कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’ماں، تیری خاموشی بھی مجھ سے باتیں کرتی ہے‘‘

تحریر:خان اجمیری (عرف خان میڈیم)
زوجہ ڈاکٹرزبیر خان
B.sc [Cs & C.B.Z ] B.Ed MCA .
ڈائریکٹر اسٹڈی اسمارٹ کوچنگ کلاسیس اردھاپور ضلع ناندیڑ مہاراشٹرا

ماں، محض ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ ایک ایسی ہستی جو اپنے بچوں کے لیے سب کچھ قربان کر دیتی ہے، جو خود بھوکی رہ کر اپنے بچوں کو کھلاتی ہے، جو رات رات بھر جاگ کر ان کی نیندوں کی حفاظت کرتی ہے۔ میری ماں بھی ایسی ہی تھیں، بلکہ اس سے بڑھ کر۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، مگر ان کی یاد میرے دل سے کبھی جدا نہیں ہو سکتی۔ ان کے بغیر ہر لمحہ ادھورا لگتا ہے، ہر دعا ادھوری لگتی ہے، اور زندگی جیسے ایک ویران راہ گزر ہو گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ماں کے مقام کو نہایت بلند فرمایا ہے۔ ماں کی مشقت، اس کی محبت، اور اس کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ انسان پر والدین کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے، اور ماں وہ ہے جس نے تکلیف پر تکلیف جھیل کر ہمیں پیدا کیا۔ جب میں ان آیات کو پڑھتی ہوں تو مجھے اپنی ماں کی وہ بے شمار قربانیاں یاد آتی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ وہ ماں جو میرے لیے ہر سختی کو خود پر لے لیتی تھیں تاکہ میں سکون سے جی سکوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی ماں کو سب سے زیادہ حق دار قرار دیا گیا۔ جب ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حسن سلوک کا حق دار کون ہے تو آپ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ تین مرتبہ ماں کا ذکر کرنے کے بعد چوتھی بار باپ کا۔ اس سے ماں کے مقام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے اپنی ماں کی خدمت کرنے کا موقع ملا، مگر دل کو اس بات کا قلق بھی ہے کہ کاش کچھ اور کر سکتی، کاش انہیں اور وقت دے سکتی، کاش اُن سے کچھ اور باتیں سن لیتی۔
میری ماں نہایت خوش نصیب تھیں کہ انہوں نے 4 اپریل 2025 کو عمرہ ادا کیا۔ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کر کے واپس آئیں۔ ان کے چہرے پر نور تھا، دل میں سکون، اور زبان پر اللہ کا ذکر۔ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ دل ہلکا ہو گیا ہے، اب کسی چیز کی خواہش نہیں رہی۔ اسی دن وہ اپنے آبائی گاؤں Ardhapur واپس پہنچیں۔ ہم سب بہت خوش تھے کہ وہ عبادت کے بعد اپنے وطن واپس آ گئی ہیں، مگر ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ واپسی دراصل ایک اور ابدی سفر کی تیاری ہے۔
میری ماں میرے لیے ڈھال تھیں، میرے بچوں کے لیے ڈھال تھیں۔ ان کی موجودگی ایک ایسا سایہ تھی جو ہمیں ہر مصیبت سے بچاتی تھی۔ ان کی دعاؤں کی طاقت ایسی تھی کہ زندگی کے ہر امتحان میں کامیابی قدم چومتی تھی۔ آج جب وہ نہیں ہیں تو ہر طرف خلا محسوس ہوتا ہے، ہر خوشی ادھوری لگتی ہے، اور ہر کام بے ذوق لگتا ہے۔
پھر وہ دن آیا جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ 22 اپریل 2025 کو وہ ہم سب کو چھوڑ کر اپنے رب سے جا ملیں۔ وہ لمحہ آج بھی دل میں تازہ ہے۔ ان کا چہرہ، ان کی آخری خاموشی، ان کی بند ہوتی آنکھیں… سب کچھ جیسے دل میں نقش ہو گیا ہے۔ ان کی جدائی نے مجھے توڑ کر رکھ دیا، لیکن ساتھ ہی یہ شعور بھی دیا کہ اللہ کی رضا پر راضی رہنا ہی اصل بندگی ہے۔
ماں کی جدائی کے بعد میں نے سیکھا کہ ان کے لیے دعا ہی واحد ذریعہ ہے جس سے ہم ان سے جُڑے رہ سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، علم نافع، اور نیک اولاد جو دعا کرے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ میں اور میری اولاد ان کے لیے ایسا صدقہ جاریہ بن سکیں جو ان کے درجات بلند کرتا رہے۔
صبر کا دامن تھامے، میں ہر روز ان کی یاد میں ایک اور دعا کرتی ہوں۔ اللہ سے امید ہے کہ جس طرح وہ اس کے گھر کی زیارت کر کے لوٹیں، ویسے ہی ان کا رب بھی ان سے راضی ہو کر انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے۔ یہ خوش نصیبی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی کہ وہ اللہ کے مہمان بن کر واپس آئیں اور پھر اسی پاکیزگی کے ساتھ اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں۔
آج، ایک بیٹی ہونے کے ناطے، میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ میری ماں میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ تھیں۔ وہ چلی گئیں، لیکن ان کی محبت، ان کی دعائیں، ان کی یادیں اور ان کی خوشبو آج بھی میری روح کا حصہ ہیں۔ اللہ میری ماں کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور مجھے ان کے لیے ایسی نیکیاں کرنے کی توفیق دے جو ان کی روح کو سکون پہنچاتی رہیں۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے