कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قلم ، اور دعوت دین

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمد پربھنی۔9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

دعوت دین ہر مسلمان فرد کا لازمی حصہ (part) ہے۔ کہ وہ دین کی دعوت دوسروں تک رسائی کرے۔ اور اگر ہم میں کوئی دین کا علم نہیں جانتا، تو قران کریم کا ارشاد ہے، اگر آپ نہیں جانتے تو اہل علم اور دانشوران قوم سے معلوم کرو۔ اللہ نے سب سے پہلے قران جس میں دستور زندگی ہے، اور قیامت تک رونما ہونے والی ہر بات درج ہے۔ اور یہ انقلابی مقدس قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ جو 23 برسوں میں مکمل ہوا۔ اور اللہ ہی نے اپنے کلام مقدس ( Holy Quran) کو پیغمبر اسلام کے سینہ میں جمع کیا۔ ان علینا جمعہ و قرآنہ۔ اس طرح سے خداے برتر نے سب سے پہلے قرآن کو ترتیب دی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سینہ میں محفوظ فرمایا۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے، اور یہ سب اللہ تعالی کی مصلحت کی بنا پر تھا۔ چنانچہ قران نازل ہوا۔ پیغمبر اسلام نے قران کو تحریر میں لانے کے لیے مختلف اشیاء پر قرآن کو لکھوایا تھا ۔ اس طرح پیغمبر اسلام ( Messenger of Islam) دوسرے جامع القرآن ہیں۔ جنگ یمامہ میں کئ حفاظ ،قراء، صحابہ کرام شہید ہوے، تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مشورہ کرکے قرآن کو مختلف اشیاء سے کتابی شکل میں مرتب کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ قرآن کریم کے تیسرے جامع القرآن ہیں۔ اللہ تعالی کا کلام انقلابی حیثیت سے باقی ہے اور قیامت تک باقی رہیگا۔ اور اللہ کا بھی وعدہ ہے کہ ہم نے قران کو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کا تحفظ ( protection) کریں گے۔ اور قیامت تک ایک صفر کا بھی رد وبدل نہیں ہوگا۔ چنانچہ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ دعوت دین اور اعلائے کلمۃ اللہ قلم اور تصانیف سے دنیا کے گوشے گوشے میں پہونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں علماء ( Scholars) اور فقہاء اور دانشوران قوم نے اپنی زریں تصانیف اور تالیف اور اپنی انقلابی تحریر کے ذریعے ، دعوت دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کو بام عروج بخشا۔ اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹیوں میں اہل علم اور دانشوران ( intellectual) قوم کی بیش بہا تصانیف کردہ کتب ہیں۔ جس سے اسلام اور اس کی تعلیم لوگوں میں روشناس اور متعارف ہو رہی ہے۔ جو دعوت دین کا ایک محرک ہے۔ ایک جید عالم کی تصنیف کردہ کتاب۔ اس کے دنیا سے جانے کے بعد بھی مصنف ( Author ) کو زندہ رکھتی ہے۔ اور لوگ اس سے اپنی علمی تشنگی سے سیراب ہوتے رہتے ہیں۔ قلم ایک پراثر اور انقلابی ( Reulationary) حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ کوئی تعلیم یافتہ ( Religious educated) جب اپنی کتاب تحریر کرتا ہے، تو بہت ہی سوچ سمجھ کر اور حوالے ( Reference) سے لکھتا ہے۔ جو لوگوں کے لیے منفعت بخش ثابت ہو، ہم پر محمد ابن اسماعیل بخاری پیدائش 19جولائ 810 ء بخارا۔ وفات 870ء مشہور ترین محدث اور معروف و مشہور صحیح بخاری کے مولف تھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے انتھک کوششوں مجاہدہ سے جس میں ساڑھے سات ہزار احادیث صحیحہ ہیں مرتب کیا۔ اگر وہ احادیث کو جمع نہ کرتے اور اپنا قلم استعمال نہ کرتے تو ہمارے سامنے بخاری شریف کتابی شکل میں نہ ہوتی۔ اسی طرح اہم اور معروف احادیث کی کتب جیسے ابوداؤد، جامع ترمزی، سنن ابن ماجہ، مسلم شریف، اور صحاح ستہ تحریری شکل میں مسلمانوں کو دعوت سخن دیتے ہیں۔ اور بخاری شریف یہ امام بخاری رحمت اللہ علیہ کی جد و جہد کا ثمرہ ہے۔ کہ ہم بخاری شریف کی تین جلدیں پڑھتے ہیں۔ جو قلم کے ذریعہ مرتب کیا۔ کیا یہ انقلابی دعوت سے کم ہے؟ جو علم عمل اور فکر سے دی گئ ہے۔ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی رحمت اللہ علیہ عالم اسلام کی مایا ناز شخصیت تھی۔ جنہوں نے کئی اہم کتب تصنیف کی۔ جو کم و بیش 50 کتب پر مشتمل ہیں۔ جو انڈونیشیا، فارسی، تامل ، انگلش، اور دیگر کئ زبانوں ( languages) میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ مولانا علی میاں ندوی رحمت اللہ علیہ کی وہ مشہور تصانیف،ماذا خسر العالم بانحطاطالمسلمین، نقوش اقبال، ارکان اربع، پاجا سراغ زندگی، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج اور زوال کا اثر ، الی الاسلام من جدید۔ اسلام اور المرتضی، جس کو پڑھکر ایک دینی فکر اور انسان کا شعور ( sense) جاگتا ہے۔ قرآن کریم جو دنیاے عالم کی وہ واحد مقدس قرآن کریم کو تدبر سے پڑھنے اور غور کرنے کی طرف دعوت سخن دیتا ہے۔ آج دنیا میں اسلام پر اور اسلامی تہذیب و ثقافت ہر اتنا زیادہ ( litreture) لٹریچر شاید کسی اور مذہب میں اتنا ہو۔ ہمیں ان صاحب قلم، صاحب فکر علماء اور ( intellectual) دانشوران قوم و ملت کا شکر ادا کرنا چاہیے، کہ اللہ نے ان سے اور ان کی قلم کےذریعہ پوری دنیا میں اسلام کے پیغام کو عام کیا ۔جو ایک اپنی جگہ انقلابی حیثیت رکھتا ہے۔ مولانا علی میاں ندوی رحت اللہ علیہ کی کتب دنیا کے مختلف بڑی یونیورسٹیوں میں زیر نصاب ہیں۔ اور مختلف جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں۔ کیا یہ قلم سے لکھی گئی تصانیف دعوت دین کے لیے کافی نہیں؟ اپ کی بیش بہا قلمی تصانیف کی بدولت اکسفورڈ یونیورسٹی ( Oxford University ) اسلامک مدینہ یونیورسٹی ( Islamic Marina University() فیڈریشن اف اسلامک یونیورسٹی۔ ( Federation of Islamic University) اور مسلم ورلڈ لیگ مکہ ( Muslim League world Makka) کے آپ چیئرمین اور معزز رکن رہ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قلم سے نکلنے والے دینی افکار قوم و ملت کے لیے مشعل راہ بنے ہیں۔ 1980 میں کنگ فیصل انٹرنیشنل ایوارڈ ( King Faisal International Award) سے نوازا گیا۔ اج کے اس ترقی یافتہ زمانے میں ، جہاں سائنس ٹیکنالوجی ( Technology ) اور میڈیا عام ہے۔ ہم اپنی قلم سے دینی افکار کو لوگوں پر آشکارہ کرسکتے ہیں۔ اور انہیں اخبار، جریدہ ، اور رسائل کے ذریعے دین کا پیغام بحسن خوبی پہونچا سکتے ہیں۔ ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں جید اور با کمال علماء اور فقہاء نے قرآن کریم کی بشمول اردو اور کئ زبانوں میں تفاسیر کی ہیں جس سے امت مسلمہ کو قرآن کریم کا مقصد اور اس کا لب لباب معلوم ہو۔ اور خداے برتر قرآن کریم میں انسانوں سے کیا کہ رہا ہے؟ اور اسی طرح انگنت کتب تصانیف کی ہیں۔ جو امت مسلمہ کے لیے بیش بہا ( Assets) خزانہ ہے . چنانچہ اہل علم علمائے ربانین اور فقہاء کے تحریر اور تصانیف کے ذریعے مسلم اقوام کو متعارف کروایا۔ اور دیگر ادیان پر اسلام کی حقانیت کو آشکارہ اور ظاہر کیا۔ کیا۔ حدیث فقہ حدیث و تفاسیر اور تاریخ اسلام پر بیش بہا تصانیف کی جس کی وجہ سے امت مسلمہ کو دعوت دین کی رسائی ہو رہی ہے۔ اللہ ہمیں قران اور اس کی تفاسیر احادیث اور تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے