कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لبیک کی صدا میں چھپی وہ کہانی جو روح کو جگا دے

تحریر: خان اجمیری(عرف خان میڈیم)
زوجہ ڈاکٹر خان خرم زبیر
B.sc [Cs & C.B.Z ] B.Ed MCA
ڈائریکٹر اسٹڈی اسمارٹ کوچنگ کلاسیس اردھاپور ضلع ناندیڑ مہاراشٹرا

حج دین اسلام کا ایک عظیم رکن ہے جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض کیا گیا ہے۔ حج کا پیغام صرف ایک رسمی عبادت یا رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انقلابی درس ہے جو توحید، قربانی، صبر، وفاداری، اطاعت، اتحاد اور بندگی کے عملی نمونوں سے مزین ہے۔ اس مبارک عمل کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں جن کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے غیر معمولی واقعہ قربانی سے جڑا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ کے مختلف واقعات کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے جن میں ان کی اطاعت، قربانی اور اللہ پر کامل یقین کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کے حکم سے قربان کر رہے ہیں، تو وہ خواب کو اللہ کا حکم سمجھ کر فوراً تیار ہو گئے اور حضرت اسماعیلؑ کو بھی اس بات کی اطلاع دی۔ بیٹے نے نہ صرف اس حکم کو مانا بلکہ عاجزی سے کہا، "اے ابا جان! جو حکم دیا گیا ہے اسے بجا لائیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے” (سورۃ الصافات 102)۔ حضرت ابراہیمؑ بیٹے کو ساتھ لے کر منیٰ کی طرف روانہ ہوئے، اور جب دونوں اطاعت کا اعلیٰ نمونہ پیش کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کو بچا لیا اور ایک عظیم قربانی (دنبہ) نازل فرمایا (سورۃ الصافات 107)۔ یہ واقعہ نہ صرف اللہ کی رضا کی انتہا پر پہنچنے کی علامت ہے بلکہ اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی بندوں کی نیت اور اخلاص کو ضائع نہیں کرتا۔ حضرت ہاجرہؑ کا کردار بھی اس پورے عمل میں انتہائی اہم ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے اپنی بیوی ہاجرہؑ اور شیر خوار بیٹے اسماعیلؑ کو بےآب و گیاہ وادی مکہ میں چھوڑا تو حضرت ہاجرہؑ نے شوہر کے ارادے کو فوراً پہچان لیا اور اللہ کے فیصلے پر راضی ہو گئیں۔ پانی کی تلاش میں ان کا صفا اور مروہ کے درمیان سات بار دوڑنا آج بھی حج کا مستقل رکن یعنی سعی کی صورت میں زندہ ہے۔ یہ سب کچھ جنگل، بیابان، تنہائی، بھوک، پیاس اور آزمائشوں سے بھرا ہوا ماحول تھا، لیکن ہر مرحلہ ایمان، صبر، شکر اور یقین کی روشن مثال ہے۔ حاجی جب احرام باندھتا ہے، دنیاوی لباس، نام و نسب، طبقاتی فرق سب کچھ اتار کر صرف اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ تلبیہ پڑھتے ہوئے وہ رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے: "لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک”۔ منیٰ، عرفات، مزدلفہ کے تمام مناسک دراصل حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی سنت کی یاد دہانی ہیں۔ حج ہمیں سکھاتا ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھک جائے، اپنی خواہشات، غرور، مال و دولت، حتیٰ کہ اپنی اولاد کو بھی اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا جذبہ رکھے۔ قربانی صرف جانور کا ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنی انا، نفرت، غرور، بغض، حسد، کینہ، دنیا پرستی اور گناہوں کو اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دینا اصل قربانی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ خون، بلکہ اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے” (سورۃ الحج 37)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں اصل قیمت نیت کی ہے، دل کے اخلاص کی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی زندگیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ایمان محض زبان کا اقرار نہیں بلکہ عمل، صبر، توکل اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ حج دراصل ایک روحانی انقلاب ہے جو انسان کو اس کے نفس سے لڑنا سکھاتا ہے، اسے دنیاوی جھمیلوں سے نکال کر اللہ سے جڑنے کا موقع دیتا ہے۔ عرفات کا میدان ہمیں روزِ قیامت کی یاد دلاتا ہے، جہاں ہر انسان اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا، نہ کوئی سفارش، نہ دنیاوی رتبہ، صرف اعمال کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔ اس پورے سفر کا مقصد محض ظاہری مناسک نہیں بلکہ باطنی پاکیزگی اور روح کی اصلاح ہے۔ حاجی جب واپس آتا ہے تو وہ گویا ایک نیا انسان ہوتا ہے، جس کا دل گناہوں سے پاک، نیت خالص، اور نگاہ صرف رب کی رضا پر مرکوز ہوتی ہے۔ حج ہمیں اجتماعیت سکھاتا ہے، رنگ، نسل، زبان، ملک، لباس اور حیثیت کے فرق کے بغیر تمام مسلمان ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر اللہ کے بندے بن جاتے ہیں، یہ امت کی وحدت کا پیغام ہے، کہ سب ایک جیسے ہیں، ایک رب کے بندے ہیں، اور سب کی امیدیں، دعائیں، اور توبہ اُس ایک ذات کے حضور ہیں جو سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ اگر ہم حضرت ابراہیمؑ کی وفاداری، حضرت ہاجرہؑ کا یقین، حضرت اسماعیلؑ کی فرمانبرداری اور ان سب کی قربانی کے جذبے کو سمجھ لیں تو ہم اپنی زندگیوں میں بھی حج کے پیغام کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ حج ہمیں سکھاتا ہے کہ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ صبر، ایثار، اطاعت، توکل اور اللہ سے قربت ہی اصل بندگی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حج کے روحانی پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے، اور اس سفرِ بندگی کو صرف رسموں تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنے دل و دماغ اور کردار میں اس کی جھلک پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حج کی حقیقت کو سمجھنے، اس کی روح کو اپنانے، اور حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی سنت پر اخلاص سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور میں دل سے دعا کرتی ہوں کہ اے اللہ! مجھے، میرے پورے خاندان کو اپنی رحمت سے حج بیت اللہ کی سعادت نصیب فرما۔ ہم سب تیرے گھر کی زیارت کریں، لبیک اللھم لبیک کی صدائیں لگائیں، اور اُس بیابان میں کھڑے ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے