कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسجد اقصی مسلسل 34 ویں روز بھی بند، مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونی جارحیت میں تیزی

مقبوضہ بیت المقدس:3؍اپریل:وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر نے گذشتہ ماہ مارچ کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سنگین خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے، جن میں شہر بدری کے احکامات، مکانات کی مسماری اور خاندانوں کی بے دخلی شامل ہے، جبکہ قابض اسرائیلی افواج نے قبلہ اول مسجد اقصی کو مسلسل 34 ویں روز بھی نمازیوں کے لیے بند رکھا۔قابض اسرائیلی پولیس نے القدس اور پرانے شہر (اولڈ سٹی) کے گردونواح میں اپنے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کر کے فوجی اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے، جبکہ فلسطینیوں کے مسجد اقصی میں داخلے پر ظالمانہ پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔اسی کے متوازی نام نہاد ہیکل سلیمانی کی تنظیموں نے اپنی شرانگیز سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور 2 سے 9 اپریل سنہ 2026 تک جاری رہنے والی عبرانی عید الفصح کے دوران مسجد اقصی پر بڑے پیمانے پر دھاوے بولنے اور وہاں جانوروں کی قربانی سمیت مذہبی رسومات کی ادائیگی کی اپیلیں کی ہیں۔یہ تمام تر تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب 28 فروری سنہ 2026 کو ایران پر شروع ہونے والی اسرائیلی و امریکی جارحیت کے بعد سے مسجد اقصی کو بند کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی ماہ رمضان کے اکثر ایام اور عید الفطر کی نمازوں کی ادائیگی سے محروم رہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر فلسطینی حلقوں نے القدس اور اندرون ملک کے باسیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد اقصی کی جانب رخت سفر باندھیں اور بندش کی پالیسی کے خلاف احتجاجا قریب ترین ممکنہ مقامات پر نمازیں ادا کریں۔اس حوالے سے وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر نے نشاندہی کی ہے کہ ہیکل کی تنظیموں نے اپنی اشتہاری مہم میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے ایسی تصاویر پھیلائی ہیں جن میں مسجد اقصی کے اندر توراتی قربان گاہ اور ضیافتوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔مرکز نے گذشتہ ماہ مارچ کے دوران قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے القدس سے بے دخلی کے تقریبا 60 احکامات جاری کیے جانے کا ریکارڈ بھی جمع کیا ہے، جن کا نشانہ مسجد اقصی، قدیم شہر اور اس کے گردونواح کو بنایا گیا اور ان کی مدت ایک ہفتے سے 6 ماہ تک ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ کے دوران القدس اور اس کے مضافات بشمول جبل المکبر، بیت لحم اور قلندیا پناہ گزین کیمپ میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے چار فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔گھروں کی مسماری اور نسل کشی کی پالیسی کے تحت، قابض حکام نے سلوان کے علاقے بطن الہوی میں 15 رہائشی اپارٹمنٹس خالی کروا لیے جس کے نتیجے میں 90 فلسطینی بے گھر ہو گئے، جبکہ سلوان، صور باھر اور ام طوبا کے علاقوں میں مزید 12 تنصیبات کو مسمار کر کے 40 دیگر افراد کو دربدر کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ شعفاط کیمپ میں شہدا کی یادگار کو بھی منہدم کر دیا گیا۔گرفتاریوں کے محاذ پر، قابض اسرائیلی افواج نے القدس میں اپنی روزانہ کی مہم جاری رکھی جس میں بچوں، خواتین، معمر افراد اور مغربی کنارے کے شناختی کارڈ رکھنے والوں کو نشانہ بنایا گیا۔ گرفتار شدگان کی تعداد 330 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے چار نوجوانوں کو انتظامی حراست میں منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے ایک محکمہ اسلامی اوقاف کا ملازم ہے۔گذشتہ ماہ کے دوران تقریبا 10 آباد کاروں نے مسجد اقصی کے قریب دو بکریوں کی قربانی دینے کی کوشش بھی کی، جنہیں بعد ازاں پولیس نے روک کر جانور قبضے میں لے لیے۔اسی دوران، قابض اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے آباد کاروں کو مسلح کرنے کی پالیسی میں توسیع کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب القدس کے 41 یہودی محلوں کے مکین بھی شامل ہوں گے۔ اس اقدام سے اسلحہ رکھنے کے اہل اسرائیلیوں کی تعداد تقریبا 3 لاکھ تک پہنچ جائے گی، جو شہر کے سکیورٹی منظر نامے میں ایک انتہائی خطرناک اشتعال انگیزی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے