कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قوم کی تعمیر کا نسخہ — حالیؔ کا فلسفۂ علم و عمل

از قلم :- نجیب الرحمن خان اکولہ (لیکچرر)

مولانا الطاف حسین حالی (-1837–1914) اردو ادب کے عظیم شاعر، نقاد اور نثرنگار کے ساتھ ساتھ ایک بصیرت مند ماہر تعلیم بھی تھے۔ انہوں نے نہ صرف ادب و شاعری کو قوم کی فکری اور اخلاقی تربیت کے لیے استعمال کیا بلکہ تعلیم کومسلمانوں کی بقا، ترقی اور اصلاح کا سب سے اہم ذریعہ قرار دیا۔ حالی کا تعلیمی فلسفہ آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا روشن مینار ہے۔
آئیے، حالیؔ کے فلسفۂ تعلیم و اصلاح کو اُن کی تصانیف کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1) تعلیم کا اصل مقصد: کردار سازی اور فکری بیداری :-
حالی کے نزدیک ‘مضامین حالی، حیاتِ جاوید، مقدمۂ شعر و شاعری ‘ کی روشنی میں تعلیم محض روزگار یا علمی معلومات کا حصول نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، عملی زندگی کی بہتری اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ حقیقی تعلیم انسان کو ایک بہتر فرد اور قوم کو بیدار کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
2) مرد و خواتین دونوں کے لیے تعلیم لازمی :-
حالی ‘مضامین حالی ، مجالس النساء ، دیباچہ مسدس حالی، چپ کی داد ‘ کی روشنی میں مردوں کے لیے جدید سائنسی اور دنیاوی علوم کے قائل تھے تاکہ وہ ترقی یافتہ قوموں کے ہم پلہ بن سکیں، اور خواتین کے لیے تعلیم کو معاشرتی ترقی کی بنیاد قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک عورت کی تعلیم آئندہ نسل کی معمار ہے اور ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ہی کامیاب قوم کی نشانی ہے۔
اپنی نظم ’’چپ کی داد‘‘ میں حالی نے خواتین کو علم کی دولت سے محروم رکھنے پر تنقید کی:
جو علم، مردوں کے لیے سمجھا گیا آبِ حیات –
ٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہرِ ہلاہل سر بسر ۔
آتا ہے وقت انصاف کا، نزدیک ہے یوم الحساب –
دنیا کو دینا ہوگا اِن حق تلفیوں کا وہاں جواب”
3) جدید و قدیم علوم میں توازن :-
حالی نہ صرف جدید مغربی علوم کے قائل تھے بلکہ دینی اور اخلاقی تعلیم کے بھی پرزور حامی تھے۔ ان کی تصانیف ‘مسدس حالی (مد و جزر اسلام)، حیات جاوید و دیگر’ کے مطابق نصاب میں سائنس، عقل، اخلاق اور روحانیت سب کو شامل ہونا چاہیے تاکہ مسلمان ترقی کرتے ہوئے اپنی تہذیبی شناخت بھی برقرار رکھ سکیں۔
ان کے اصول:
دینی اور دنیاوی تعلیم کا امتزاج
اخلاق اور روحانیت کے ساتھ سائنس کی اہمیت
قدیم مکتبی نظام کی اصلاح
مغربی علوم اپنانا مگر اسلامی اقدار کے دائرے میں۔
4) ادب: قوم کی اصلاح و تعلیم کا ذریعہ:-
حالی نے مقدمۂ شعر و شاعری میں ادب کو صرف تفریح تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قوم کی فکری،تعلیمی اور اخلاقی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق "شاعری اور نثر صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ قوم کی فکری اور اخلاقی تربیت کے لیے ہونی چاہیے”۔ یہ نظریہ اُس دور میں پیش کیا گیا جب شاعری اور نثر عیش و عشرت، فسانہ گوئی اور عشق مجازی تک محدود تھی۔ حالی نے ادب کو اصلاحِ قوم کے ساتھ جوڑا اور قوم کو بیدار کرنے کا ذریعہ بنایا۔
5) قومی ترقی میں تعلیم کا کردار :-
حالی کی تصنیف ‘حیات جاوید ‘ کے مطابق تعلیم مسلمانوں کی ترقی اور بقا کا سب سے مؤثر ذریعہ تھی۔ "تعلیم کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔ مسلمانوں کی زندگی کا مدار علم و ہنر کے حاصل کرنے پر ہے”
تعلیم وہ قوت ہے جو قوم کو غلامی، پستی اور جہالت سے آزاد کر کے زندہ کرتی ہے۔
6) نتیجہ: تعلیم، اخلاق اور قومی بیداری :-
مولانا الطاف حسین حالی کا تعلیمی فلسفہ ہمہ گیر اور عملی ہے۔ انہوں نے تعلیم کو فرد اور معاشرے کی کامیابی کا زینہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک تعلیم اخلاقی تربیت، فکری بیداری اور قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ مرد و خواتین دونوں کے لیے تعلیم لازمی ہے اور جدید و قدیم علوم کے امتزاج سے ہی ایک صحت مند، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔
حالیؔ کا فلسفہ آج بھی فکر و نظر کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ موجودہ دور کے علمی و اخلاقی انحطاط میں اس پر عمل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جاتی ہے، تاکہ تعلیم سے علم کی دولت حاصل ہو، ادب سے کردار میں نکھار پیدا ہو، اور اصلاح کے ذریعے معاشرہ اپنی اصل راہ پر گامزن ہو جائے۔”

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے