعراب جاننے کی کوشش کرے اگر درمیان میں کسی شخص یا مقام کا نام آجائے تو اس کا صحیح اعراب کیا ہے معلوم کرے اور اس لفظ کی تذکیر و تانیث پر بھی توجہ دے اور اگر اس نام یا مقام سے متعلق کوئی محاورہ ہے تو اس کو جاننے کی سعی کرے، کوئی پیچید بحث ہے تو اس کو سمجھنے کی کوشش کرے، اس طرح سے اگر مطالعہ کرےگا تو ابتداء میں ہوسکتا ہے اس کی رفتار سست ہوگی اسے تھوڑا بوجھ اور ثقل محسوس ہوگا لیکن اس طرح کے مطالعہ سے علم پر اعتماد ہو جاتاہے اور ایسا شخص کسی بھی محفل و مجلس میں اپنی بات پورے اعتماد کے ساتھ رکھ سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے