कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسجد جمیل بیگ: فلاح و انسانیت کی خدمت کی ایک روشن مثال

ڈاکٹر مولانا عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس اورنگ آباد۔ موبائل: 9325217306

ہمارا ملک اس وقت بھی کئی سماجی و معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ کبھی وبائیں، کبھی مہنگائی، اور کبھی قدرتی آفات انسان کو بے بس اور محتاج کر دیتی ہیں۔ ایسے مشکل وقت میں جو ادارے خاموشی سے انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں، وہ دراصل اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ ہیں۔ اورنگ آباد کی معروف مسجد جمیل بیگ انہی نمایاں اداروں میں شمار ہوتی ہے، جو عبادت، تعلیم، اصلاح اور فلاحی خدمات کا ایک مثالی مرکز بن چکی ہے۔
فلاحی خدمات کا دائرہ کار:اس ادارے کی بنیاد مرحوم عبدالحلیم حشر نے رکھی تھی، جو ایک مصلح قوم اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصے لینے والے انسان تھے۔ ان کی فکر کے نتیجے میں آج مسجد جمیل بیگ کے تحت کئی اہم شعبے کامیابی سے کام کر رہے ہیں، جیسے اقراء عربی قرآن اکیڈمی، کمپیوٹر ٹریننگ سینٹر، مرکز رابطہ اسلامی شادی، اسٹوڈنٹس کیریئر گائیڈنس سینٹر۔
یہ ادارہ دینی و عصری تعلیم کے ساتھ فلاحی اور سماجی خدمات میں بھی پیش پیش ہے، جن کا دائرہ شہر اور بیرون شہر تک پھیلا ہوا ہے۔
مریضوں کے تیمارداروں کیلئے سہولیات:شہر کے مختلف اسپتالوں میں علاج کیلئے بیرون شہر سے آنے والے مریضوں کے رشتہ داروں کیلئے مسجد کے احاطے میں مرد و خواتین کیلئے علیحدہ مسافر خانے موجود ہیں۔ ان کے قیام، آرام اور دو وقت کے کھانے کا مفت انتظام کیا جاتا ہے، تاکہ تیماردار علاج پر توجہ دے سکیں، فکرِ طعام نہ کریں۔
لنگر خانہ: بلا امتیاز خدمت:مسجد کے زیر اہتمام چلنے والا لنگر خانہ روزانہ 1200 سے 1500 افراد کو دو وقت کا کھانا فراہم کرتا ہے۔ ان افراد میں ہر مذہب، ذات اور پس منظر کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ مسجد جمیل بیگ کا لنگر خانہ نہ صرف ایک سماجی خدمت ہے بلکہ مذہبی ہم آہنگی اور انسانی یکجہتی کی بہترین مثال بھی ہے۔
علماء، ائمہ و مدرسین کی کفالت: علماء انبیاء کے وارثین ہیں، جو عام طور پر مساجد و مدارس کی نہایت قلیل تنخواہ پر دین اسلام کی تعلیم و اشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ وہ باعزت طبقہ ہے جو سوال نہیں کرتا، لیکن ضرورت میں گھرا ہوتا ہے۔ لاک ڈاؤن، وبا اور معاشی بحران کے سبب مدارس کے اساتذہ، ائمہ مساجد اور خانگی تعلیم دینے والے علماء شدید مالی تنگی میں مبتلا ہو گئے تھے۔ مسجد جمیل بیگ نے ان خاموش خادموں کی کفالت کو اپنا فرض سمجھا اور ان تک ضروری مالی امداد خاموشی سے پہنچائی گئی۔اسی طرح وقتاً فوقتاً ناگفتہ حالات و مسائل کے پیش نظر اس طبقہ کی خاموش خدمت کی جاتی ہے۔
غریب میتوں کیلئے تدفینی خدمات: جب کسی غریب گھر میں میت واقع ہو، تو ادارہ کفن، دفن، ایمبولینس، کرسیاں، پانی، چائے، طعام سمیت ہر ضروری لوازمات کا بندوبست کرتا ہے، تاکہ اہلِ خانہ صرف صبر اور دعا پر توجہ دے سکیں۔ یہ خدمت بلا معاوضہ انجام دی جاتی ہے، صرف ثواب کی نیت سے۔
رمضان المبارک اور شبِ قدر میں خدمات:رمضان کے بابرکت مہینے میں، خاص طور پر آخری عشرے اور شب قدر کے دوران صدقات، زکوٰۃ اور عطیات کی شکل میں اصحابِ خیر اس ادارے کا بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ یہ عطیات مختلف فلاحی کاموں، کھانے کے نظم، طبی امداد اور تعلیمی وظائف پر خرچ کیے جاتے ہیں۔
قائدانہ وراثت: عبدالمعید حشر کی خدمات:مرحوم عبدالحلیم حشر کے صاحبزادے عبدالمعید حشر نے اپنے والد کی فلاحی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ادارے کی قیادت سنبھالی ہے۔ وہ خاموش مزاج، بے ریا اور مخلص نوجوان ہیں، جو بغیر کسی نمود و نمائش کے خدمت خلق میں سرگرم عمل ہیں۔ عبدالمعید حشر اپنی مخلص معاون ٹیم بشمول سالک حسن خان کیساتھ مسلسل، مستقل تن،من،دھن اور یکسوئی کیساتھ خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسلام اور انسانیت، ایک مشترکہ مشن:اسلامی تعلیمات کا نچوڑ انسانیت کی خدمت ہے۔ بھوکے کو کھلانا، بیمار کی تیمارداری کرنا، غریب کی مدد اور یتیم کی کفالت—یہ سب عبادت کے درجے میں آتا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے فرمایا تھا:’’اگر آپ کی عبادتیں کسی مجبور انسان کے دکھ کو محسوس نہ کرا سکیں، تو وہ عبادتیں محض رسم بن جاتی ہیں۔‘‘
مسجد جمیل بیگ میں خطابت کی تابندہ روایت: مسجد جمیل بیگ کی ایک نمایاں خصوصیت یہاں پیش کیے جانے والے پْراثر، ولولہ انگیز اور فکر انگیز خطبات ہیں۔ اس مسجد کے منبر سے خطابت کے جوہر بکھیرنے والے شعلہ بیاں مقررین کی فہرست اگرچہ طویل ہے، تاہم چند ایسے نام ہیں جن کا ذکر کیے بغیر یہ تذکرہ نامکمل رہے گا۔ ان خطباء نے اپنی شعلہ بیانی، علمی رسوخ، اور دلوں کو جھنجھوڑ دینے والے اندازِ بیان سے نوجوانوں میں ایمان، جوش، غیرت، اور عملی ولولہ پیدا کیا ہے۔ ان ممتاز علماء میں زمانہ ماضی میں مولانا سلیمان سکندر، مولانا سید سمیع اللہ حسینی ندوی، اور مولانا ضیاء الدین صدیقی، مولانا محفوظ الرحمن فاروقی، اور حافظ اقبال انصاری جیسے جید و جری مقررین شامل ہیں، جن کی باتیں صرف کانوں تک نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں تک اثر کرتی ہیں۔ ان کے خطابات، سامعین کے اذہان و قلوب کو جھنجھوڑتے، بیدار کرتے اور عمل پر آمادہ کرتے ہیں۔
خطبہ جمعہ اور حالاتِ حاضرہ پر بصیرت افروز بیانات:مسجد جمیل بیگ کی ایک منفرد خوبی یہ بھی ہے کہ شہر اورنگ آباد کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں نمازِ جمعہ شہر کے دیگر مساجد کی بہ نسبت قدرے تاخیر سے ادا کی جاتی ہے، تاکہ سفر یا کاروبار کی وجہ سے تاخیر سے پہنچنے والے افراد کی نماز فوت نہ ہونے پائے۔
جمعہ سے قبل شہر کے ممتاز علمائے کرام حالاتِ حاضرہ پر بصیرت افروز خطابات پیش کرتے ہیں، جن میں ملتِ اسلامیہ کی تعمیر، اصلاحِ امت، اتحادِ امت، اخلاقی و روحانی تربیت، تزکیۂ نفس، دین کی بنیادی تعلیمات، حقوق اللہ، حقوق العباد، اور خدمتِ انسانیت جیسے اہم موضوعات شامل ہوتے ہیں۔ بعض بیانات کے عنوانات سامعین کے دلوں پر دیرپا نقش چھوڑتے ہیں، مثلاً:’’طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے‘‘ ، ’’ایمان اور بزدلی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے‘‘، ’’خوامخواہ کسی کو چھیڑو مت، اور اگر کوئی چھیڑے تو چھوڑو مت‘‘، ’’حفاظت خود اختیاری ‘‘ اور ’’چلو ایک فرض ادا کر چکے، اب دوسرا ادا کریں۔‘‘
ایسے واضح اور حوصلہ افزا موضوعات عوام الناس میں نہ صرف دینی بیداری پیدا کرتے ہیں، بلکہ ملت کے اجتماعی شعور کو بھی جلا بخشتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں نمازِ جمعہ میں شرکت کے لیے دور دراز سے کثیر تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ مسجد کی وسعت کے باوجود جمعہ کے روز جگہ کی تنگی کا سامنا ہوتا ہے، جو اس کے اثر، مقبولیت اور روحانی کشش کامظہرہے۔
عوام الناس سے عاجزانہ اپیل: ان تمام فلاحی کاموں کی انجام دہی کیلئے مالی وسائل، وقت، محنت اور اخلاص کی شدید ضرورت رہتی ہے۔لہٰذا عوام الناس، اصحاب خیر، زکوٰۃ و صدقات دینے والے افراد سے دردمندانہ اپیل ہے کہ آپ اپنے دَم، دِرہم، سخن، زکوٰۃ، صدقات اور عطیات سے مسجد جمیل بیگ کے ان سماجی اور دینی کاموں میں دل کھول کر تعاون کریں، تاکہ آپ کا یہ تعاون صدقہ ٔ جاریہ بن جائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ثابت ہو۔
خلاصہ: ایک ادارہ، ایک کارواں:مسجد جمیل بیگ ایک ایسا درخت بن چکی ہے، جس کی شاخوں پر بھوکوں کا سہارا، غریبوں کی دعا، اور انسانیت کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ اس کارواں کو نہ حکومت کی سرپرستی ہے نہ بیرونی فنڈنگ کا سہارا، بلکہ یہ سب کچھ اللہ پر توکل اور اہلِ خیر کے جذبہ ٔایثار سے ممکن ہو رہا ہے۔
آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایسے اداروں کا تعاون کریں۔ رمضان ہو یا عام دن، یہ کارِ خیر جاری رہنا چاہیے۔ کیونکہ یہی وہ کام ہے جو دنیا میں انسان کو عزت، اور آخرت میں نجات دیتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے