कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ماں تربیتِ کردار کی بنیاد اور نسلوں کی معمار

تحریر:محمد عادل ارریاوی

ماں انسانی زندگی کی اولین درسگاہ اور شخصیت سازی کی بنیادی اینٹ ہے۔ ایک صالح، باکردار اور باحیا ماں نہ صرف اپنے بچوں کی درست تربیت کرتی ہے بلکہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم شخصیات کے پس منظر میں ان کی ماؤں کی محنت، قربانی اور اعلیٰ تربیت شامل ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں جہاں اخلاقی و معاشرتی چیلنجز بڑھتے جا رہے ہیں، وہاں ماں کی ذمہ داری اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ موجودہ نسل کی ماؤں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا اشد ضرورت ہے۔
حضرت آدم و حوا کے علاوہ دنیا میں آنے والے ہر انسان کو ماں کے پیٹ سے گزر کر ہی آنا ہوتا ہے، ہر نو مولود خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی زمانہ شیر خوارگی اکثر ماں کی گود میں نیز بچپن ماں کی صحبت میں رہتے ہوئے گزارتا ہے، اسی لیے کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ و اصلی تربیت گاہ ہے، اور یہ بھی روزمرہ کا مشاہدہ اور بار ہا کا تجربہ ہے کہ ماں کے قول و فعل عادات و اطوار گفتار و کردار احساس و جذبات اخلاق و افکار تقوی و طہارت عفت و پاکدامنی خوف و خشیت اطاعت و عبادت کا اثر بچوں کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماں جتنی نیک سیرت و پاک طینت ہوتی ہے اولاد بھی خدا ترس اور رب پرست ہوتی ہے۔ یہ بات بھی روز اول سے زبان زد ہے کہ ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا خاص کردار مضمر ہوتا ہے، وہ عورت خواہ بہن ہو یا ماں، بیٹی ہو یا بیوی ، خلاصہ یہ ہے کہ ہر با اثر و با وقار، کامیاب و کامران فتحیاب و با مراد انسان کے پس منظر میں کسی بیکسی صنف نازک کی شخصیت سازی نظر آتی ہے۔ بالخصوص ماں کی تعمیر وتر بیت اظہر من الشمس ہے، چنانچہ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ ام حکیم ام سلیم نے کیا کارنامے انجام دیئے، بایزید بسطامی، امام غزالی شیخ عبد القادر جیلانی، خواجہ معین الدین اجمیری ، قطب الدین بختیار کاکی، نظام الدین اولیاء صلاح الدین ایوبی ، طارق بن زیاد محمد بن قاسم کو بام عروج پر پہنچانے والی ان کی عظیم مائیں تھیں۔
مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی فرماتے ہیں، اگر کسی ماں کی گود سے بچہ چھین لیا جائے تو قیامت آجائے پورے محلے میں کہرام مچ جائے رشتہ داروں میں رونا پیٹنا شروع ہو جائے ہرکس و ناکس مرد و خواتین حزن و ملال کا پیکر بن جائیں مگر آج ان ہی ایمان والی ماؤں کے عقائد پر ڈاکہ زنی کر کے متزلزل کر دیا گیا ہے۔ علم دوشیزاؤں اور بنات حوا کو عشق و محبت کے جال میں پھنسا کر یر غمال بنایا جارہا ہے مخلوط تعلیم کے نام پر شرم وحیا کا جنازہ نکل رہا ہے۔ مگر افسوس یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خاطر خواہ حفاظتی اقدام ندارد بلکہ چشم پوشی و صرف نظر سے کام لیا جارہا ہے۔
کسی شاعر نے کہا ہے کہ
ماں تو ہر اولاد کو ملتی ہے بہت اچھی
ہر ماں کو مگر اچھی اولاد نہیں ملتی
اے اللہ ربّ العزت ہماری ماؤں کو بہترین تربیت کی توفیق عطا فرما ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم رکھ اور ہماری اولاد کو نیک صالح اور دین دار بنا۔ آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے