कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلم عمائدین میں احساسِ ذمہ داری اورقربانی کا فقدان

تحریر:ڈاکٹر محمد سعیداللہ ندوی
رابط نمبر 8175818019

دنیا بدلتی ہے، انسان بدلتا ہے، معاشرہ بدلتا ہے، لیکن جب اصول و اقدار بدل جائیں تو نسلیں بھٹک جاتی ہیں۔ آج ہم ایک ایسے المیے سے دوچار ہیں جس کا تعلق محض مذہبی فرائض یا رسمی عبادات سے نہیں بلکہ ہماری قومی بقا، اجتماعی شعور اور روحانی زندگی کے تسلسل سے ہے۔ وہ المیہ ہے: **قومی فریضے اور مسلم عمائدین میں جذبۂ قربانی کا فقدان۔
یہ وہ زوال ہے جو صرف سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہے۔ ہم آج اس حقیقت کا جائزہ لیں گے کہ کیوں ایک وقت تھا جب مسلمانوں میں قربانی کا جذبہ ایک اجتماعی طاقت کی صورت میں رواں دواں تھا، اور آج وہ چراغ مدھم پڑ چکا ہے۔ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جذبہ قربانی ہماری تاریخ کا سب سے روشن پہلو تھا۔ جب نبی کریم ؐ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ منورہ کے انصار نے اپنے گھر، اپنے باغات، اپنا مال سب کچھ مہاجرین کے لیے قربان کر دیا۔ کوئی ان کا قرض دار نہ تھا، مگر ان کے دل ایمان کے قرض دار تھے۔ جب بدر و احد کے میدان میں جاں نثاروں نے جانیں قربان کیں تو مقصد صرف زمین یا اقتدار نہ تھا، بلکہ دین کی سر بلندی تھی۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے معمولی افراد کو تاریخ کا لازوال کردار بنا دیا۔قیامِ پاکستان کے وقت بھی مسلمانوں نے اسی قربانی کی روح سے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ لاکھوں لوگ اپنے گھروں، زمینوں، رشتہ داروں اور سازوسامان سے محروم ہوئے مگر ایمان اور آزادی کے جذبے پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ ان کے خیموں کے نیچے مٹی تھی مگر دلوں میں جنت کی آس تھی۔ یہ قربانی ان کے ایمان کی علامت تھی، اور یہی ایمان نئی قوم کی بنیاد بنا۔
مگر آج کا منظر نامہ مختلف ہے۔ آج قربانی کا جذبہ صرف مذہبی رسومات تک محدود رہ گیا ہے۔ قومی یا اجتماعی معاملات میں وہ ایثار اور وہ بے غرضی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ جن پر قوم بھروسہ کرتی ہے، وہ خود اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ جنہیں رہنمائی کرنی چاہیے، وہ اقتدار اور مراعات کے اسیر ہیں۔ قوم کے اجتماعی مفاد کے مقابلے میں ذاتی مفاد زیادہ عزیز ہو گیا ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے ہمارے اجتماعی کردار کو کھوکھلا کر دیا ہے۔سب سے پہلا سبب ذاتی مفاد اور دنیا پرستی ہے۔ آج بہت سے مسلم رہنما اور عمائدین قوم کی قیادت کو خدمت نہیں بلکہ حیثیت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے فیصلے قوم کے فائدے کے بجائے ذاتی منفعت کے تابع ہوتے ہیں۔ جس کے پاس اقتدار آتا ہے، وہ قربانی دینے کے بجائے لینے کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ جس شخص کے دل میں دنیا کی محبت رچ بس جائے، وہ دین اور قوم کے لیے قربانی کا جذبہ کہاں سے پیدا کرے گا؟دوسرا سبب عملی دنیا پسندی ہے۔ آج کی دنیا جلدی نتیجہ چاہتی ہے۔ قربانی کا جذبہ صبر، استقلال اور تاخیر برداشت کرنے کی صلاحیت مانگتا ہے، مگر موجودہ ماحول میں سب کچھ فوری اور سطحی بن چکا ہے۔ کسی اقدام سے اگر جلد فائدہ نہ ملے تو لوگ اسے ناکامی کہہ دیتے ہیں۔ لیکن قربانی وہ عمل ہے جو وقتی نہیں بلکہ دائمی اثر چھوڑتا ہے۔ اس کے ثمرات نسلوں بعد ظاہر ہوتے ہیں۔
تیسرا سبب تعلیم و تربیت کی کمزوری ہے۔ ہمارے مدارس و جامعات میں علم ضرور دیا جاتا ہے، مگر کردار سازی اور قربانی کے شعور کی تربیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں میں یہ احساس پیدا نہیں کیا جاتا کہ قوم کے لیے ایثار سب سے بڑی عبادت ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل اپنے مفادات کی دنیا میں قید ہے۔ اگر بچپن سے ہی قربانی کا جذبہ سکھایا جائے تو یہی بچے مستقبل کے باکردار قائد بن سکتے ہیں۔
چوتھا سبب خوف اور مصلحت پسندی ہے۔ بہت سے لوگ حق کی آواز بلند کرنے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ انہیں نقصان، مخالفت یا شہرت خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لیکن قربانی کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان اپنے آرام، اپنی عزت اور اپنی زندگی کو بھی حق کے لیے قربان کرنے کو تیار ہو۔ صحابہ کرام نے اگر یہی مصلحت پسندی اختیار کی ہوتی تو آج اسلام دنیا کے کونے کونے میں نہ پہنچتا۔پانچواں سبب تعاون اور نظامِ کفالت کی کمی ہے۔ جب کوئی شخص یا جماعت خلوص کے ساتھ قربانی دیتی ہے مگر اسے معاشرتی یا ادارہ جاتی تعاون نہیں ملتا تو وہ جلد مایوس ہو جاتی ہے۔ اگر ہمارے رہنما ایک دوسرے کی مدد، مشاورت اور اعتماد کا ماحول قائم کریں تو قربانی کا جذبہ کمزور نہیں ہوگا بلکہ مضبوط ہوگا۔یہ وجوہات اپنی جگہ درست ہیں، مگر ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ قربانی کا جذبہ صرف رہنماؤں کی ذمہ داری نہیں، پوری قوم کی ہے۔ اگر عام لوگ خود ایثار نہ کریں تو قائد بھی بے عمل رہتے ہیں۔ اگر قوم خود آرام طلب ہو جائے تو رہنما بھی اسی روش پر چل پڑتے ہیں۔ لہٰذا یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اندر سے اس جذبے کو زندہ کریں۔آج کے مسلم معاشروں میں اگر ہم غور کریں تو ہر طرف خودغرضی، مادہ پرستی اور بے حسی کی فضا ہے۔ ایک طرف فلسطین، کشمیر، یمن اور شام کے مظلوم مسلمان ہیں جو اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، اور دوسری طرف ہم ہیں جو ان کی خبر بھی بے دلی سے سنتے ہیں۔ ہماری تقریریں بلند ہیں مگر عمل کمزور ہے۔ ہماری مساجد آباد ہیں مگر دل خالی ہیں۔قومی سطح پر بھی ہم نے قربانی کے جذبے کو سیاست، تعصب اور مسلکی تقسیم کی نذر کر دیا ہے۔ اگر کوئی شخص قوم کے مفاد میں بات کرے تو اسے سازش یا مخالفت سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں خلوص اور ایثار کا فروغ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
یاد رہے کہ قربانی صرف کسی موقع پر جان دینے یا مال خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں اپنے مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا بھی قربانی ہے۔ والدین کا اپنی اولاد کے لیے جاگنا، استاد کا اپنے شاگرد کے لیے محنت کرنا، اور ایک رہنما کا قوم کے لیے اپنا وقت اور سکون قربان کرنا — یہی اصل روح ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قربانی کی طاقت ہی قوموں کو زندہ رکھتی ہے۔ جب یہ جذبہ مر جائے تو قومیں ظاہری وجود کے باوجود باطنی طور پر مٹ جاتی ہیں اور جب یہ جذبہ بیدار ہو جائے تو کمزور قومیں بھی طاقتور بن جاتی ہیں۔ یہی جذبہ مسلمانوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں لا سکتا ہے۔ کیا ہم اس جذبہ قربانی کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں؟ کیا ہمارے رہنما اپنے عہدوں، مفادات اور مراعات سے اوپر اٹھ کر قوم کی خاطر قربانی دے سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہی ہمارے احیائے ملت کی پہلی سیڑھی ہے۔ ہمیں خود سے آغاز کرنا ہوگا۔
آئیے، آج عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں قربانی کا رنگ بھر دیں گے۔ جہاں انا ہو، وہاں ایثار ہو؛ جہاں مفاد ہو، وہاں خدمت ہو؛ جہاں عہدہ ہو، وہاں عاجزی ہو۔ جب تک قوم کے عمائدین اور عوام دونوں اس شعور کو نہیں اپنائیں گے، امت کی زوال پذیر کشتی پار نہیں لگے گی۔قربانی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم صرف اپنی جیب یا جان دیں، بلکہ اپنی سوچ کو بدلیں، اپنی ترجیحات درست کریں، اور اپنے کردارکو دین و ملت کے تابع بنائیں۔ یہی وہ قربانی ہے جو ہر وقت ممکن ہے، ہر شخص کے لیے ضروری ہے، اور یہی وہ عمل ہے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔جب مسلم عمائدین اس قربانی کو اپنا شعار بنائیں گے تو ان کے فیصلوں میں خلوص، گفتار میں سچائی، کردار میں استقامت اور قیادت میں امانت پیدا ہوگی۔ تب ہی قوم ان پر اعتماد کرے گی، تب ہی رہنمائی زندہ ہوگی، اور تب ہی وہ خواب پورا ہوگا جو ہم نے امت کی عزت اور سربلندی کے لیے دیکھا تھا۔
قومی فریضہ یہی ہے کہ ہم خود کو قوم کے لیے وقف کریں، اپنے آرام کو ملت کے عروج پر قربان کریں، اور اپنی ذات کو اس امت کے مستقبل کا ایندھن بنا دیں۔ کیونکہ قومیں تب بنتی ہیں جب ان کے رہنما قربانیاں دیتے ہیں، اور تب بگڑتی ہیں جب رہنما راحت و عیش کے اسیر ہو جاتے ہیں۔یہی وہ لمحہ ہے کہ ہم بیدار ہوں، اپنے رہنماؤں کو جگائیں، اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ قربانی ابھی زندہ ہے — کیونکہ جب قربانی زندہ ہو تو قوم کبھی مر نہیں سکتی۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے