कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری،24 گھنٹوں میں مزید 87 فلسطینی شہید اور 410 زخمی

غزہ:8ستمبر:فلسطینی وزارت صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے غزہ کی پٹی میں مزید 87 فلسطینی شہید اور 409 زخمی ہسپتالوں میں پہنچائے گئے ہیں۔ ان شہداء میں 4 افراد کی لاشیں ملبے کے نیچے سے نکالی گئی۔وزارت صحت نے واضح کیا کہ کئی شہداء اور زخمی اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں، جہاں تک رسائی ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیموں کے لیے ممکن نہیں ہو پا رہی۔اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر سنہ2023ء سے جاری قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے نتیجے میں غزہ میں اب تک شہداء کی تعداد بڑھ کر 64 ہزار 368 اور زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 62 ہزار 776 تک جا پہنچی ہے۔جبکہ 18 مارچ سنہ2025ء سے آج تک کے عرصے میں 11 ہزار 911 فلسطینی شہید اور 50 ہزار 735 زخمی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو انسانی جانی نقصان کی شدت اور اس کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف روٹی اور انسانی امداد کی تلاش میں نکلنے والے مزید 31 فلسطینی شہید اور 132 زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے۔ اس طرح سے قابض اسرائیل کے اس منظم قتل عام کے آغاز سے اب تک "لقمہ عیش” یعنی خوراک و امداد کے متلاشی شہداء کی تعداد 2 ہزار 416 اور زخمیوں کی تعداد 17 ہزار 709 سے تجاوز کر گئی ہے۔بھوک اور قحط سے اموات کے باب میں وزارت صحت نے بتایا کہ گذشتہ روز مزید 5 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں 3 معصوم بچے شامل ہیں۔ اس طرح غذائی قلت اور قحط کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 387 ہو گئی ہے جن میں 138 بچے ہیں۔علاوہ ازیں، غذائی سلامتی کے عالمی ادارے کے "مرحلہ وار قحط زون” قرار دینے کے بعد سے اب تک مزید 109 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں 23 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ میں بڑھتی ہوئی المناک انسانی المیے کی سنگین عکاسی کرتے ہیں اور فوری عالمی مداخلت کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تاکہ مزید بے گناہ جانوں کو بچایا جا سکے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے