कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فکرِ اقبال: مشرقی علوم و معارف کی ابدی روشنی

تحریر:ڈاکٹر محمد سعیداللہ ندوی

شاعرِ مشرق، حکیمْ الامت، اور عظیم مفکر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو اقبال منزل سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا۔ 1899ء میں ایم اے کرنے کے بعد آپ اورینٹل کالج لاہورمیں تدریس سے وابستہ ہوئے۔ اسی دوران آپ کی شاعری اپنے شباب کو پہنچی۔ اقبال کو اردو کے ساتھ ساتھ فارسی زبان پر بھی غیر معمولی عبور حاصل تھا، اسی لیے آپ نے اپنے فکری اور روحانی اظہار کے لیے فارسی کو بھی ذریعہ سخن بنایا۔ اقبالؔ کا شمار بیک وقت اردو اور فارسی کے اْن ممتاز شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے دونوں زبانوں میں ایسے لازوال خزانے چھوڑے جن سے آج بھی فکر و فن کی دنیا منور ہے۔
اقبال نے ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘ اور ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ جیسے شہرہ آفاق قومی ترانے تخلیق کیے، جب کہ ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ جیسی بلند پایہ نظموں نے انہیں برصغیر کے شعری آسمان کا درخشندہ ستارہ بنا دیا۔ آپ کی تصانیف میں بالِ جبریل، بانگِ درا، اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، ضربِ کلیم، جاوید نامہ، پیامِ مشرق، زبورِ عجم اورارمغانِ حجاز شامل ہیں، جنہیں اردو و فارسی ادب کے قیمتی اثاثے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
علامہ اقبالؔ کا بھوپال سے بھی گہرا تعلق رہا۔ آپ نے اپنی زندگی میں چار بار بھوپال کا سفر کیا اور قیام کے دوران چودہ شاہکار نظمیں تخلیق کیں۔ ان نظموں کو بعد میں مدھیہ پردیش اقبال مرکز نے نگاہ نامہ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کیا۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ بھوپال جسے ’’شہرِ غزل‘‘ کہا جاتا ہے، وہاں اقبالؔ نے کوئی غزل نہیں لکھی بلکہ محض نظمیں تخلیق کیں ، اور وہ بھی ایسی جو فکر و احساس کے اعتبار سے لازوال ہیں۔1905ء میں علامہ اقبالؔ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان کا سفر کیا۔ پہلے کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا، پھر لنکنز اِن سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں جرمنی جا کر میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان ’’تعمیرِ نوئے الٰہیاتِ اسلامیہ‘‘ بعد میں فکرِ اقبال کی اساس بنا۔1910ء میں وطن واپسی کے بعد اقبال نے وکالت کے ساتھ سیاست اور فکری جدوجہد کا بھی آغاز کیا۔ آپ نے شاعری کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور امتِ مسلمہ کے منتشر اذہان کو بیدار کیا۔ آپ کے کلام میں نوجوانوں کے لیے پیغامِ عمل، حوصلہ، اور خودی کی دعوت ہے۔ وہ نوجوانوں کو خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں اور کہتے ہیں:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
اقبالؔ نسلِ نو کو علم و جستجو، تحقیق و تسخیرِ کائنات کی طرف راغب کرتے ہیں۔ وہ انسانی عقل و جذبے دونوں کو بیدار دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اقبال کی شاعری میں مشرقی علوم و معارف کی گہرائی اور اسلامی روح کی روشنی یکجا نظر آتی ہے۔ انہوں نے مغربی فلسفے کے باطن کو سمجھ کر اس کا تنقیدی مطالعہ کیا، اور پھر مشرقی فکر کو نئی زندگی عطا کی۔ وہ نوجوانوں کو شاہین کی صفت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں ، بلند پرواز، آزاد، غیر مقلّد اور غیرتِ ایمانی سے سرشار۔اقبال کے نزدیک کسی قوم کی حقیقی طاقت اس کے نوجوانوں میں پوشیدہ ہے۔ جس قوم کے نوجوان علم، خودی اور جدوجہد کے پیکر ہوں، اس کا مستقبل روشن ہوتا ہے، اور جس قوم کے جوان تن آسانی، غفلت یا مادیّت کے دلدل میں پھنس جائیں، وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ اقبال اسی زوال کا نوحہ بھی لکھتے ہیں اور اس سے نکلنے کی راہ بھی دکھاتے ہیں۔آج جب 2025ء میں ہم اقبال کی 148 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، تو یہ حقیقت پہلے سے زیادہ نمایاں ہے کہ اقبالؔ کے پیغام کی معنویت آج کے حالات میں کہیں زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی بیداری، نوجوانوں کی فکری تعمیر، اور تہذیبی خودی کا شعور — یہ سب وہ موضوعات ہیں جو آج بھی ہمارے قومی اور تعلیمی نظام کے لیے رہنما خطوط کا درجہ رکھتے ہیں۔اقبال مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک کو خطرناک فریب قرار دیتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان مغرب کی اندھی تقلید کے بجائے اپنے اسلاف کی حیاتِ جاوداں سے رہنمائی حاصل کریں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مادّی ترقی روحانی زوال کا بدل نہیں بن سکتی، بلکہ حقیقی عروج روحانی بالیدگی اور اخلاقی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔
اقبالکا تصورِ شاہین دراصل اس آزاد انسان کا استعارہ ہے جو غیرتِ ایمانی، بلند ہمتی، جراتِ فکر، اور استقلالِ عمل سے مزین ہو۔ شاہین کسی آشیانے کا محتاج نہیں ، وہ بلندیوں کا عاشق ہے۔ اقبال اسی جذبے کو مسلم نوجوانوں کے اندر بیدار دیکھنا چاہتے تھے تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ حاصل کر سکیں۔اقبالؔ کی فکری دنیا میں قرآن حکیم کو بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے والدِ محترم کی نصیحت ، ’’اقبال! قرآن کو ایسے پڑھ جیسے یہ تم پر نازل ہو رہا ہو‘‘ — ان کی پوری زندگی کا روحانی اصول بن گئی۔ اسی لیے ان کی شاعری میں قرآنی حکمتوں کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کے انقلابی افکار کا سرچشمہ قرآن ہی ہے، جو ان کے تخیل کو نیا افق عطا کرتا ہے۔اقبالؒ اپنے وقت کے مظلوموں اور محکوموں کی سب سے توانا آواز تھے۔ وہ قوموں کو خوابِ غفلت سے جگانے آئے تھے۔ آج بھی ان کا پیغام ہماری فکری، روحانی اور تہذیبی زندگی کے لیے روشنی کا مینار ہے۔
ان کے کلام کا مطالعہ کرنے سے ایک عام قاری بھی یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اگر انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اپنے خالق اور اس کے رسول ؐسے عشق پیدا کرے، اور اسلامی تعلیمات کی روح کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر کا خالق بن سکتا ہے بلکہ زمین پر خدائی نظامِ عدل کا علمبردار بھی بن سکتا ہے۔اقبال کی کلیات ایک عظیم فن پارے کی مانند ہیں ،جیسے کسی آرٹ گیلری میں مختلف تصویریں اپنے اپنے مفہوم میں بولتی ہیں۔ اقبال کے اشعار بھی امت کے مردہ احساسات کو زندگی بخشتے ہیں۔ ان کی شاعری قوم کے رگ و پے میں حرارت دوڑاتی ہے۔ ان کے افکار آج بھی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
> یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔
21 اپریل 1938ء کو یہ مردِ مومن، مفکرِ ملت، اور شاعرِ مشرق اپنی قوم کے لیے فکر و حکمت کا خزانہ چھوڑ کر مالکِ حقیقی سے جا ملا، لیکن ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقبال کا اثر مٹنے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔یقینا اقبال صرف شاعر نہیں بلکہ ایک تہذیبی مصلح، فکری معمار اور روحانی رہنما تھے۔ ان کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ مشرقی علوم و معارف کی بقا صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اقبال کے بتائے ہوئے راستے ، خودی، علم، ایمان اور عمل ، کو اپنا لیں۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے