कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لیلۃ القدر خیر من الف شہر

تحریر:اسامہ عاقل مدھوبنی ، بہار

اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے
انا انزلناہ فی لیلتہ القدر ، وما ادرٰ ک مالیلتہ القدر ، لیلتہ القدر خیر من الف شھر ، تنزل الملٰئکتہ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر سلٰم ھی حتیٰ مطلع الفجر (سورۃ القدر)
بیشک ہم نے قر آن کو لیلتہ القدر یعنی باعزت وخیروبرکت والی رات میں نازل کیا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ لیلتہ القدر کیا ہے ، لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس رات میں فرشتے اور جبرئیل روح الامین اپنے رب کے حکم کو لے کر اتر تے ہیں ، وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک۔
ماہ مقدس کی راتوں میں سے ایک رات ” لیلتہ القدر ” کہلاتی ہے جو رسولﷺ کی امت پر رب ذوالجلال کی طرف سے ہونے والی خصوصی عنایات میں سے ایک عظیم عنایت ورحمت ہے۔ قرآن پاک میں اس رات کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ہے جس خوش نصیب نے اس رات کو عبادت میں گزاردیا ،اس نے گویا 83 برس 6 ماہ سے زیادہ زمانہ عبادت میں گزارا۔کیا کوئی ٹھکانہ ہے اس رحمت کا ؟ پھر بھی ہم اس رات کی اس عظیم فضیلت سے مستفید ہونے کی کوشش نہ کریں اور مہینہ کو غفلت میں گزار دیں تو کسی کا کیا نقصان ہے ؟ یہ اپنی ہی بد نصیبی ومحرومی ہے۔ سال بھر دینوی ضائع کے حصول میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی سبقت لے جانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ اس شب میں تعلق مع اللہ قائم ہونے سے انسان سارا کا سارا سال بندگی کے تقاضے کسی نہ کسی سطح پر بھی پورا کرتا رہے تو یہ بہت بڑی خوش قسمتی ہوگی۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا اللہ کی عبادت کی اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں ( بخاری ومسلم )
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے رسول نے فرمایا تم لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (بخاری )
شب قدر آخری عشرے کی دس راتوں میں سے جو پانچ طاق راتیں ہیں یعنی 21 , 23 , 25 , 27 , اور 29 ان میں کوئی ایک طاق رات شب قدر کی ہوتی ہے۔ ایک روایت دیکھئے : حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ رات کو بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور خوب محنت کرتے اور کمر کس لیتے۔ ( بخاری ومسلم )
آخری عشرے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں ، اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی جائے رمضان المبارک بڑی ہی سعادت اور برکت والا مہینہ ہے ، ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں اور برے کاموں سے پرہیز کریں۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری عشرے میں لیلتہ القدر کو تلاش کرو۔ ( بخاری ومسلم )
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے ؛ جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ راستے سے بھٹکے گا اور نہ تکلیف وزحمت میں پڑے گا ( سورہ طٰہٰ )
حضرت عائشہؓ یہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عبادات میں جتنی محنت آخری عشرے میں کرتے تھے اتنی کبھی نہیں کرتے تھے۔ (بخاری )
ہمیں بھی رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل کو سامنے رکھتے ہوئے اس عشرے میں کمر بستہ ہوکر خوب عبادت کرنی چاہئے۔ آخری عشرے کی تمام راتوں میں یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاھئے۔
اللھم انک عفوکریم تحب العفوفاعف عنی ” اے اللہ بیشک تومعاف کرنے والاہے ، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، پس تو مجھے معاف کردے ”
اعتکاف بہت پرانی عبادت ہے
اعتکاف کی عبادت پچھلی امتوں میں بھی موجود تھی اور اس کا ذکرقرآن پاک میں بھی موجود ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے کہ
اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرا گھر طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف رکھو۔(سورہ البقرہ، آیت نمبر 125)
رمضان میں اعتکاف کا سب سے بڑا مقصد شب قدر کی تلاش ہے۔ اللہ تعالی شب قدر کے ثواب کو قرآن پاک میں بیان فرماتا ہے کہ
شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
نازل ہوا ہے قرآں سماء پر شب قدر میں
نبی کو ملی نبوت حرا میں شب قدر میں
یہ ہزار ماہ سے بہتر ہے رمضاں کی ایک رات
ہوتے نزول ملائک ہر امر پہ شب قدر میں
اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو رمضان المبارک کے آخری عشرے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے