कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محرم الحرام: تجدیدِ عہدِ وفا کا مہینہ

از قلم: مولانا فضیل اختر قاسمی بھیروی

محرم الحرام کا ماہِ مبارک اسلامی تقویم کا نقطۂ آغاز ہے، مگر یہ صرف ایک تقویمی ترتیب نہیں، بلکہ ایک فکری بیداری، روحانی انقلاب، اور ایمانی تجدید کا موسمِ نو ہے، جو اپنے دامن میں تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی، بےمثال استقامت، اور حق و صداقت کے لیے بےجگری سے لڑنے کا جذبہ لیے ہوئے ہے۔ اس مہینے کی فضیلت، تقدیس اور روحانی حلاوت صرف اس بات میں نہیں کہ یہ حرمت والا مہینہ ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ضمیرِ انسانی کو جھنجھوڑا، جگرِ انسانیت کو تڑپایا، اور اہلِ حق کو ابدی سبق عطا کیا۔
جب یزید کا ظلم و جبر اور فرعون جیسا غرور اپنے پورے زور پر تھا ، تب حسین بن علیؓ اور ان کے جاں نثار رفقاء نے میدانِ کربلا میں حق کی سربلندی، دینِ محمدی کے تحفظ، اور شریعتِ مصطفوی کی اصل روح کو باقی رکھنے کی خاطر وہ قربانی پیش کی جو رہتی دنیا تک حریت، دیانت، استقامت، عزیمت، فداکاری، صبر و رضا اور حق پرستی کی عظیم الشان تمثیل بن گئی۔
کربلا کوئی محض رقت انگیز سانحہ نہیں، بلکہ یہ ایک متوازن فکری تسلسل، مجسم عملی تمثیل اور کامل ایمانی شعور کا آئینہ دار ہے۔ حسینیت صرف ایک فردِ واحد کی داستانِ ایثار و فدا نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر مکتبِ عمل، کامل نظامِ حیات اور صداقت و استقامت کا روشن منہج ہے، جس کا ہر ورق تسلیم و انقیاد، توکل و توقیر، ایثار و تقویٰ، حریت و شجاعت، اور عزیمت و حقانیت سے معطر و معمور ہے۔
محرم الحرام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ دین فقط نعرے اور جذبات کا نام نہیں، بلکہ جانثاری، اصول پسندی اور باطل کے خلاف قیام کا متقاضی ہے۔ اگر یزید کے پاس سلطنت، عسکری قوت، ظاہری غلبہ اور سیاسی تدبیر تھی، تو حسینؓ کے پاس ایمان کا یقین، توکل کی عظمت، اور اللہ پر کامل اعتماد تھا۔ حسینؓ نے دنیا کو سکھا دیا کہ اگر دین کی بقا کا سوال ہو، تو تنہا بھی ہو کر ظلم و جبر کے ایوانوں کو لرزایا جا سکتا ہے۔
عاشوراء، فقط ماتم کا دن نہیں بلکہ بصیرت کا لمحہ، عمل کی پکار، ضمیر کی بیداری، اور سچائی کی فتح کا دن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کربلا کے اس ہمہ گیر پیغام کو صرف مجالس و تعزیہ کی نذر نہ کریں، بلکہ اسے اپنے دل و دماغ، فکر و عمل، اور انفرادی و اجتماعی زندگی کا جزوِ لاینفک بنائیں۔
کیا ہم نے کبھی اپنی زندگی میں یہ غور کیا ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟ کیا ہم نے اپنے اندر وہ حسینی جرأت، عزیمت، صداقت اور وفا شعاری پیدا کی ہے جو باطل کے طوفان کے آگے بند باندھ سکے؟ اگر نہیں، تو محرم الحرام کا مہینہ ہمیں خود احتسابی، محاسبۂ نفس، اور رجوع الی اللہ کی دعوت دے رہا ہے۔
محرم الحرام ہمیں اس بات پر بھی متنبہ کرتا ہے کہ امت میں جب تفرقہ، انتشار، جمود، مادیت پرستی اور اقتدار کی ہوس بڑھ جائے تو ضروری ہے کہ کوئی حسین اٹھے، جو امت کو اس فکری زوال سے نکال کر روحانی عروج کی راہ دکھائے۔ حسین بن علیؓ کا قیام محض سیاسی یا نسبی تحفظ کی کوشش نہ تھی، بلکہ وہ ایک عقیدۂ توحید، مقامِ رسالت، اور حرمتِ شریعت کی حفاظت تھی۔
آج کے دور میں جب ظلم، جبر، کرپشن، دین سے بیزاری، اور فکری غلامی عام ہو چکی ہے، تو ضروری ہے کہ ہم محرم الحرام کے پیغام کو صرف منانے کی بجائے اپنانے کا عزم کریں۔ یہ عزم فقط جذباتی وابستگی سے نہیں آئے گا، بلکہ علمی شعور، فکری پختگی، اور عملی صداقت سے آئے گا۔
پس آیئے! اس محرم الحرام میں ہم نہ صرف اپنے جذبات کو حسینیت کے رنگ میں رنگیں، بلکہ اپنے کردار کو بھی اسی روش پر استوار کریں۔ دین کے لیے جینا، دین کے لیے بولنا، دین کے لیے کھڑے ہونا، یہی اصل وفا کا تقاضا ہے۔
محرم الحرام ہمیں صبر بھی سکھاتا ہے اور قیام بھی؛ آنکھ میں آنسو بھی دیتا ہے اور دل میں عزم بھی؛ زبان پر دعا بھی رکھتا ہے اور ہاتھ میں شمشیرِ حق بھی۔ یہی حسینیت ہے، یہی اسلام کی روح، اور یہی ہماری نجات کا راستہ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے