कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

محبتِ رسول ﷺ :زبانی دعوؤں سے عملی تقاضوں تک

از قلم : مولانا سید آصف ندوی
(امام و خطیب مسجد غنی پورہ، ناندیڑ)
(موبائل : 9892794952 )

ماہِ ربیع الاول کا ہلال نمودار ہوتے ہی اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک خاص سی چمک اترتی ہے۔ فضاؤں میں محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے۔ گلی کوچے، بازار اور محلّے محفلِ میلاد، جلسوں، جلوسوں اور نعتوں کی صداؤں سے گونجنے لگتے ہیں۔ مدارس و مکاتب میں سیرت النبی ﷺ کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں، اسکولوں اور کالجز میں سیرت النبی کوئیز کومپیٹیشن منعقد کئے جاتے ہیں ، انعامات تقسیم ہوتے ہیں، جگہ جگہ چراغاں ہوتا ہے، اور مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں۔ بلاشبہ یہ اجتماعات اگر اعتدال اور شریعت کے دائرے میں رہ کر منعقد کیے جائیں تو اپنی جگہ ایک نیک جذبے کی عکاسی کرتے ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف یہ چند رسمی مظاہر ہیں؟ کیا سچی محبت اسی کا نام ہے کہ ہم زبان سے دعوے کریں، لیکن عمل ہماری زندگیوں میں جھلکتا ہوا دکھائی نہ دے؟
یقیناً نہیں! محبت ایک دلی کیفیت ہے جو محض زبان یا چند رسمی مظاہروں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ انسان کی پوری زندگی میں اس کے اثرات جھلکتے ہیں۔ محبتِ رسول ﷺ کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہمارا ایمان، ہماری عبادت، ہمارے اخلاق اور ہمارا طرزِ زندگی سب کچھ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا آئینہ دار ہو۔ جو دل رسولِ کریم ﷺ کی محبت میں سرشار ہو، اس کی زندگی کا ہر لمحہ اطاعت و اتباع میں ڈھل جاتا ہے۔ محبت کا دعویٰ اُس وقت سچا ثابت ہوتا ہے جب انسان اپنے محبوب کی ہر بات کو دل و جان سے قبول کرے اور اپنی خواہشات کو اس کے حکم کے تابع کر دے۔ اگر ہماری نمازیں نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق نہیں، اگر ہمارے معاملات میں جھوٹ، فریب اور بے ایمانی ہے، اگر ہماری زبان گالی اور غیبت سے آلودہ ہے، اگر ہمارے دلوں میں کینہ اور حسد کی آگ بھری ہے، تو پھر محض جلسوں میں نعرے لگانے اور جلوس نکالنے سے محبتِ رسول ﷺ کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم نے محبتِ رسول ﷺ کا اصل معیار بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰه ُ ُ یعنی (اے نبی ﷺ!) آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا۔ یہاں ہمیں محبت کا اصل راز سمجھایا گیا ہے کہ دعویٰ نہیں بلکہ اتباع! اصل محبت وہ ہے جو عمل میں جھلک جائے۔
ربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانے کا پیغام نہیں دیتا بلکہ یہ مہینہ ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ہم اپنے دل و جان کو محبتِ رسول ﷺ کے نور سے بھر لیں اور اپنی زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کے سانچے میں ڈھال لیں۔ یہی حقیقی محبت ہے اور یہی وہ محبت ہے جو دنیا و آخرت میں ہمارے لیے کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہر سچی محبت اپنے اندر اخلاص و وفا کے چراغ روشن رکھتی ہے۔ محض زبانی دعوے اور کھوکھلے کلمات کو محبت کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جس دل میں محبت کی آگ جلتی ہے، اس کی زندگی میں اس کے آثار اور جلوے ضرور نمایاں ہوتے ہیں۔ چنانچہ محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے بھی یہ حقیقت ایک کسوٹی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ سے سچی محبت اسی وقت معتبر مانی جائے گی جب اس کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم غور کریں کہ محبتِ رسول ﷺ کے یہ تقاضے کیا ہیں۔ چنانچہ ہم آگے ان تقاضوں کو ذکر کرتے ہیں تاکہ ان کے آئینے میںہم اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پرکھ سکیں کہ ہمارا دعویٰ کس حد تک حقیقت سے قریب ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کے تقاضے
۱۔ محبتِ رسول ﷺ کا پہلا تقاضا: اتباعِ سنت
محبتِ رسول ﷺ کا سب سے بڑا تقاضا اتباعِ سنت ہے۔ جو شخص زبان سے محبت کا دم بھرتا ہے مگر عملی زندگی میں سنتِ رسول ﷺ کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، بلکہ اسے معمولی سمجھ کر یوں کہتا ہے کہ "یہ تو بس سنت ہے”، وہ حقیقت میں محبت کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔ محبت کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو حضور ﷺ کی سنت کے سانچے میں ڈھالیں۔ لباس، کھانے پینے، معاملات، عبادات، اخلاق — ہر شعبے میں آپ ﷺ کی راہ اپنائیں۔
محبتِ رسول ﷺ کی اصل پہچان یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سنت کو زینت بنائیں، رسول اللہ ﷺ کی اخلاقی عظمت کو اپنائیں، سچائی، عدل، عفو و درگزر، ایثار اور خدمتِ خلق جیسی صفات کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دیں۔ جو زبان رسول اللہ ﷺ کے ذکر میں تر ہے اس زبان کو جھوٹ اور غیبت سے پاک ہونا چاہیے۔ جو ہاتھ نعت کے اشعار پر اٹھتے ہیں، وہی ہاتھ کمزوروں کی مدد اور یتیموں کے سہارے کے لیے بڑھنے چاہئیں۔
اس حقیقت پر روشنی ڈالنے والا ایک نہایت سبق آموز واقعہ ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فارسی کے مشہور شاعر مرزا قتیل (بے دِل) نے ایک عارفانہ نظم کہی جو ایران پہنچی۔ وہاں ایک صاحب اس نظم سے متاثر ہو کر ہندوستان مرزا صاحب کی زیارت کے لیے آئے۔ دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ مرزا صاحب حجام کے پاس بیٹھے داڑھی منڈوا رہے ہیں۔ ان صاحب نے بے اختیار کہا: "آغا! ریش می‌تراشی؟” (جناب! آپ بھی داڑھی منڈواتے ہیں؟) مرزا صاحب نے شوخی سے جواب دیا: "بلے! ریش می تراشم، دل کسے نمی تراشم” (ہاں، داڑھی تو منڈواتا ہوں، مگر کسی کا دل نہیں دکھاتا۔) یہ سن کر وہ صاحب، جو دردمند دل رکھتے تھے، نہایت عاجزی سے بولے: "آپ دل تو نہیں دُکھاتے مگر سنتِ رسول ﷺ کو کاٹ کر آپ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو ضرور زخمی کرتے ہیں۔” یہ جملہ مرزا بے دل کے دل پر بجلی بن کر نہیں بلکہ ابرِ رحمت بن کر گرا۔ شرمندگی اور ندامت نے ان کے قلب کو گھیر لیا، اور فوراً توبہ کرتے ہوئے کہا:
جزاک اللہ چشمم باز کردی
مرا با جانِ جاں ہم راز کردی
(اللہ تمہیں جزائے خیر دے، تم نے میری آنکھیں کھول دیں اور مجھے محبوبِ حقیقی سے باخبر کر دیا۔)
ایک جملے نے ان کی زندگی بدل ڈالی، دل کی دنیا کو زیر و زبر کر دیا، اور انہیں اتباعِ سنت کی لذت سے آشنا کر دیا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ محض زبان کا ترانہ نہیں بلکہ عملی زندگی کا عنوان ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے محبوب ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر ہماری زندگی میں جھوٹ، غیبت، بہتان، چغلی، حسد، دھوکہ، وعدہ خلافی اور بددیانتی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ افسوس کہ آج ہمارے اعمال کی گٹھری میں یہی سب کچھ بھرا ہوا ہے۔ نہ امر بالمعروف کا جذبہ، نہ نہی عن المنکر کی فکر، نہ حقوق اللہ کی ادائیگی اور نہ ہی حقوق العباد کی پاسداری۔ علامہ اقبال نے ہمارے اسی زوال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا:
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں یہود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں ہنود
یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟
لہٰذا ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہمارے اعمال حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیے جائیں تو کیا ہم شرمندہ نہ ہوں گے؟ محبتِ رسول ﷺ کا سچا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہماری زبان کے دعوے اور ہمارے اعمال کا کردار ایک دوسرے کی تصدیق کریں، نہ کہ ایک دوسرے کی تکذیب۔
۲۔ محبتِ رسول ﷺ کا دوسرا تقاضا: اطاعتِ احکام
محبتِ رسول ﷺ کا پہلا تقاضا اتباعِ سنت ہے، جس کی وضاحت ہم نے کی کہ سنت کو اپنانا ہی عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی سچی دلیل ہے۔ لیکن محبتِ رسول ﷺ کا دوسرا اہم اور بنیادی تقاضا اطاعتِ احکام ہے۔ اطاعتِ احکام کا مطلب یہ ہے کہ جو دین اور شریعت اللہ کے رسول ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کو دل سے تسلیم کیا جائے اور عملی زندگی میں اس پر عمل کیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے جس چیز کو حلال قرار دیا، ہم اس کو حلال مانیں اور اختیار کریں، اور جسے حرام فرمایا، اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی فکر کریں۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جس سے محبت کا دعویٰ حقیقت کا جامہ پہنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف الفاظ میں فرمایا: "وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر: 7)۔ "جو کچھ رسول ﷺ تمہیں عطا کریں اسے لے لو، اور جس سے روکیں، رک جاؤ۔” یہی دراصل اطاعتِ احکام ہے۔ لیکن افسوس! آج ہمارے معاشرے میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ زبان سے محبتِ رسول ﷺ کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر عملی زندگی میں رسول اکرم ﷺ کے لائے ہوئے دین کی پیروی کم ہی نظر آتی ہے۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کی خاطر دین کے واضح احکام کو پامال کرتے ہیں۔ رشوت کے بارے میں صاف اور واضح ممانعت موجود ہے، لیکن آج رشوت کا لینا دینا ہمارے اداروں اور کاروباروں کا عام دستور بن چکا ہے، اسی طرح سود کے بارے میں قرآن نے اعلانِ جنگ کیا ہے، مگر ہم اپنے مفاد اور آسائش کے لیے بلا جھجک سودی لین دین میں ملوث رہتے ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ، فریب، ناپ تول میں کمی، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت اور بے حیائی جیسے گناہ کھلے عام ہماری زندگیوں میں شامل ہیں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ محبتِ رسول ﷺ کے نعرے لگا کر ہم بخشش کے مستحق ہو جائیں گے۔یہ سوچ سراسر فریب اور دھوکہ ہے۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کے ہر فرمان کو دل و جان سے قبول کیا جائے۔ اگر ہم نبی اکرم ﷺ کو واقعی اپنا محبوب مانتے ہیں تو پھر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر شریعت کے احکام کو توڑنے کی جسارت نہیں کر سکتے۔
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: "لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعاً لما جئت به”(مشکوٰۃ)۔ "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہو جائے۔” یعنی محبتِ رسول ﷺ اور ایمان کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب ہماری خواہشات، ہمارے معاملات اور ہمارے فیصلے دین کے تابع ہوں، نہ کہ دین کو ہم اپنی خواہشات اور مفادات کے تابع کر لیں۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا اطاعتِ احکام ہے۔ جس نے اس تقاضے کو پورا کیا، وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہے۔ اور جو شخص زبان سے محبت کے نعرے تو لگائے مگر رسول اللہ ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کرے، وہ حقیقت میں محبت کے امتحان میں ناکام ہے۔ یعنی محبت اور ایمان کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب ہماری خواہشات، مفادات اور معاملات سب دین کے تابع ہوں۔
یہ جذبہ ہمیں صحابہ کرام کی زندگیوں میں بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ اطاعتِ رسول ﷺ کا ایک مؤثر واقعہ سیدنا حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں خیبر کے یہودیوں سے پیداوار کی تقسیم کے لیے بھیجا۔ یہودیوں نے ان کے سامنے رشوت کے طور پر اپنی عورتوں کے زیورات رکھ دیے اور کہا: "یہ سب کچھ تمہارا ہے، بس تقسیم میں نرمی برت دینا۔” حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ غصے میں بھر گئے اور فرمایا: "اے یہودیو! اللہ کی قسم! تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض ہو، لیکن چونکہ تم پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم نافذ ہے، اس لیے میں عدل ہی کروں گا۔ تم جو یہ رشوت دینا چاہتے ہو، یہ حرام ہے، اور ہمیں حرام کے ذریعے کبھی خریدا نہیں جا سکتا۔” یہ سن کر یہودیوں نے کہا: "اسی عدل و دیانت کی بنیاد پر ہی یہ زمین و آسمان قائم ہیں”۔ یہ ہے حقیقی محبتِ رسول ﷺ! نہ مفاد کی پرواہ، نہ کسی دباؤ کی فکر، صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی پیروی۔ لہٰذا ربیع الاول کے اس مبارک مہینے میں ہمیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچنا ہوگا کہ کیا ہماری زندگی اطاعتِ رسول ﷺ کی آئینہ دار ہے؟ کیا ہمارے معاملات سود و رشوت سے پاک ہیں؟ کیا ہماری زبان جھوٹ اور غیبت سے محفوظ ہے؟ کیا ہمارے کاروبار میں دیانت داری ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں اپنی زندگیوں کو بدلنا ہوگا، کیونکہ یہی سچی محبت کا تقاضا ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا اصل تقاضا اطاعتِ احکام ہے۔ جو شخص اس پر قائم رہا، وہی دنیا میں عزت پائے گا اور آخرت میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا مستحق ہوگا۔
۳۔ محبتِ رسول ﷺ کا تیسرا تقاضا: حسنِ اخلاق
محبتِ رسول ﷺ کا پہلا تقاضا اتباعِ سنت اور دوسرا اطاعتِ احکام ہے، لیکن ان دونوں کے ساتھ محبت کا تیسرا اہم تقاضاحسنِ اخلاق ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: خِیارُکُم خِیارُکُم لِأَهلِهِ، وأنا خِیارُکم لِأَهْلِي(ترمذی)۔ "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو، اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہوں۔” ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: "إنَّ مِن أحبِّكُم إليَّ، وأقرَبِكُم منِّي مجلسًا يومَ القيامةِ، أحاسِنَكُم أخلاقًا” (ترمذی)۔ "تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور قیامت کے دن میرے قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔” یہ احادیث صاف بتاتی ہیں کہ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں، بازاروں میں، اور تمام سماجی تعلقات میں بہترین اخلاق کے مظاہرہ کریں، غصے کو قابو میں رکھیں، نرمی اور خوش اخلاقی اپنائیں، اور دوسروں کے لیے سراپا رحمت بنیں۔
مگر افسوس کہ آج کے دور میں مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے۔ جھوٹ، فریب، غصہ، بداخلاقی اور عدم برداشت ہمارے معاشرتی رویوں کی پہچان بنتے جا رہے ہیں۔ بہت سے غیر مسلم اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور دل سے اسلام کو قبول کرنا چاہتے ہیں، مگر جب مسلمانوں کے اخلاق اور معاملات دیکھتے ہیں تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یوں ہم اپنے عمل سے اسلام کے خوبصورت پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ کے حسنِ اخلاق کے بے شمار واقعات تاریخ میں موجود ہیں۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ نبی کریم ﷺ مدینہ کی گلی سے گزر رہے تھے، ایک یہودی عورت روزانہ آپ ﷺ پر کوڑا پھینکتی تھی۔ ایک دن جب آپ گزرے اور کچھ نہ آیا تو آپ رک گئے اور اس کے گھر جا پہنچے۔ معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عیادت کی بلکہ نرمی سے اس کے لیے دعا بھی فرمائی۔ عورت یہ منظر دیکھ کر ششدر رہ گئی اور پکار اٹھی کہ: "یہ اخلاق کسی عام انسان کے نہیں ہو سکتے، یہ اخلاق ایک سچے نبی کے ہی ہو سکتے ہیں!” اور اسی وقت اسلام لے آئی۔
اسی طرح ایک اور واقعہ میں آتا ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد نبوی ﷺ میں کھڑے ہو کر بدتمیزی کی، صحابہ کرامؓ غصے سے اٹھے کہ اسے روکیں، مگر حضور ﷺ نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو۔” پھر بڑے سکون سے اسے سمجھایا اور نرمی کے ساتھ رہنمائی فرمائی۔ وہ شخص آپ ﷺ کی اخلاقی عظمت سے اتنا متاثر ہوا کہ کہنے لگا: "یا رسول اللہ! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو اچھے اخلاق والا نہیں پایا۔” یہ ہیں وہ اخلاق جنہوں نے پتھر دلوں کو موم کر دیا اور دشمنوں کو دوست بنا دیا۔
آج اگر ہم سچے عاشقانِ رسول ﷺ ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں، گھروں میں نرمی اور محبت پیدا کریں، بازاروں میں ایمانداری اور دیانت داری اختیار کریں، اور سماجی تعلقات میں عفو و درگزر اور خوش اخلاقی کو اپنائیں۔ یہی وہ حسنِ اخلاق ہے جو محبتِ رسول ﷺ کے دعوے کو حقیقت بناتا ہے اور دوسروں کو بھی اسلام کی طرف مائل کرتا ہے۔
۴۔ محبت رسول ﷺ کا چوتھا تقاضا : خدمتِ خلق
محبتِ رسول ﷺ کا چوتھا اہم تقاضا خدمتِ خلق ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی انسانیت کی خدمت اور دوسروں کے لیے ایثار و قربانی کا عملی نمونہ تھی۔ قرآن نے آپ ﷺ کو "رحمت للعالمین” کہا ہے۔ آپ کی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں، یتیموں، بیواؤں، اور محتاجوں کی مدد کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: خَیْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ۔ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔”
آپ ﷺ یتیموں پر خاص شفقت فرماتے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور اس کے دل کو خوش کرنے کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں پھرتے اور ضرورت مندوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی مدد کرتے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قحط کے زمانے میں اپنا قافلہ عام لوگوں میں صدقہ کر دیا۔
یہ سب تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اگر ہم رسول اللہ ﷺ سے حقیقی محبت کا دم بھرتے ہیں تو ہمیں اپنے ارد گرد بسنے والے ضرورت مندوں کی خبر گیری کرنی ہوگی۔ یہ خدمت صرف مادی یا مالی نہیں بلکہ اخلاقی، تعلیمی اور سماجی تعاون بھی شامل ہے۔
۵۔ محبت رسول ﷺ کا پانچواں تقاضا : دین کی غیرت و حمیت
محبتِ رسول ﷺ کا ایک اہم اور بنیادی تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلمان دین کے معاملے میں غیرت و حمیت رکھے۔ دین کی حرمت، اس کے احکام، اور اس کے شعائر کی حفاظت کے لیے سینہ سپر رہے، اور کسی بھی باطل قوت یا دباؤ کے آگے جھکنے والا نہ ہو۔ جس کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت ہوگی، وہ دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال، وقت اور آرام سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوگا۔
نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اس غیرتِ ایمانی کا عملی نمونہ ہے۔ آپ نے دین کی سربلندی کے لیے مکہ کے سخت اور کڑے حالات برداشت کیے، قریش کے ظلم و جبر کے باوجود دین کے معاملے میں ذرہ برابر نرمی نہ دکھائی۔ شعبِ ابی طالب کی بھوک اور پیاس، طائف کی گلیوں میں پتھر کھاکر لہولہان ہونا، ہجرت کی کٹھنائیوں کو سہنا —یہ سب اسی غیرتِ دینی اور دینِ حق کی حفاظت کی روشن مثالیں ہیں۔ آپ ﷺ نے اس راہ میں نہ صرف اپنی ذات کو پیش کیا بلکہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی دین کی خاطر قربان ہونے کے لیے تیار کیا۔
اسی طرح صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں بھی غیرتِ ایمانی کی تابناک داستانوں سے بھری ہوئی ہیں۔ سیدنا بلال حبشیؓ کو دہکتے کوئلوں پر لٹایا گیا، سینے پر بھاری پتھر رکھے گئے، مگر وہ اپنی غیرتِ دینی کے ساتھ کلمۂ توحید پر جمے رہے اور "اَحَدٌ اَحَدٌ” کی صدائیں بلند کرتے رہے۔ سیدنا خباب بن ارتؓ کو آگ پر لٹایا گیا، مگر انہوں نے دین کی خاطر صبر کیا اور ہمت نہ ہاری۔ سیدنا مصعب بن عمیرؓ نے دنیا کی ساری آسائشیں چھوڑ کر دین کی خاطر مدینہ کی گلیوں میں دعوتِ اسلام کا پرچم بلند کیا اور جنگ اُحد میں جامِ شہادت نوش کیا۔
دین کی غیرت و حمیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان دین کے کسی حکم کو پامال ہوتے دیکھ کر بے غیرت اور خاموش نہ بنے، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کے دفاع کے لیے کھڑا ہو۔ یہ غیرت کبھی انتہا پسندی یا ناسمجھی کے نام پر نہیں، بلکہ حکمت، ثابت قدمی اور قربانی کے جذبے کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جو قوم دین کی غیرت کے بغیر زندہ رہتی ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنا تشخص کھو دیتی ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا یہ تقاضا ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ہم بھی اپنی زندگیوں میں دین کی عظمت کو مقدم رکھیں۔ جب بھی دین کے خلاف سازشیں ہوں، جب بھی اس کے شعائر کی توہین کی جائے، جب بھی اس کی اقدار کو پامال کرنے کی کوشش کی جائے، تو ہم خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ اپنی زبان، اپنے قلم، اپنے عمل اور اگر ضرورت ہو تو اپنی جان سے بھی دین کے دفاع کے لیے کھڑے ہوں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا اور صحابہ کرامؓ نے اپنی زندگیاں قربان کرکے اس کا عملی مظاہرہ کیا۔
ربیع الاول کا یہ مہینہ ہمیں صرف جشن منانے یا ظاہری اظہار کا درس نہیں دیتا بلکہ ہمیں اصل محبت کی طرف بلاتا ہے۔ اصل محبت یہ ہے کہ:
* ہم حضور ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔
* ہم اپنے گھروں کو آپ ﷺ کے اخلاق سے روشن کریں۔
* ہم اپنے معاملات کو دیانت و صداقت سے سنواریں۔
* ہم دین کو محض جلسوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں اتاریں۔
اگر ہم نے یہ کر لیا تو یقیناً ہم سچے محبّ رسول ﷺ بن جائیں گے، ورنہ صرف دعوے اور نعرے ہماری بخشش کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ محبت نبوی ﷺ کا حقیقی امتحان ہمارے اعمال میں ہے، نہ کہ صرف الفاظ میں۔ آئیے اس ربیع الاول میں ہم سب اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوں اور عزم کریں کہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق گزرے۔ یہی وہ محبت ہے جو دنیا و آخرت میں ہمیں رسول اللہ ﷺ کی قربت عطا کرے گی۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے