कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآن کے نغماتی اعجاز

تحریر: ابو خالد قاسمی

مجھے ہمیشہ اس بات پر نہایت عجیب اور بے حد حیرت ہوا کرتی تھی کہ عظیم ادیب مصطفیٰ صادق رافعی—جو پیدائشی طور پر بے سماعت تھے اور جن کے کانوں نے کبھی کسی آواز کا ذائقہ نہ چکھا—انہوں نے قرآن کے نغماتی اعجاز پر وہ دل نشین اور گہری گفتگو کس طرح کی؟ میں اکثر سوچا کرتا تھا: پروردگار! آخر انہوں نے وہ نغمہ کیسے محسوس کیا جسے کانوں نے کبھی نہ سنا؟!
لیکن جوں جوں اس سوال پر غور بڑھا، حیرت کی تہیں اٹھتی گئیں، یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ تعجب دراصل میری کم فہمی کا نتیجہ تھا نہ کہ رافعی کے ادراک کا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی خاموش قراءت بھی دل کی سماعت کو جگا دیتی ہے۔ حروف کے بیچ سے ایک ایسا لطیف نغمہ اٹھتا ہے جو بغیر آواز کے بھی سُنائی دیتا ہے۔ قرآن کا صوتی حسن صرف آواز میں نہیں، اس کے ترتیبِ الفاظ، فواصل اور اسالیب کے اندرونی آہنگ میں بھی پیوست ہے۔
اور جب ہر عام قاری یہ نغمہ محسوس کر سکتا ہے تو ادب کے تاج دار رافعی تو وہ تھے جن کے دل کو اللہ نے ایک ایسی باطنی سماعت عطا کی تھی جو عام انسانوں کے ظاہری کانوں سے بھی زیادہ گہری، زیادہ لطیف اور زیادہ بیدار تھی۔ چنانچہ وہ قرآن کے نغمے کو روح سے سنتے تھے، نہ کہ کان سے۔
ہر سورت کا اپنا ایک خاص آہنگ، ایک جداگانہ موسیقیت اور ایک مخصوص روحانی ترنم ہے۔ کوئی سورت دل کو جھنجھوڑ دیتی ہے جیسے القارعہ، الزلزال؛
کوئی سکون اور اطمینان برساتی ہے جیسے الرحمن؛
اور کوئی خوفِ آخرت کی لہر دوڑا دیتی ہے جیسے الحاقہ، المرسلات۔
یہ نغمہ خود الفاظ کے باطنی نظم میں رکھا گیا الٰہی حسن ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ:
علمائے تفسیر اور علمائے اعجاز نے اس نغماتی پہلو پر کم ہی گفتگو کیوں کی؟
علمائے تفسیر نے نغمے پر کم کیوں بولا؟
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سب سے پہلے ایک کتابِ ہدایت اور کتابِ شریعت ہے۔
شریعت کے تمام احکام—حلال ہو یا حرام، فرض ہو یا منع—صرف قطعی دلائل سے ثابت کیے جاتے ہیں۔ قطعی دلیل زبان کی دلالت ہے، نہ کہ احساسات،
نغمہ ایک ذوق ہے، اور ذوق میں اختلاف ہوتا ہے۔ کوئی آیت کسی کے نزدیک پرجمال ہو سکتی ہے، اور کسی دوسرے کے نزدیک اس کی نغمگی کا رنگ مختلف۔ اسی لیے مفسرین نے اس پہلو کو تفصیل سے موضوع نہیں بنایا، کیونکہ:
نغمہ دلیلِ شرعی نہیں، اس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا، اس پر اختلاف ممکن ہے، یہ احساسات کا دائرہ ہے، احکام کا نہیں، شریعت کا قانون ذوق پر نہیں، لفظ پر قائم ہے۔
یعنی یہ کہنا جائز نہیں کہ اس آیت کا نغمہ شدید ہے لہٰذا یہ حرام ہے”، یا "اس کا آہنگ نرم ہے اس لیے یہ حکم واجب ہے۔
حکم ہر حال میں لفظِ قطعی سے ہی لیا جائے گا۔
علمائے قرآن کا کام یہ ہے کہ اللہ نے کیا حلال کیا ، کیا حرام کیا، کن چیزوں کا حکم دیا، کن سے روکا، ان سب کے لیے وہ دلالتِ الفاظ، معانیِ نحو و بیان، اور تفاسیرِ لغویہ کا سہارا لیتے ہیں۔
اس لیے نغمہ، اگرچہ حقیقی ہے، مگر شرعی دلیل نہیں بن سکتا۔
اس سب کے باوجود، قرآن کا نغمہ قرآن کے عظیم ترین معجزات میں سے ہے۔
یہ وہ اعجاز ہے جسے بیان نہیں کیا جا سکتا، صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، جس کی تاثیر زبان کی حدود سے ماورا ہے
جو عربی نہ جاننے والے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے ، جو دلوں کو ہلا دیتا ہے، خواہ کانوں نے اسے حقیقی آواز میں سنا ہو یا نہ سنا ہو، یہی وہ نغمہ ہے جس نے رافعی جیسے اصم شخص کے اندر بھی سماعتِ روحانی کو بیدار کر دیا۔
یہ فطری موسیقیت اس بات کی جیتی جاگتی دلیل ہے کہ:
قرآن انسان کا کلام نہیں۔
فائدہ: رافعی کو "سماعت” سے محروم کہنا غلط ہوگا؛ محروم تو ان کی صرف اَذَن تھیں، مگر ان کی روح سننے کے لیے پورے جہان سے زیادہ بیدار تھی۔
قرآن ایک ساتھ: قانون بھی ہے،
ہدایت بھی، اور جمال بھی۔
قانون لفظ سے لیا جاتا ہے،
اور جمال نغمے سے محسوس ہوتا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ کامل، ضروری اور معجز ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے