कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قومی سیاست میں دل بدلی کا ابھار

تحریر:عارف عزیز (بھوپال)

جماعتی وفاداری تبدیل کرنے، فرش پارکرنے یا دل بدل کرکے ایک جماعت سے دوسری جماعت میں چلے جانے کے واقعات جمہوری نظام کے لئے نئے نہیں ، خود برطانیہ میںجو جمہوریت کے جائے پیدائش ہے ایسے واقعات بارہا ہو چکے ہیں اور موجودہ لیبرپارٹی کا تو وجود ہی جماعتی وفاداری تبدیل کرنے کے ایک ایسے بھی بڑے واقعہ کا نتیجہ ہے۔ہندوستان کی سیاسی جماعتوںکی تاریخ میں بھی اس قسم کے واقعات بہت نظر آتے ہیں اور اس کا آغاز آزادی سے پہلے اس وقت ہوا تھا جب کانگریس سے انحراف کرکے پنڈت موتی لال نہرو نے ’’سوراج پارٹی‘‘ بنائی یا نیتا جی سبھاش چندربوس نے فارورڈ بلاک کی بنیاد رکھی، اسی طرح آزادی کے بعد کی ہندوستانی سوشلسٹ پارٹی، پرجا سوشلسٹ پارٹی، جن کانگریس، بھارتیہ کرانتی دل، سوتنتر پارٹی، لوک دل، جنتاپارٹی، کیرل کانگریس، ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی، کانگریس ایس اور جنتادل میں سے بیشتر پارٹیاں کانگریس سے دل بدل کر نتیجہ میں عالم وجود میں آنے والی سیاسی جماعتیں ہیں جن کی تشکیل میں اقتدار کی محبت سے زیادہ پالیسی وپروگرام اور نجی اختلافات کی کارفرمائی رہی ہے۔
اقتدار کے حصول کے لئے راتوں رات اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی تاریخ بھی نئی نہیں اس کی ابتداء بلکہ حوصلہ افزائی سب سے پہلے کانگریس کی طرف سے آزادی کے پانچ برس بعد ۱۹۵۲ء میں اس وقت ہوئی جب اس کے ایک سرکردہ رہنما سی راج گوپال آچاریہ نے ریاست مدراس کا وزیراعلیٰ بننے کے لئے انحراف کی تخم ریزی کرکے ممبران اسمبلی کو سیاسی موقع پرستی کی دعوت دی تھی اس کے ۱۵ برس بعد ۱۹۶۷ء سے تو وفاداریاں تبدیل کرنے یا دل بدلنے کا یہ رجحان اتنا بڑھ گیا کہ ہریانہ، بہار، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کی حکومتیں راتوں رات تبدیل ہوگئیں اور ’’آیا رام گیا رام‘‘ کی اصطلاح نے جمہوری معاشرہ کے لئے ایک لعنت کی شکل اختیار کرلی۔
۹۱۸۵ء کے دل بدل مخالف قانون بننے سے پہلے تک سکم، کشمیر،آندھرا اور کرناٹک میںبھی اس کے کئی بدنما مظاہرے ہوتے رہے یا اس سے پہلے ہریانہ میںبھجن لال نے تھوک میں دل بدل کرکے جنتا پارٹی سے کانگریس میں شامل ہوکر سیاست کے اس کھیل کو مزید بدنما بنادیا، ایک جائزے کے مطابق ۱۹۶۷ء سے ۱۹۷۱ء تک کے پانچ برسوں کے دوران ۲۷۰۰ ارکان اسمبلی دل بدل میں ملوث ہوئے جن میں سے ۱۵ منحرفین کو وزیراعلیٰ کا عہدہ ملا جبکہ ۲۱۲ کو وزارت کی خلعت عطا کی گئی، اس وقت سے آج تک اس سیاسی بدعنونای میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور اب تو ہندوستان کی شاید ہی کوئی جماعت ایسی ہو جو انحراف کی اس وبا سے متاثر نہ ہوئی ہو کہ کبھی سیاسی وفاداری کی تبدیلی سے اسے فائدہ پہونچا تو کبھی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن اس عمل سے سب سے زیادہ فائدہ میں اگر کوئی جماعت رہی تو وہ کانگریس ہے جس نے ۱۹۸۴ء کے پارلیمانی الیکشن میںتین چوتھائی کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد پارلیمنٹ سے ایک ایسا قانون بنوادیا جو دل بدل کے انفرادی رجحان پر قابو پانے کے لئے تو کارگر تھا لیکن پارٹی کے ۳۳ فیصد ارکان اگر یہی کام کریں تو اس کی انہیں اجازت دی گئی۔ ۱۹۹۰ میں اسی قانونی گنجائش کو استعمال کرکے جنتادل کے ۵۰ سے زیادہ ارکان پارلیمان نے اپنی پارٹی سے بغاوت کرکے کانگریس کی مدد سے مرکز میںنئی حکومت بنالی تھی اور اس طرح دل بدل کی ایک نئی تاریخ مرتب ہوئی جس میںریاستوں کے ساتھ مرکز بھی شامل ہوگیا ہے اور اس میںبھی کلیدی کردار کانگریس نیز سابق کانگریسیوں نے ہی ادا کیا۔
اسی سلسلہ کے بعد میں واقعات مہاراشٹرا ، ہریانہ ، بہار، گوا اور کرناٹک ریاستوں میں بھی پیش آئے، بہار میں وہاں کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے حکومتیں بنانے اور گرانے میں چیمپین کا رول ابتک نبھایا ہے اور اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے زیادہ سرگرم رہی اور اقتدار کا فائدہ اٹھایا ہے لہذا اس کی روک تھام اب ضروری ہوگئی ہے اس لئے فوری طو رپر یہ قانون تو بنایا جاسکتا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو چھوڑنے والے فرد یا گروہ کو حکومت یا اس کے ذیلی اداروں میں پانچ برس تک کوئی عہدہ نہیں ملے گا نہ وہ الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے