कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآنِ کریم کے فہم میں تفسیری مناہج کا تنوع اور ان کی علمی اہمیت

تحریر:ابو خالد

قرآنِ مجید اللہ ربّ العزّت کا آخری اور محفوظ کلام ہے، جو انسانیت کی ہدایت، رہنمائی اور فکری و عملی تربیت کے لیے نازل ہوا۔ اس کتابِ ہدایت کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے معانی و مطالب کبھی ختم نہیں ہوتے، اس کی حکمتیں ہر دور میں نئی جلوہ گری کرتی ہیں، اور اس کے اسرار ہر نسل پر بتدریج منکشف ہوتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم کے فہم کے لیے امتِ مسلمہ نے ابتدا ہی سے مختلف علمی زاویے اختیار کیے، جن سے علمِ تفسیر وجود میں آیا، اور پھر یہ علم وقت کے ساتھ ایک ہمہ جہت اور جامع فن بن گیا۔
تفسیر ایک ایسا علمی عمل ہے جس میں زبان، نحو، بلاغت، فقہ، عقیدہ، تاریخ، قراءات اور مقاصدِ شریعت سب یکجا ہو جاتے ہیں۔ اسی تنوعِ علمی کی بنا پر تفاسیر کے مناہج مختلف ہوئے، اور ہر مفسر نے قرآن کے ایک خاص پہلو کو نمایاں کیا۔
غریبِ قرآن اور لغوی تفسیر:
قرآنِ فہم کی پہلی سیڑھی الفاظ کی درست معرفت ہے۔ جب قاری کسی ایسے لفظ سے دوچار ہوتا ہے جو عام عربی استعمال سے ہٹ کر ہو یا زمانے کے تغیر کے باعث اس کا مفہوم واضح نہ رہا ہو، تو اس کے لیے لغوی تفاسیر سب سے پہلی پناہ گاہ بنتی ہیں۔ اس میدان میں ابن قتیبہؒ (ت 276ھ) کی کتاب غریب القرآن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے مشکل اور غیر مانوس الفاظ کی تشریح نہایت اختصار، سلاست اور لغوی استناد کے ساتھ کی گئی ہے، جو قاری کو آیت کے ابتدائی مفہوم تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
اقوالِ مفسرین کی جمع و ترتیبـ:
کئی مواقع پر آیت کا مفہوم ایک نہیں ہوتا، بلکہ اس میں مختلف پہلو اور احتمالات پائے جاتے ہیں، جنہیں سلف صالحین اور ائمۂ تفسیر نے بیان کیا ہوتا ہے۔ ایسے میں اقوال کا جامع اور مرتب مجموعہ درکار ہوتا ہے۔ اس ضرورت کو امام ابن الجوزیؒ (ت 597ھ) نے اپنی کتاب زاد المسیر میں پورا کیا۔ یہ تفسیر اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس میں مختلف اقوال کو جمع کر کے ان کی نوعیت واضح کی گئی ہے، اور غیر معتبر یا شاذ اقوال سے قاری کو آگاہ کیا گیا ہے۔
خلاصۂ تفسیر اور جامع تعبیر:
اگر کوئی طالب علم یا داعی قرآن کے مجموعی پیغام کو مختصر مگر جامع انداز میں سمجھنا چاہے، تو ابن جُزَی الکلبیؒ (ت 741ھ) کی التسهيل لعلوم التنزيل نہایت مفید تفسیر ہے۔ اس میں تفسیر، لغت، فقہ اور قراءات کو ایک معتدل اور مربوط انداز میں جمع کیا گیا ہے، جس سے قاری کو آیت کا خلاصہ مفہوم بآسانی سمجھ میں آ جاتا ہے۔
نحوی و اعرابی تفسیر:
قرآنِ کریم کا اسلوب عربی زبان کے اعلیٰ ترین معیار پر ہے، اور اس میں اعراب کی تبدیلی سے معنی میں باریک فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اعرابِ قرآن علمِ تفسیر کا ایک مستقل باب ہے۔ اس میدان میں سمین حلبیؒ (ت 756ھ) کی الدر المصون ایک عظیم علمی کارنامہ ہے، جس میں ہر آیت کے نحوی امکانات اور ان کے معنوی اثرات کو نہایت باریکی سے واضح کیا گیا ہے۔
بلاغی و بیانی تفسیر:
قرآن کا اعجاز محض معانی میں نہیں بلکہ اس کے نظم، اسلوب اور طرزِ بیان میں بھی ہے۔ اس پہلو کو سب سے زیادہ نمایاں کرنے والی تفسیر زمخشریؒ (ت 538ھ) کی الکشاف ہے۔ اس تفسیر نے قرآن کی بلاغت، تشبیہات، استعارات اور اسلوبی حسن کو بے مثال انداز میں واضح کیا، اگرچہ اس کے مطالعے میں عقیدے کے باب میں احتیاط ضروری ہے۔
مصطلحاتِ قرآنی اور فکری تحلیل:
عصرِ حاضر میں قرآن کے فہم کے لیے محض لغوی تشریح کافی نہیں رہی، بلکہ قرآنی مصطلحات کے فکری اور مقاصدی پہلوؤں کو سمجھنا بھی ضروری ہو گیا ہے۔ اس میدان میں علامہ ابن عاشورؒ (ت 1393ھ) کی التحرير والتنوير ایک عظیم الشان تفسیر ہے، جو قرآنی الفاظ کی تہہ دار دلالات، ان کے تاریخی پس منظر اور مقاصدی معانی کو نہایت گہرائی سے واضح کرتی ہے۔
ہدایت و تربیت پر مبنی تفسیر:
قرآن محض علمی کتاب نہیں بلکہ کتابِ ہدایت ہے۔ اس زاویے سے لکھی گئی تفاسیر قاری کو عملی زندگی میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ امام نسفیؒ (ت 537ھ) کی تفسیر مدارك التنزيل اسی ذیل میں آتی ہے، جس میں عقیدہ، فقہ اور اخلاقی ہدایات کو سادہ اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
وجوہ و نظائرِ قرآن:
قرآن میں بعض الفاظ مختلف مقامات پر مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔ ان کے فہم کے لیے علم الوجوہ والنظائر نہایت اہم ہے، اور اس فن میں ابن الجوزیؒ کی نزهة الأعين النواظر بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
علمِ مناسبت اور ربطِ آیات:
قرآن ایک مربوط اور منظم کتاب ہے، جس میں آیات اور سورتیں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ اس پہلو کو سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ امام بقاعیؒ (ت 885ھ) نے نظم الدرر میں بیان کیا، جس سے قرآن کی وحدتِ موضوعی نمایاں ہوتی ہے۔
فقہی تفسیر:
آیاتِ احکام کی تشریح کے لیے امام ابن العربیؒ (ت 543ھ) کی أحكام القرآن نہایت معتبر کتاب ہے، جس میں فقہی مسائل کو دلیل، تحقیق اور اصولی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
دقائقِ تعبیر اور اسلوبی نزاکت:
ابو السعودؒ (ت 982ھ) کی تفسیر اپنی فصاحت، گہرائی اور اسلوبی نفاست کی بنا پر ممتاز مقام رکھتی ہے، جس میں لفظ اور معنی کے باریک رشتے کو واضح کیا گیا ہے۔
عقلی و فکری توسع
امام فخرالدین رازیؒ (ت 606ھ) کی مفاتيح الغيب ایک ایسی تفسیر ہے جس میں قرآن کے عقلی، کلامی اور فلسفیانہ پہلوؤں کو وسعت دی گئی ہے، اور فکری سوالات کا مدلل جواب پیش کیا گیا ہے۔
قراءاتِ قرآن کی توجیہ:
آخر میں قراءاتِ قرآنیہ کا علم آتا ہے، جس کے لیے ابن زنجلةؒ (ت 403ھ) کی حجة القراءات بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ مختلف قراءات کے معنوی اثرات کو واضح کرتی ہے۔
ان تمام تفاسیر اور مناہج کا مجموعی مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن کا فہم ایک ہمہ جہت علمی عمل ہے، جس میں کسی ایک تفسیر پر اکتفا کرنا کافی نہیں۔ ہر تفسیر قرآن کے ایک پہلو کو روشن کرتی ہے، اور ان سب کا مجموعہ ہی قاری کو قرآن کے قریب لے جاتا ہے۔
اسی لیے بجا طور پر کہا گیا ہے:
ولا يخلو تفسير من فرائد وفوائد
کہ قرآن کی کوئی تفسیر ایسی نہیں جو نادر نکات اور قیمتی فوائد سے خالی ہو۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے