कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسعود پزشکیان ایران کے صدر منتخب: ایران کی اخلاقی پولیس پر تنقید کرنے والے اصلاح پسند رہنما کون ہیں؟

تہران:6؍جولائی: ایران میں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے مطابق اصلاح پسند امیدوار مسعود پزشکیان نے اپنے حریف اور سخت گیر رہنما سعید جلیلی کو شکست دے کرایران کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔بی بی سی فارسی کے مطابق ملک کے الیکشن ہیڈکوارٹر کی جانب سے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے مطابق تین کروڑ افراد نے الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جن میں سے ایک کروڑ 63 لاکھ سے زیادہ افراد نے مسعود پزشکیان کو ووٹ دیا جبکہ سعید جلیلی کو ایک کروڑ 35 لاکھ سے زیادہ ووٹ پڑے۔یوں الیکشن کے دوسرے مرحلے کے دوران ووٹر ٹرن آٹ 49 فیصد رہا۔
یاد رہے کہ 28 جون کو ایران میں صدارتی انتخاب منعقد ہوئے تھے، تاہم انتخاب میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کر سکا جس کے بعد پانچ جولائی کو صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ملک کے انتخابی ہیڈ کوارٹر کے اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں ووٹرز کی شرح 40 فیصد رہی تھی جو کہ ایرانی صدارتی انتخاب کے تمام ادوار میں سب سے کم شرح ہے۔گذشتہ روز ایران میں 14ویں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ رات 12 بجے تک جاری رہی تھی۔خیال رہے کہ ابراہیم رئیسی 2021 میں ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے اور معمول کے شیڈول کے تحت صدارتی انتخاب 2025 میں ہونا تھا تاہم مئی میں ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد صدارتی انتخاب قبل ازوقت منعقد ہوئے۔اس ہیلی کاپٹر حادثے میں ایران کے وزیر خارجہ امیر حسین اور دیگر چھ ایرانی عہدیدار بھی ہلاک ہوئے تھے۔جمعے کو ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے پولنگ کے آغاز میں اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ میں نے سنا ہے کہ لوگوں کا جوش اور دلچسپی پہلے سے زیادہ ہے۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے موقع پر ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای نے پہلے مرحلے میں ووٹرز کی شرح کو توقع سے کم قرار دیتے ہوئے دوسرے مرحلے میں زیادہ ووٹرز کی شرکت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ لوگوں نے اس لیے ووٹ نہیں ڈالا کہ وہ نظام کے خلاف تھے، یہ بات غلط ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران میں انتخاب کے دوران سختیاں کی جاتی ہیں۔ ہر امیدوار علما کی ایک بااثر کمیٹی کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ہی انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔ ملک کے عوام اس عمل سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں اور اکثر ووٹ دینے سے کتراتے ہیں۔
ایران کی اخلاقی پولیس پر تنقید کرنے والے ڈاکٹر مسعود پزشکیان کون ہیں؟
ایران کے سخت گیر اور قدامت پسند حلقوں سے باہر وہ ایک ایسے رہنما ہیں جو ملک کے اندرونی اور بیرونی محاذ پر الگ حکمت عملی اپنانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔
70 سالہ مسعود پزشکیان ایران کے علاقے ماہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ارمیا میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انھوں نے ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے تبریز یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی۔وہ ایک ہارٹ سرجن ہیں اور سابق وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔مسعود پزشکیان نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ مغرب سے تعلقات بہتر کریں گے اور جوہری مذاکرات کو بحال کریں گے تاکہ ملک کی معیشت کو کمزور کرنے والی عالمی پابندیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔مسعود کو عوامی سطح پر دو سابق اصلاح پسند صدور کی حمایت بھی حاصل ہے جن میں حسن روحانی اور محمد خاتمی شامل ہیں۔ سابق وزیر خزانہ جواد ظریف بھی ان کے حامیوں میں شامل ہیں۔مسعود پزشکیان خواتین کو حجاب پہننے پر مجبور کرنے والی ایران کی اخلاقی پولیس کو غیر اخلاقی قرار دے چکے ہیں۔ایران میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ان قوانین کی کھل کر خلاف ورزی کرتی ہے۔70 سالہ مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر مخصوص کپڑے پہننا گناہ ہے تو خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اختیار کیا جانے والا یہ رویہ 100 گنا بڑا گناہ ہے۔ مذہب میں کسی کے لباس کی وجہ سے ان سے سختی کی اجازت نہیں۔مسعود پزشکیان دوسری اصلاحاتی حکومت میں صحت اور طبی تعلیم کے وزیر تھے۔وہ پانچ بار ایران کی پارلیمنٹ کے رکن اور ایک بار اس کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران مسعود پزشکیان کے وعدے سماجی انصاف، متوازن ترقی اور اصلاحات پر مرکوز رہے۔انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا کہ وہ ایک شفاف معاشی نظام تشکیل دے کر اور بدعنوانی سے لڑ کر، اقتصادی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کریں گے، اور ان کا خیال ہے کہ اقتصادی ڈھانچے میں اصلاحات کر کے اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم تیار کر کے، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بدعنوانی کو کم کرنا ممکن ہے۔انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں صحت کے نظام میں اصلاحات، طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور علاج کے اخراجات کو کم کرنا سمیت ملک میں تعلیمی حالات کو بہتر کرنے اور سکولوں اور یونیورسٹیوں کے معیار کو بڑھانے کے وعدے بھی کیے ہیں۔

اپنا ہاتھ تمام ایرانیوں کی طرف بڑھاں گا، نو منتخب صدر
تہران:6؍جولائی: مسعود پیزشکیان نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ تمام ایرانیوں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھائیں گے۔ انتہائی قدامت پسند جلیلی کے خلاف صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں فاتح قرار دیے جانے کے بعد ان کا اپنے عوام کے لیے یہ پہلا بیان ہے۔28 جون کو ایران میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں کسی بھی امیدوار کو کم از کم پچاس فیصد ووٹ نہ ملنے کے بعد پانچ جولائی کو صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد ہوا۔ ایران کی الیکشن اتھارٹی نے ہفتے کے روز دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سابق وزیر صحت پیزشکیان ڈالے گئے ووٹوں میں سے 53.7 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جب کہ ان کے مد مقابل امیدوار اور قدامت پسند سیاسی رہنما سعید جلیلی کو 44.3 فیصد ووٹ ملے۔ یاد رہے کہ جلیلی ایران کے سابق جوہری مذاکرات کار ہیں۔ ہفتے کی صبح ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر 69 سالہ پیزشکیان کی جیت کا اعلان ان کے حامیوں کی طرف سے منائے جانے والے جشن کے مناظر دکھاتے ہوئے کیا گیا۔
صدر منتخب کے اولین بیانات
انتہائی قدامت پسند سیاسی رہنما سعید جلیلی کو شکست دے کر صدر منتخب ہونے والے اصلاح پسند رہنما پیزشکیان نے اپنے پہلے بیان میں کہا، ”ہم تمام ایرانیوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔ اپنی فتح کی تقریر میں پیزشکیان نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کی ترقی کے لیے وہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ادھر جلیلی نے صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔پیزشکیان اپنے طور پر تہران حکومت اور ایرانی عوام کے درمیان اعتماد کی تجدید اور اس کی بحالی کے لیے ایک مہم چلاتے رہے ہیں۔ اس طرح ان کی کوشش ہے کہ ایسے ایرانی باشندے جو ایران میں سیاسی اور سماجی اصلاحات سے نا امید اور ملک میں سیاسی جبر اور معاشی بحران کے خاتمے کی کوششوں کو ناکام سمجھتے ہیں، انہیں مایوسی سے نکالا جائے اور حکومت پر ان کے اعتماد کو بحال کیا جائے۔ حالیہ انتخابات میں پیزشکیان کی جیت اور ووٹروں کا کم ٹرن آٹ ظاہر کرتا ہے کہ بہت سے ایرانی اپنے لیڈروں سے ناراض ہیں۔
ووٹنگ کن حالات میں ہوئی؟
ہیلی کاپٹر کے حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد ایران میں صدراتی انتخاب میں کسی بھی امیدوار کو قطعی اکثریت حاصل نہ ہونے کے سبب الیکشن کا دوسرا مرحملہ منعقد ہوا جس میں دو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار پیزشکیان اور جلیلی کے درمیان مقابلہ ہوا۔ ایرانی حکام کے مطابق دوسرے مرحلے میں ووٹنگ ٹرن آٹ تقریبا 49.8 فیصد رہا، جبکہ پہلے مرحلے میں ووٹرز ٹرن آٹ 40 فیصد رہا تھا۔
پیزشکیان کا پس منظر
مسعود پیزشکیان ایران کے شمال مغربی حصے سے تعلق رکھنے والے ایک تربیت یافتہ ہارٹ سرجن ہیں۔ وہ خلیجی جنگ کے دوران برسوں تبریز میں فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں، پیزشکیان کی اہلیہ اور ایک بیٹے کی موت ایک سڑک حادثے میں ہوئی تھی۔ وہ اپنی حالیہ انتخابی ریلیوں اکثر اپنی بیٹی اور نواسے نواسی کے ساتھ نظر آتے رہے۔ وہ سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں وزیر صحت بھی رہے۔ خاتمی کا دوسرا دور 2001 سے 2005 تک تھا۔ٹی وی مباحثوں میں پیزشکیان نے خود کو قدامت پسند سیاست دان کے طور پر پیش کیا تاہم ایک ایسا سیاستدان جو سمجھتا ہے کہ اصلاحات ضروری ہیں۔ اپنی معتدل بیان بازی کے باوجود، انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور طاقتور اسلامی انقلابی گارڈز ”پاسداران انقلاب کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے