कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ماں کا تقدّس اور اُردو شاعری

از قلم:- صباء فردوس (ہنگولی)

انسانی جذبات میں جو رشتہ سب سے زیادہ پاکیزہ، سب سے زیادہ بے غرض اور سب سے زیادہ بے لوث سمجھا جاتا ہے، وہ ماں کا رشتہ ہے۔ ماں کی محبت اپنی تمام تر لطافت، نرمی اور ایثار کے ساتھ انسانی حیات کا پہلا سہارا، پہلی پناہ گاہ اور پہلی درسگاہ ہے۔ دنیا کے ہر مذہب، ہر تہذیب اور ہر روایت نے ماں کے مقام کو عزت و تکریم سے یاد کیا، مگر اُردو ادب نے اسے جس محبت، جس تہذیبی شعور اور جس وقارِ بیان کے ساتھ محفوظ کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
اُردو شاعری میں ماں کا تقدّس کسی وقتی جذبے یا سطحی احساس کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری تہذیبی بصیرت کا مظہر ہے۔ اُردو شاعر نے ماں کو صرف ذاتی وابستگی کے دائرے میں نہیں دیکھا، بلکہ اسے انسانی اقدار، اخلاقی روایت اور روحانی معنویت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اُردو شاعری میں ماں کا ذکر آتے ہی لہجہ بدل جاتا ہے، الفاظ میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے اور بیان میں ایک خاص وقار پیدا ہو جاتا ہے۔ یہاں ماں کا تصور نہ جذباتی شور میں ڈھلتا ہے اور نہ مبالغے کی زد میں آتا ہے، بلکہ خاموش عظمت کے ساتھ دلوں پر اثر کرتا ہے۔
اُردو شاعری نے ماں کی محبت کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھا ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو کسی صلے کی محتاج نہیں، جو شکایت سے خالی اور شرط سے آزاد ہے۔ اسی لیے تو خالق کائنات نے بھی اپنی محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہ دی۔۔ شاعر نے محسوس کیا کہ دنیا کی تمام محبتیں کسی نہ کسی خواہش سے جڑی ہوتی ہیں، مگر ماں کی محبت اپنی ذات میں مکمل ہوتی ہے۔ اسی احساس نے اُردو شاعری میں ماں کو محبت کی معراج بنا دیا۔
اسی طرح اُردو شاعری میں ماں کی دعا کو محض ایک مذہبی یا روایتی تصور کے طور پر نہیں لیا گیا، بلکہ اسے زندگی کی داخلی قوت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ شاعر کے شعور میں ماں کی دعا وہ غیر مرئی طاقت ہے جو انسان کو زندگی کے پیچیدہ راستوں میں سنبھالے رکھتی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
اس تصور میں نہ کوئی تصنع ہے اور نہ کوئی ظاہری بناوٹ، بلکہ ایک پختہ یقین ہے کہ ماں کی دعا انسان کے وجود کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اور یہی دعا اس کے لیے حفاظت، رہنمائی اور استقامت کا ذریعہ بنتی ہے…بقولِ منور رانا….
لبوں پہ اس کے کبھی بددعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی
منور رانا کی شاعری کے عمیق مطالعے سے یہ نتیجہ بآسانی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی شاعری مقدس رشتوں کی پاکیزگی اور احترام سے عبارت ہے۔ دنیا کے تمام رشتوں میں میں ”ماں کے رشتے کو نہایت مقدس اور پاکیزہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ منور رانا کا بھی اس رشتہ عظیم سے نہ صرف دلی لگاؤ ہے بلکہ گہری انسیت بھی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ محبت کے جذبوں کا اظہار آسان نہیں ہوتا لیکن منور رانا نے اس جذبے کا بھی خوب اظہار کیا ہے اور ہر ممکن موقعے پر ”ماں“ کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے اپنے اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے۔ منور رانا نے جس کثرت سے اپنی شاعری میں لفظ ”ماں “ کا استعمال کیا ہے، ان کے معاصر شعرا میں کسی اور نے نہیں کیا ہے۔۔۔ملاحظہ فرمائے ۔۔۔۔
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

میں نے روتے ہوئے پونچھے تھے کسی دن آنسو
مدتوں ماں نے نہیں دھویا وہ دو پٹا اپنا۔۔

اُردو شاعری کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ اس نے ماں کی قربانی کو بلند آواز میں بیان کرنے کے بجائے خاموشی کے وقار کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ماں کے ایثار کو چیختے ہوئے الفاظ نہیں دیے گئے، بلکہ نرم، ٹھہرے ہوئے اور باوقار انداز میں اس حقیقت کو آشکار کیا گیا کہ ماں اپنی خواہشات، آرام اور حتیٰ کہ اپنی ذات کو بھی اولاد پر قربان کر دیتی ہے۔ بقولِ عبّاس تابش…..
ایک مدت سے ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

اُردو شاعر نے اس ایثار کو زندگی کی عام مگر عظیم حقیقت کے طور پر قبول کیا، اور اسی سادگی میں اس کی عظمت کو نمایاں کیا۔
جب اُردو شاعری ماں کی جدائی کا ذکر کرتی ہے تو وہاں محض غم کا اظہار نہیں ہوتا، بلکہ ایک خلا کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ ماں کے بعد گھر کا گھر نہ رہنا، زندگی کا بے سمت ہو جانا اور دل کا اجنبی ہو جانا—یہ سب کیفیات اُردو شاعری میں بڑی گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ ابھرتی ہیں۔ یہاں ماں کی کمی کو ایک فرد کے بچھڑنے سے تعبیر نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے پوری زندگی کے توازن کے بگڑنے سے جوڑا جاتا ہے۔ اس اسلوب میں کوئی سطحی رنج نہیں، بلکہ ایک ٹھہرا ہوا، بالغ اور فکری دکھ ہے جو قاری کے اندر اتر جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن اور سنت کے بعد کوئی مضمون یا مقالہ اقبال کی شاعری کے بغیر ادھورا ہے تو وہ ان کی نظم والدہ مرحومہ کی یاد ھے… شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی اس نظم سے چند اشعار پیش خدمت ہے ۔۔۔
زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل سادہ رہے جاتے ہیں ہم

کس کو اب ہوگا وطن میں….. آه میرا انتظار !
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار …..!

خاک مرقد پر تیری لے کر یہ فریاد آؤں گا !
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا !

تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا !
گھر میرے اجداد کاسرمائیہ عزت عزت ہوا !

دفتر ہستی میں تھی زرّیں ورق تیری حیات !
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات !

عمر بھر تیری محبت. میری خدمت گررہی !
میں تیری خدمت کے قابل جب ھوا ، تو چل بسی !

یاد تیری دل درد آشنا سے معمور ھے !
جیسے کعبے میں دُعاؤں سے فضا معمور ھے !

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے !
سبزه نور ستہ اس گھر کی نگہبانی کرے !

اُردو شاعری کی سب سے بڑی ادبی خدمت یہ ہے کہ اس نے ماں کو تقدیس عطا کی ہے۔ یہاں ماں کا تصور احترام کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ شاعر کے لیے ماں وہ ہستی ہے جس کے ذکر میں زبان خود بخود محتاط ہو جاتی ہے۔ یہی احتیاط، یہی ادب اور یہی فکری شائستگی اُردو شاعری کو دیگر ادبی روایتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ماں یہاں خدا کی رحمت کا عکس، انسانیت کی بنیاد اور اخلاقی تربیت کا سرچشمہ بن کر سامنے آتی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اُردو شاعری نے ماں کے تقدّس کو محض محفوظ نہیں کیا، بلکہ اسے نسل در نسل منتقل ہونے والی فکری اور اخلاقی میراث بنا دیا ہے۔ یہ شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماں کا احترام کوئی وقتی جذبہ نہیں، بلکہ انسانی شرافت کی بنیادی شرط ہے۔ ماں وہ مرکز ہے جس سے محبت جنم لیتی ہے، اخلاق پروان چڑھتے ہیں اور انسان اپنی پہچان حاصل کرتا ہے۔
آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ماں کا تقدّس اُردو شاعری کے مزاج میں رچا بسا ہے۔ یہ تقدّس نہ کسی ایک شاعر تک محدود ہے، نہ کسی ایک دور تک؛ بلکہ اُردو ادب کی پوری روایت میں پھیلا ہوا ایک روشن، مہذب اور باوقار تصور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو شاعری ماں کے ذکر میں ہمیشہ سر جھکا کر بات کرتی ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی تہذیبی اور ادبی کامیابی ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے