कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لگے ہوئے روزگار کو بلا عذر شدید نہیں چھوڑنا چاہیے !

از قلم مفتی محمد اسلم جامعی
( استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

خداوند قدوس نے انسانوں کو بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے، اگر انسان ان نعمتوں کا احصاء کرنا چاہیے تو نہیں کر سکتا، ان ہی نعمتوں میں سے ایک نعمت سہولت اور عافیت کے ساتھ روزگار سے وابستہ ہونا ہے، حضرت عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بےکاری پسند نہیں ہے، میں اُس شخص پر حیرت زدہ ہوں جو نہ دنیا کے کام میں مصروف ہے، اور نہ دین میں لگا ہوا ہے (إحیاء علوم الدین) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ طلبِ معیشت کی فکر کے سوا کوئی چیز ان کا کفارہ نہیں ہوتی ( ترمذی شریف) شریعت نے بے کارگی اور ترکِ معیشت کو پسند نہیں کیا، بلکہ حکم دیا کہ آدمی جس روزگار کے ساتھ وابستہ ہیں اس پر استقامت اور ثبات قدمی کے ساتھ مربوط رہے، بلا عذرِ شدید روزگار کو نہ چھوڑیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے بندے کے روزگار کا کوئی سبب بنایا ہے، تو جب تک اس میں تبدیلی پیدا نہ ہو یا نقصان نہ ہو تو اس کو ترک نہ کریں( سنن ابن ماجہ ) مطلب ہے کہ جب اللہ رب العزت نے کسی شخص کے لئے حصولِ رزق کا ایک ذریعہ مقرر فرما کر انسان کو اس سے وابستہ کردیا،کہ اس ذریعہ سے اُسے رزق مہیا ہو رہا ہے تو اب بلاوجہ اس روزگار کو چھوڑ کر الگ نہ ہو، بلکہ اس میں استقامت اور ثبات قدمی کے ساتھ، اس وقت تک لگا ر ہے، جب تک کہ وہ خود اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے، یا ایسی ناموافقت پیدا ہو جائے کہ اب آئندہ اس کو جاری رکھنا پریشانی کا سبب ہو ، تو اُس وقت گنجائش ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے کسی ذریعۂ رزق سے وابستہ کر دیا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے یعنی تعالیٰ کی طرف سے اس بندے کو اس کام میں لگا کر اس ذریعہ سے وابستہ کرنا ایک طرح کا انعام ہے، ویسے توحصولِ رزق کے سینکڑوں طریقے ہے، لیکن جب اللہ نے کسی شخص کے لئے کسی خاص طریقے کو حصول رزق کا ذریعہ بنادیا تو یہ منجانب اللہ ہے اب اس منجانب طریقے کو اپنی طرف سے بلاوجہ نہ چھوڑے، حضرت نافع فرماتے ہیں میں اپنا سامانِ تجارت شام اور کبھی مصر کی طرف بھیجا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں نے عراق کی طرف تجارتی سامان بھجوانے کی تیاری کی، میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور انہیں صورتِ حال بتائی، اماں عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا نہ کرو! تمہیں اور تمہاری جائے تجارت کو کیا ہوا؟ (یعنی کوئی نقصان ہوا ؟ یا کوئی وجہ ہے، جو تجارتی رخ تبدیل کر رہے ہو؟) پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ تعالی تم میں سے کسی کے لئے کسی جگہ رزق کا سبب بنائے تو وہ اسے ترک نہ کرے یہاں تک کہ اس میں خود تبدیلی آجائے ( مشکوۃ المصابیح ) اس حدیث شریف پر غور کریں کہ کس دلنشین انداز میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس اہمیت کواجاگر کیا،موجودہ دور میں لگے ہوئے روزگار کو کوئی چھوڑنا ایک فیشن بن گیا ہے، بلکہ بعض مرتبہ آدمی بغیر کسی عذر کے، اچھے بھلے روز گار کو چھوڑ دیتا ہے، پھر کسی دوسرے روزگار کے لئے حیران و سرگرداں پھرتا رہتا ہے اور پوری کاوش کے بعد بھی، روز گار مہیّا نہیں ہوتا ہے، تو دیگر ذرائع اختیار کرتا ہے جو خود کے لیے اہلِ خاندان اور معاشرے کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے، حضرت شقیق بن ابراہیم رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ بغیر کسبِ معاش کے، بندوں کو رزق دیتا تو یہ فارغ بیٹھے رہتے اور باہمی دھنگا فساد کرتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُنہیں کسبِ معاش کے شُغل میں مصروف رکھا، تاکہ نہ فرصت پائیں اور نہ فساد کریں ( تنبیہ الغافلین ) اس لیے آدمی جس ذریعۂ معاش سے وابستہ ہیں اسی میں صبر و شکر اور ثبوت قدمی کے ساتھ جما رہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بلاوجہ نوکری چھوڑ دی تھی پھر باوجود بے حد کوشش اور سعی کے، تمام عمر نوکری نہیں ملی، فرمایا کہ اپنے ذریعۂ معاش کو چھوڑنا بلا ضرورتِ شدیدہ شرعی مناسب نہیں ہے، یہ بھی ایک قسم کی ناشکری اور کفرانِ نعمت ہے ۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ضعفاء کو بھی ناجائز اسبابِ معاش کو نہ چھوڑنا چاہیے جب تک کوئی ذریعۂ جائز مل جاوے۔ البتہ استغفار اور جائز ذریعہ کی کوشش میں لگار ہے، اور حکمت یہ بیان کیا کرتے تھے کہ ابھی تو معصیت ہی میں مبتلا ہیں اسبابِ معاش چھوڑ دینے کے بعد افلاس میں مبتلا ہوگا اور اس سے جو پریشانی ہوگی اس میں کفر کا اندیشہ ہے، اور اب معصیت وقایہ (بچاؤ) ہو رہی ہے کفر کا۔ فرمایا کہ کیسی حکیمانہ بات فرمائی ہاں اگر کوئی جائز صورت مل جائے تو اس وقت اس نا جائز کو چھوڑ دے۔ ( ملفوظات حکیم الامت جلد 4 صفحہ 297 )

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے