कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قدرت سے باتیں

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

دنیا میں کوئ بھی ایسا دعوی نہیں کرسکتا کہ اس نے خدا کو دیکھا ہے، کیونکہ دنیا میں وہ آنکھ آج تک پیدا نہیں ہوئ ، اللہ نے ایسی آنکھ کی تخلیق نہیں کی۔ موسی علیہ السلام نے اللہ سے منت و سماجت کی کہ میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں، حانکہ وہ کلیم اللہ تھے، اللہ سے ہمکلام ضرور ہوے، لیکن دیدکا موقع نہیں ملا، اللہ نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ اے موسی آپ مجھکو دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے۔ لاتدرکہ الابصار کہ آپ اللہ کی ذات کا ( surrounding) احاطہ نہیں کرسکتے، چناں چہ بہت اسرار کے بعد خداے برتر نے اپنی تجلی ( Light) کو آپ پر آشکارہ کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوہ طور جل کر خاکستر ہوگیا،اور موسی علیہ السلام پر غشی کا عالم طاری ہوا،اور وہ بیہوش ہوکر گر ہڑے۔ اللہ نے اس کائنات میں ایسی ( Beautiful things) خوبصورت اشیاء کی تخلیق فرمایا ہے، جس سے ہم ( spritully) روحانی طور پر خدا کی قدرت اس کی تخلیق،اور اسکی طاقت اور (power) کا اعتراف کرکے اس کی تخلیق کردہ اشیاء کو دیکھ کر روحانی طور پر قدرت سے ہمکلام اور قدرت سے باتیں کرسکتے ہیں۔ جب آپ اللہ کی عبادت اور اسکی یاد میں مصروف ہوتے ہیں ،تو گویا کہ آپ قدرت سے ہمکلام ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ کیا آپ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے اس کو کس قدر عجیب پیدا کیا ہے۔ ( Nature speak in whispers of wind,in rustling and babbling streams within. Her voice echoes trough mountain tall, A gentle breezthat soothes the souls call) اور آسمان کو بلندیاں عطا کی ہے۔ اور پہاڑوں کس طرح زمین میں کس طرح نصب کیا ہے۔ اور زمین ،کر ارض کو کس خوبصورتی سے مسطح کیا ہے۔ پس آپ نصیحت کرتے رہیے، کیونکہ آپ کا کام لوگوں کو نصیحت کرنا ہے، اور خداے کی عجیب و غریب تخلیق کو بتانا ہے۔ قدرت انسان کی شہ رگ سے قریب ہے۔ کیونکہ جو چیز کسی سے مکان کے اعتبار سے قرب اور نذدیکیاں رکھتی ہو وہ اس کے دور والے سے ضرور دور ہوتی ہے ۔چناں چہ اللہ ہر انسان کے نذدیک یعنی شہ رگ سے قریب ہے، بس شرط اور ضرورت اس بات کی ہے کہ بندہ (negligency) لغزشوں ، کوتاہیوں، اور غفلت سے اجتناب کرے، ہر بندہ خدا سے بہت قریب ہوتا ہے، گویا کہ وہ قدرت سے روحانی ہمکلام اور (spiritually taste) روحانی لذت پاتا ہے۔ اس کی مناجات، اس سے مانگنا، اور اس سے تعلق رکھنا گویا کہ اللہ سے قرب اور اسے بات کرنے کے مترادف ہے۔ جو قلب کو سکون اور راحت مہیا کرتا ہے۔ قرآن کریم جو اللہ کی ( holly book) مقدس اور آسمانی کتاب ہے، جو سارے عالم کے لیے ہدایت اور مکمل کامیابی کا ضامن ہے ۔ قرآن میں غور وخوض کرنا، اسکی تخلیق پر غور و فکر کرنا، نباتات، جمادات، نظام فلکیات، اونچے پربت، بحر، و نہر، خوبصورت سورج اور چاند، اجسام فلکی، یہ رات دن کا نمودار ہونا، دھوپ چھاوں ، اندھیرے اجالے، خداے برتر کہتا ، کیاتم قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یہ سب ہمیں قدرت کی تخلیق پر غور و فکر کرنے کی دعوت سخن دیتی ہے۔ جس سے ہم تعلق مع اللہ اور روحانی تلذذ محسوس کر سکتے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور اتنے منہمک ہوجاتے کہ دوسرا کوئ خیال نہ ہوتا، گویا کہ وہ رب کریم سے کلام کر رہے ہیں۔ اور آپ نے فرمایا، نماز ایسی پڑھو گویا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہو۔ بادشاہ کا فرمان پوری رعایا سنتی ہے۔ اور سنکر اس پر عمل پیرا ہوتی ہے۔سارے کائنات کا بادشاہ، سارے انسانوں سے یہ کہ رہا ہے کہ ،آپ کے پاس رسول اپنی شریعت لیکر آے تو اس کو اپناے۔ اور جس چیز سےمنع اور رکنے کا حکم دیں اس سے باز آئیں۔اللہ سے ڈرو، کیونکہ اللہ کا عذاب سخت ترین ہے۔ گویا کہ رب کائنات ہمیں یہ کہ رہا ہے، اور ہم اس کے کلام کو سن رہے ہیں۔ گویا کہ ہم رب کائنات سے روحانی طور پر ہمکلام ہیں۔ یعنی ہم ( Naturally ) اس سے مخاطب ہے۔ جب کوئ لغزش کرتے ہیں، تو خدا ہم سے کہتا۔ یا ایھاالذین آمنوا اتقوا للہ و کونوا مع الصادقین ۔ اے لوگوں جنہوں نے ایمان لایا اللہ سے ڈرو اور صادقین کی کی صحبت اختیار کرو۔ خداے برتر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئ ہے اور تم آخرت کے لیے۔ خدا ہم سے مخاطب ہے، یہ فرماتے ہوے کہ اپنے والدین کو اف بھی نہ کہیں اور نہ انہیں جھڑکیں، جیسا کہ انہوں نے آپ کی ایام طفولیت میں پرورش کی۔ خداے برتر ہم سے مخاطب ہے کہ جو ذرہ برابر نیکی کریگا وہ بروز قیامت دیکھ لیگا۔ اور جو ذرہ برابر برائ کا عمل کریگا وہ بھی اس کا صلہ پائیگا۔ ہمیں اللہ کے اس پیغام کو پڑھکر قرآن کریم سے ہمکلام ہوکر رب کریم سے قرب حاصل کرنا ہے۔ فرمان الھی ہے، ہم نے قرآن کریم کو آسان کیا ہے یاد کرنے ذکر کرنے کے لیے۔ کیا کوئ یاد کرنے والا ہے؟ ہم جب قدرت کی تخلیق اور اس کے خوبصورت دل کو چھونے والے مناظر کا نظارہ کرتے ہیں، اونچے پربت، خوشنما وادیاں سمندورں کی اٹھتی ہوئ لہریں ، یہ ٹھاٹے مارتا سمندر ، یہ تاریکی، یہ روشنی، کائنات میں انگنت سیارے، یہ گلیکسی،سمندر میں جوار بھاٹا، قدرت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ یہ سب دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری ضرورتیں اور زندگی بہت مختصر ہے۔ لیکن خداے برتر نے کائنات میں سب سے زیادہ خوبصورت اس کرہ ارض پر انسان کو بنایا ہے۔ اور اس پر سب سے زیادہ رحم و کرم کا معاملہ کیا ہے۔ لیکن انسان کو جب تکلیف پہونچتی ہے تو وہ خدا کو یاد کرتا ہے، اور جب وہ راحت میں ہوتا ہے تو اپنے رب کو بھول جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اس رب کائنات کا شکر کرکے اس کا مقرب بن جاے۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے