कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مائیگریشن آج کی مجبوری بن گئی ہے

تحریر:عارف عزیز (بھوپال)

ہندوستان میں کئی ریاستیں ایسی ہیں، جہاں کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن حکومتوں کی مایوس کن کارکردگی سے وہاں روزگار کے مواقع نہیں بڑھ پائے لہٰذا پانچ چھ کروڑ لوگ ایسے ہیں جو اپنی آبائی ریاستوں کو چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں کام کاج کرنے پر مجبور ہیں۔2011ء کی مردم شماری سے اس کا انکشاف ہوا ہے ، بہرحال آج ہر ریاست میں دیگر علاقوں کے لوگ رہتے ہیں اور وہاں کی ترقی میں معاون ثابت ہورہے ہیں ، اس کے بعد بھی اب کئی ریاستی حکومتیں مقامی شہریوں کو ترجیح دینے کی بات کرنے لگی ہیں ، اسے ایک سیاسی حربہ ہی کہا جاسکتا ہے ، دیکھا جائے تو ایک ریاست میں رہنے والے ہر شخص کو مساوی موقع اور سہولتیں ملنی چاہئے ، خواہ وہ ملک کے کسی بھی علاقے سے آکر وہاں بس گیا ہو، اگر ایسا نہیں ہے تو ملک میں ترقی کے طور طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ کچھ خاص علاقوں پر آبادی کا بوجھ نہ پڑے ، لیکن ملک کے کسی بھی حصہ میں لوگوں کی آمد و رفت کو نہیں روکا جاسکتا ، کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ دوسری ریاستوں میں تعلیم اور روزی روٹی کیلئے جاتے ہیں اور وہیں بس جاتے ہیں ، اترپردیش ، بہار ، راجستھان اور مدھیہ پردیش ایسی ہی ریاستوں میں شمار کئے جاتے ہیں جہاں سے سب سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی منتقلی ہوتی ہے ، دوسری طرف مہاراشٹرا ، دہلی اور گجرات و تلنگانہ ایسی ریاستیںہیں جہاں آنے والے باہر کے شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ، بہار میں باہر سے آکر بسنے والوں کی تعداد سب سے کم ہے ، جو بھی بہار میں بسے ہیں وہ بھی پڑوسی جھارکھنڈ اور اترپردیش کے ہیں ، یو پی میں بسنے والے غیر مقامی شہریوں کی بڑی تعداد دہلی سے متصل غازی آباد اور نوئیڈا میں رہنے والے لوگوں کی ہے ، یو پی میں 40 لاکھ غیر مقامی شہری دوسری ریاستوں سے آکر رہ رہے ہیں ، جبکہ یو پی کو چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد 1.3 کروڑ کے قریب ہے ، جنوبی ہندوستان میں آباد شمالی ہندوستانیوں کی تعداد کافی کم ہے ، وہاں بسنے والے غیر مقامی افراد زیادہ تر پڑوس کی ریاستوں کے ہی ہیں ، اس کے باوجود حیدرآباد ، بنگلور اور چینائی میں غیرمقامی شہریوں کی تعداد کافی ہیں ، یہی حال پنجاب ، ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ اور ہریانہ کا ہے ،اگر ملک بھر میں صنعتوں کا حقیقی طریقہ سے فروغ ہوتا توکچھ خالی علاقے کے لوگ ترقی پذیر علاقوں کی طرف رخ نہیں کرتے ، یہ بھی مانا جاتا ہے کہ ترقی کا عمل ہمیشہ کسی ایک ہی سمت میں نہیں ہوتا، ایک وقت شمالی ہندوستان کے تعلیمی ادارے ملک بھر میں مشہور تھے ، اور لوگ ان میں دور دور سے پڑھنے آتے تھے ، لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں میں جنوبی ہندوستان نے تعلیم میں جو چھلانگ لگائی ہے اس سے شمالی ہندوستان پیچھے چھوٹ گیا ہے، خاص کر سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبہ میں جو کام ہوا ہے ایسی مثال ملک میں کہیں اور نہیں دکھائی دیتی ، یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں شمالی علاقوں کے طلبہ اب جنوب کی سمت میں اپنا کیریئر ڈھونڈنے لگے ہیں ، دیکھا جائے تو منتقلی صرف مجبوری ہی میں نہیں ہوتی ہے ، کچھ علاقوں میں کچھ خاص چیز کی مانگ کے سبب بھی وہاں باہر کے لوگ آکر اپنا کاروبار جمالیتے ہیں ، آج کے ٹکنالوجی کے دور میں مائیگریشن ایک ضرورت بن گئی ہے، لہٰذا اس سے پریشان ہونے کے بجائے اُسے امکانی مان کر تسلیم کرنا ہوگا۔ آج جنوب میں ماڑواڑی طبقہ اِسی وجہ سے ہر شعبہ میں ترقی کے زینے طے کررہا ہے ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے