कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ایٹمی دہانے پر

تحریر: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ:9934933992

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں اس شدت کے ساتھ ابھرا ہے کہ حالات کی سنگینی نے نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو تہہ و بالا کر دیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک ہمہ گیر بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری عسکری مہم اب روایتی جنگ کے دائرے سے نکل کر ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ایٹمی تصادم کا خدشہ محض ایک قیاس نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ زمینی حقائق، عسکری حکمت عملی اور سفارتی تناؤ کے تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں معمولی سی لغزش بھی تاریخ کے دھارے کو بدل سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ یہاں ہونے والی کوئی بھی بڑی کشیدگی محض علاقائی حدود تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور سفارتی توازن تک پھیل جاتے ہیں۔ موجودہ بحران بھی اسی تاریخی تسلسل کا ایک خطرناک باب ہے جس میں طاقت کے توازن، توانائی کے ذخائر اور جغرافیائی اثر و رسوخ کی کشمکش پوری شدت کے ساتھ سامنے آ چکی ہے۔ اس تصادم کے پس منظر میں وہی پرانے عوامل کارفرما ہیں جو ماضی میں اس خطے کو بارہا جنگ و جدل کا میدان بناتے رہے ہیں، تاہم اس بار صورت حال کہیں زیادہ پیچیدہ، نازک اور فیصلہ کن دکھائی دیتی ہے۔
یہ جنگ بظاہر محدود سیاسی اور عسکری مقاصد کے حصول کے لیے شروع کی گئی تھی، مگر اس کے پس پردہ کارفرما طاقتوں کی حکمت عملی میں جو خامیاں تھیں، وہ اب پوری طرح عیاں ہو چکی ہیں۔ امریکی قیادت، خصوصاً ڈونالڈ ٹرمپ کے جارحانہ طرزِ عمل اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں نے اس آگ کو بھڑکانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دونوں قیادتوں نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ محدود نوعیت کی فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایران کو جلد ہی پسپا کر دیا جائے گا، مگر زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئی۔ طاقت کے زعم میں کیے گئے فیصلے جب عملی دنیا سے ٹکراتے ہیں تو ان کے نتائج نہ صرف غیر متوقع ہوتے ہیں بلکہ دور رس اور تباہ کن بھی ثابت ہوتے ہیں۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں جو اندازے قائم کیے گئے تھے، وہ چند ہی دنوں میں غلط ثابت ہو گئے۔ نہ صرف یہ کہ جنگ طول پکڑ گئی بلکہ اس کی شدت میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ایران نے جس منظم اور مربوط انداز میں جوابی کارروائیاں کیں، اس نے اسرائیل کے دفاعی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا۔ خاص طور پر اسرائیل کا دفاعی نظام "آئرن ڈوم”، جسے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، مسلسل میزائل حملوں کے دباؤ میں اپنی افادیت کھوتا ہوا نظر آیا۔ اس صورتحال نے اسرائیلی عوام میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا اور حکومت کی عسکری حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ۲۸ فروری سے جاری اس جنگ نے انسانی اور عسکری دونوں سطحوں پر غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ اس دوران ایران کے کئی اعلیٰ فوجی اور سیاسی رہنماء ٓشہید ہوگئےجب کہ ہزاروں افراد جاں بحق اور اتنے ہی زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں رہا۔ شہری علاقوں، بنیادی ڈھانچوں اور توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس نے اس تصور کو زائل کر دیا کہ جنگ کا دائرہ محدود رکھا جا سکتا ہے۔ اس باہمی تباہی نے دونوں معاشروں میں بے چینی اور اضطراب کو بڑھا دیا ہے اور انسانی المیے کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
ایران کی حکمت عملی اس پورے بحران میں نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اس نے نہ صرف براہِ راست فوجی کارروائیوں کے ذریعے اپنا دفاع کیا بلکہ اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ یہ جنگ محض دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خلیجی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اس جنگ کو محدود دائرے میں نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی تناظر میں دیکھ رہا ہے، اور اس کے اہداف محض دفاعی نہیں بلکہ تزویراتی نوعیت کے بھی ہیں۔
اسی دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اہم سمندری گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ جنگ کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کی معیشتیں اس دباؤ کو محسوس کر رہی ہیں، اور عالمی اقتصادی نظام میں عدم استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
امریکی داخلی سیاست بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہی۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں میں حکومت مخالف تحریکوں نے جنم لینا شروع کر دیا ہے، جو اس بات کی علامت ہیں کہ جنگی پالیسیوں کو عوامی سطح پر چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ان تحریکوں نے ڈونالڈ ٹرمپ اور بنجامن نیتن یاہو دونوں کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی باوقار راستہ تلاش کریں۔ تاہم اطلاعات یہ بھی ہیں کہ جنگ کے مستقبل اور اس کے اختتام کے طریقۂ کار کو لے کر دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ اور غیر یقینی بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے اپنے موقف میں تسلسل برقرار رکھا ہے اور ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اپنی حکمت عملی پر قائم ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے بیانات اور عملی اقدامات میں تضاد نے سفارتی سطح پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں مذاکرات کے امکانات مزید کمزور ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کو ایک مشکل دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ غیر معمولی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
اس جنگ کا ایک نہایت خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ اب اس میں ایٹمی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اس سے کسی بڑے حادثے یا تابکاری کے اخراج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے اور دنیا پر مرتب ہوں گے، اور یہ انسانی تاریخ کے ایک نئے المیے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے نتائج نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
عالمی طاقتوں کا کردار بھی اس بحران میں نہایت اہم ہے۔ چین اور روس جیسے ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ یہ دونوں طاقتیں امریکہ کے یکطرفہ اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہیں، جس سے عالمی سیاست میں ایک نئے توازن کی تشکیل کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں طاقت کی نئی صف بندیاں واضح ہوتی جا رہی ہیں اور عالمی نظام ایک نئی تشکیل کی جانب بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
اس کے برعکس مسلم دنیا کا کردار خاصا مایوس کن دکھائی دیتا ہے۔ متعدد مسلم ممالک، جو اس خطے کے براہِ راست متاثرین ہیں، واضح اور مؤثر موقف اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی خاموشی یا غیر جانبداری نے نہ صرف ان کی سفارتی کمزوری کو ظاہر کیا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی کردار پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں ایک متحد، جرات مند اور مؤثر آواز کی ضرورت تھی، جو اب تک سنائی نہیں دی اور یہی خاموشی مستقبل کے خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے۔
عالمی سطح پر امریکہ کو جس بھرپور حمایت کی توقع تھی، وہ بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ مغربی اتحاد میں بھی واضح دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔ کئی یورپی ممالک نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور براہِ راست عسکری مداخلت سے گریز کیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور یک قطبی نظام کمزور پڑتا جا رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔
معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ جنگ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ توانائی کے بحران، مہنگائی میں اضافہ اور عالمی تجارت میں رکاوٹیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا ایک بڑے اقتصادی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں پہلے ہی معاشی دباؤ موجود ہے اور عوامی سطح پر مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ان تمام عوامل کے درمیان سب سے بڑا خطرہ ایٹمی تصادم کا ہے۔ اگرچہ ابھی تک براہِ راست ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہاں کسی بھی غلط قدم کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جنگ کے اختتام سے قبل امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف کسی بڑے اور فیصلہ کن حملے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ اپنی عسکری برتری کو ثابت کیا جا سکے۔ ایسے کسی اقدام کی صورت میں صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو سکتی ہے، اور ایٹمی دھماکوں کا امکان بھی یکسر رد نہیں کیا جا سکتا، جو پوری انسانیت کے لیے ایک ہولناک سانحہ ثابت ہوگا۔
یہاں عالمی برادری کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے، لیکن افسوس کہ بین الاقوامی ادارے اب تک کوئی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ سفارتی کوششیں محدود اور غیر مؤثر ہیں، جبکہ فوری جنگ بندی اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران ایک وسیع عالمی تصادم کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ یہ مسائل کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیتی ہے۔ طاقت کے زور پر امن قائم کرنے کی کوششیں تاریخ میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت سنجیدگی، تدبر اور بردباری کا مظاہرہ کرے اور ایک ایسے حل کی تلاش کرے جو پائیدار امن کی بنیاد بن سکے، ورنہ طاقت کا یہ بے لگام استعمال انسانیت کو ایک ایسے اندھے کنویں میں دھکیل سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔
آج مشرقِ وسطیٰ کے افق پر منڈلاتے سیاہ بادل محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین انتباہ ہیں۔ اگر دنیا نے اس لمحے کی نزاکت کو نہ سمجھا تو یہ آگ، جو آج محدود دائرے میں سلگ رہی ہے، کل پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب عقل و دانش کو جنگی جنون پر غالب آنا ہوگا—ورنہ تاریخ ایک بار پھر انسان کی نادانی، غرور اور تباہی کی ایک دردناک داستان رقم کرے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے