कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مصنوعی ذہانت( AI)کے دور میں استاذ کا کردار

تحریر:پٹھان شریف خان
9422409471

تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی اور استاذ اس کا مضبوط ستون ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے اپنے استاذ کو قدر دی، اس نے دنیا پر اپنی فکری برتری قائم کی۔ استاذ صرف معلومات فراہم کرنے والا نہیں بلکہ رہنما، کردار ساز اور انسان ساز ہوتا ہے۔ اس کے اخلاق، بصیرت اور تدریسی انداز سے ہی قوم کا مستقبل تعمیر ہوتا ہے۔
آج دنیا ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلاب سے گزر رہی ہے۔ طلبہ کے سامنے معلومات کے انبار موجود ہیں، مگر انہیں صحیح سمت دینا استاذ کی ذمہ داری ہے۔ ایک ماہر تعلیم کے بقول:
*”تعلیم صرف امتحان میں کامیابی کا نام نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کی صلاحیت کا دوسرا نام ہے۔”*
استاذمحض معلومات نہیں، تربیت کا سرچشمہ ہے۔سقراط نے کہا تھا:
*”تعلیم کا مقصد دماغ کو بھرنا نہیں بلکہ سوچنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔”*
آج جب ہر سوال کا جواب انٹرنیٹ پر موجود ہے، استاد کا اصل کام یہی ہے کہ وہ طلبہ کو سوچنے، تجزیہ کرنے اور حقائق کا ادراک کرنے کی صلاحیت دے۔ جیسے نیویگیشن سسٹم راستہ دکھاتا ہے، مگر منزل تک پہنچنے کے لیے سمجھدار ڈرائیور ضروری ہوتا ہے، ویسے ہی AI راستہ بتا سکتا ہے مگر اس پر چلنا معلم ہی سکھاتا ہے۔
*جدید ٹیکنالوجی اور تخلیقی تدریس*
آئن سٹائن کے مطابق:
*”تخیل، علم سے زیادہ اہم ہے۔”*
آج جب AI مواد تخلیق کر سکتا ہے، استاد کا کام یہ ہے کہ طلبہ میں تخلیقی سوچ پیدا کرے۔ اگر ٹیکنالوجی سمندر ہے تو استاد کشتی کا ملاح ہے، جو طلبہ کو اس سمندر میں ڈوبنے نہیں دیتا بلکہ محفوظ ساحل تک پہنچاتا ہے۔
اخلاقی اقدار اور کردار سازی کی ایک اہم ذمہ بھی استاذ پر ہے
ماہرین کا کہناہے کہ: *”تعلیم کا سب سے بڑا مقصد اچھی انسانیت کی تعمیر ہے۔”*
ورچوئل دنیا میں گم طلبہ کے لیے کردار سازی نہایت ضروری ہے۔ درخت اپنی جڑوں سے مضبوط ہوتا ہے، اسی طرح طلبہ اپنی اقدار سے۔ یہ اقدار صرف استاد کے کردار سے منتقل ہوتی ہیں، AI کے کسی الگورتھم سے نہیں۔
استاد کی نئی مہارتیں
ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی: ای-لرننگ، اسمارٹ کلاس روم اور AI کا درست استعمال کے ساتھ ساتھ
تنقیدی سوچ اور طلبہ کو سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا سکھانا۔
ایسے سوال دینا جن کا جواب گوگل پر نہ ملے۔
"وہی استاد کامیاب ہے جو سیکھنا نہیں چھوڑتا۔”
جیسے ایک پرانا لالٹین آج کی LED لائٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتا، ویسے ہی پرانی تدریسی عادتیں آج کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد صرف کتابوں کا حافظ نہیں بلکہ رہنما، مربی اور کردار ساز ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کبھی بھی استاد کے مقام کو ختم نہیں کر سکتی، البتہ استاد کو ٹیکنالوجی کا ماہر، وقت کے تقاضوں کا شعور رکھنے والا اور اخلاقی اقدار کا محافظ ہونا چاہیے۔
عمدہ استاد کیسا ہونا چاہیے، یہ طے کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تعلیم کیا ہے؟ کیونکہ استاد کا کردار اور اس کا کام براہِ راست تعلیم اور طالب علم سے جڑا ہوا ہے۔ استاد اور تعلیم لازم و ملزوم ہیں۔ جب تک یہ واضح نہ ہو کہ تعلیم کے ذریعے کیا حاصل کرنا ہے، کوئی بھی استاد کمال حاصل نہیں کر سکتا۔ تعلیم کا اصل مقصد طالب علم کی ہمہ جہت ترقی ہے، اور اس کی مکمل سمجھ کے بغیر استاد اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔
تعلیم کا اصل مقصد محض معلومات دینا نہیں بلکہ طالب علم کو شعور، سوچنے کی صلاحیت، اور بہترین کردار دینا ہے۔ یہی کام اچھے استاد کا سب سے بڑا ہدف ہونا چاہیے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے