कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محرم الحرام میں روزہ رکھنے کی فضیلت

مضمون نگار :رضی اللہ قاسمی خیرآبادی (سیتاپور یوپی) شریک شعبہؑ افتاء دارالعلوم وقف دیوبند
9415309707

محترم قارئین ! یہ محرم الحرام کا مہینہ چل ہے،جو بہت ہی عظمت والا مہینہ ہے ،اس مہینے میں بعض حضرات روزہ رکھتے اور بعض حضرات اس سے غفلت برتتے ہیں اور اسکی فضیلت سے محروم رہتے ہیں ، اس مناسبت سے بندہ نے یہ تحریر لکھی تاکہ اس ماہ کے روزوں کی فضیلت سب کے سامنے واضح ہوجائے ۔
دوستو! محرم الحرام کا مہینہ بڑی ہی عظمت والا اور قابلِ احترام مہینہ ہے ، اس مہینے کو "شھراللہ یعنی اللہ تعالی کا مہینہ” قرار دیا گیا ہے ،زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ اس کا احترام کیا کرتے تھے،اور اسلام آنے کے بعد بھی وہ حرمت باقی رہے ، اللہ تبارک و تعالی نے قرآنِ کریم میں جن چار مہینوں کی حرمت بیان کی ہے ان میں سے ایک یہی ماہ محرم الحرام کا مہینہ ہے، اس پورے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے جیساکہ مسلم شریف کی روایت میں ہے
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «أفضل الصيام بعد رمضان: شهر الله المحرم وأفضل الصلاة بعد الفريضة:صلاة الليل» (مسلم: کتاب الصیام: باب فضل صوم المحرم؛۱۱۶۳)
(حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :افضل ترین روزے رمضان کے  بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض نماز کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے یعنی تہجد کی)
اسی طرح ایک دوسری روایت میں ہے "کہ جو شخص محرم میں ایک روزہ رکھے گا اس کو ہر روزہ کے بدلے تیس روزوں کا ثواب ملے”
حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے ایک آدمی نے عرض کیا: ” اے اللہ کے رسولؐ! اگر رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں، میں روزے رکھنا چاہوں تو آپؐ کس مہینے کے روزے میرے لئے تجویز فرمائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھنا چاہے تو محرم کے مہینے میں روزے رکھنا ،کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ایسا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور ایک قوم کی توبہ (آئندہ بھی) قبول فرمائیں گے۔” (ترمذی: کتاب الصوم، باب ماجاء فی صوم المحرم ؛ ۷۴۱)
_______
یومِ عاشوراء کی فضیلت

واضح رہے کہ ‘عاشوراء ‘ عشر سے بنا ہے، جس کا معنی ہے دس ۱۰ ؛ اسی وجی سے محرم کی دسویں تاریخ کو عاشوراء کہا جاتا ہے۔
رمضان کے روزوں سے پہلے اس دن کا روزہ فرض تھا جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے :
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ”قریش کے لوگ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے اور نبی اکرم ﷺ بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپؐ مدینہ تشریف لے آئے تب بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا آپؐ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضیت ختم ہوگئی۔ لہٰذا اب جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔” (بخاری: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشورا ؛۲۰۰۳/ مسلم: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء ؛۱۱۲۵)
اس روایت سے پتہ چلا کہ یوم عاشوراء کا روزہ نفل ہے لیکن بہت فضیلت کا حامل ہے،اس لئے اس فضیلت سے محروم نہیں ہونا چاہئے
حضرت ابو قتادہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وصيام يوم عاشوراء أحتسب علی الله أن يکفر السنة التي قبله» ” مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔” (مسلم : کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام؛ ۱۱۶۲)
اسی طرح بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت منقول ہے کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو اہل کتاب کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے پایا ، جب اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس دن بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معیت میں فرعون کے ظلم سے نجات پائی تھی اور فرعون مع اپنے ساتھیوں کے دریائے نیل میں غرق ہوا ، اس لیے بطور شکرانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا ، حضورﷺ نے فرمایا پھر ہم اس کے تم سے زیادہ حق دار اور حضرت موسیٰ ؑ کے زیادہ قریب ہیں کہ ہم بھی روزہ رکھیں
لہزا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا،
اللہ کے رسولؐ نے جب دسویں محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ
”اے اللہ کے رسولؐ! اس دن کو یہود و نصاریٰ بھی بڑی تعظیم و اہمیت دیتے ہیں،اور روزہ رکھتے ہیں (یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ آپؐ تو ہمیں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیتے ہیں اور یوم عاشوراء کے معاملہ میں تو ان کی موافقت ہورہی ہے۔) تو آپؐ نے فرمایا کہ «فإذا کان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع» آئندہ سال اگر اللہ نے چاہا تو ہم نویں تاریخ کو روزہ رکھیں گے۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اگلا سال آنے سے پہلے اللہ کے رسولؐ انتقال فرما گئے۔” (مسلم؛۱۱۳۴)

ان تمام روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یوم عاشوراء کی روزہ کی بڑی فضیلت ہے ،البتہ فقہاء نے عاشورہ کے ساتھ ساتھ نو محرم کے روزہ کو مستحب قرار دیا ہے اور  مشابہتِ یہود کی بنا پر صرف عاشوراء کا روزہ رکھنے کو مکروہِ  تنزیہی قرار دیا ہے، لہٰذا دس محرم کے روزے کے ساتھ نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی رکھنا چاہیے۔
لیکن اس معاملہ میں شدت کی ضرورت نہیں ہے
اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

📝رضی اللہ قاسمی خیرآبادی
١٢ جولائی 2024ء ،٥ محرم الحرام ١٤٤٦ بروز جمعہ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے