कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فلم اور سیاست: نئے بھارت میں نظریاتی بیانیے کی تشکیل

(بالی ووڈ کا بدلتا کردار: فن سے ایجنڈے تک کا سفر)

بقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)

بھارتی فلمی صنعت، جو دہائیوں سے اس وسیع و عریض ملک کے تہذیبی مزاج اور اجتماعی ضمیر کی عکاس رہی ہے، آج ایک گہرے اور فیصلہ کن نظریاتی دوراہے پر کھڑی ہے۔ فن اور سیاست کے مابین جو نازک خطِ امتیاز تھا، وہ اب تیزی سے تحلیل ہو رہا ہے۔ وہ روپہلی سکرین، جو کبھی جمہوری مکالمے، سماجی تنقید اور ثقافتی تکثیریت کا ایک نسبتاً آزاد پلیٹ فارم سمجھی جاتی تھی، اب ایک مخصوص سیاسی و مذہبی ایجنڈے کو تراشنے اور اسے عوامی شعور کا حصہ بنانے والے ایک مؤثر ترین ہتھیار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ تبدیلی محض کہانیوں کے انتخاب یا کرداروں کی پیشکش تک محدود نہیں، بلکہ یہ ریاست اور ثقافت کے پیچیدہ رشتے کی نئی تعریف متعین کر رہی ہے، جہاں سنیما گھر اب صرف تفریح گاہیں نہیں رہے، بلکہ نظریاتی بالادستی کی جنگ کے میدان بن گئے ہیں۔
اس ابھرتے ہوئے رجحان کی سب سے واضح اور تازہ ترین مثال اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ، یوگی آدتیہ ناتھ کی زندگی پر مبنی فلم ’اجے: دی ان ٹولڈ اسٹوری آف یوگی‘ ہے۔ ایک معیاری سوانحی فلم کا مقصد کسی شخصیت کے انسانی پہلوؤں، اس کی داخلی کشمکش اور اس کے سفر کی پیچیدگیوں کو غیر جانبداری سے پیش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ’اجے‘ اس کے برعکس ایک ایسی شخصیت کا تاثر پیش کرتی ہے جو کسی حقیقی انسان سے زیادہ ایک دیومالائی کردار معلوم ہوتا ہے: ایک کرشماتی، مقدس اور ہر خطا سے پاک رہنما۔ یہ فلم وزیر اعلیٰ کی سخت گیر اور متنازعہ شخصیت سے وابستہ ٹھوس حقائق اور تلخ سچائیوں پر احتیاط سے پردہ ڈالتے ہوئے ایک ایسا بیانیہ تعمیر کرتی ہے جو ان کی ہندو قوم پرستانہ سیاست کو ایک اخلاقی، روحانی اور قومی فریضے کے طور پر پیش کرے۔ یہ محض ایک فلم ساز کا تخلیقی انتخاب نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سیاسی انجینئرنگ کا کلیدی جزو ہے جس کا مقصد عوامی رائے کو ایک مخصوص سمت میں ڈھالنا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ، جو اپنی کٹر ہندو قوم پرست شناخت اور ’بلڈوزر انصاف‘ کے لیے عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں، ان کے دورِ حکومت پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی معتبر تنظیموں نے اپنی سالانہ رپورٹس میں اتر پردیش میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی اور اختلافِ رائے رکھنے والی آوازوں کو دبانے کے واقعات کو تفصیل سے قلم بند کیا ہے۔ خاص طور پر، شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال اور اقلیتی برادریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک کے الزامات ان رپورٹس کا مستقل حصہ رہے ہیں۔ ان ٹھوس شواہد اور عالمی تنقید کے باوجود، ’اجے‘ جیسی فلمیں ان تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے انہیں ایک نجات دہندہ اور ایک مثالی منتظم کے روپ میں پیش کرتی ہیں۔ یہ عمل جدید سنیما کی چکاچوند کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی پروپیگنڈے کو ایک نئی اور زیادہ قابلِ قبول شکل میں عوام تک پہنچانے کی ایک منظم کوشش ہے۔
بھارتی سنیما کی تاریخ میں ایک ایسا دور بھی تھا جب فلمیں طاقت کے عظیم ترین ایوانوں پر سوال اٹھاتی تھیں اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف ایک توانا آواز بن کر ابھرتی تھیں۔ 1956 میں ریلیز ہونے والی راج کپور کی ’جاگتے رہو‘ اور 1986 کی ’نیو دہلی ٹائمز‘ جیسی فلمیں ریاستی بدعنوانی، بیوروکریسی کی بے حسی اور عام آدمی کے مسائل کو بے باکی سے پردے پر لاتی تھیں۔ یہ فلمیں محض تفریح نہیں تھیں، بلکہ ایک صحت مند جمہوری معاشرے میں تنقیدی سوچ کو فروغ دینے کا ذریعہ تھیں۔ تاہم، 2014 میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، سنیما کا غالب بیانیہ ایک ڈرامائی تبدیلی سے گزرا ہے۔ سینٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز (CSDS) کی ایک جامع تحقیق اس تبدیلی کی تصدیق کرتی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، 2018 سے 2024 کے دوران ایسی فلموں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو واضح طور پر ہندو قوم پرستی کو فروغ دیتی ہیں اور حکمران جماعت کے نظریاتی موقف کی تائید کرتی ہیں۔
اس نئے بیانیے کو باکس آفس پر بھی غیر معمولی تجارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس نے اس رجحان کو مزید مستحکم کیا ہے۔ 2022 میں ریلیز ہونے والی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ نے 340 کروڑ بھارتی روپے سے زائد، اور 2023 کی ’دی کیرالہ اسٹوری‘ نے 288 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کیا۔ ان فلموں کی شاندار تجارتی کامیابی نے فلم سازوں اور سرمایہ کاروں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک مضبوط، جذباتی اور متنازعہ سیاسی بیانیہ ایک کامیاب تجارتی فارمولے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مالیاتی مفادات اور سیاسی سرپرستی ایک دوسرے سے مل کر ایک ایسی طاقتور قوت تشکیل دیتے ہیں جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی 2024 کی فلم ’دی سابرمتی رپورٹ‘ جیسی فلمیں ہیں، جو تاریخی واقعات کو ایک مخصوص نظریاتی زاویے سے پیش کرنے کی کوشش تھی۔ ان فلموں کو اکثر ریاستی حکومتوں کی جانب سے ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر مراعات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ سرکاری سرپرستی، جس کا اظہار بعض اوقات وزیر اعظم کی جانب سے ان فلموں کی عوامی سطح پر تعریف کی صورت میں بھی ہوتا ہے، ان کے سیاسی مقصد کو مزید تقویت بخشتی ہے۔ یہ فلمیں 2002 کے گودھرا سانحے جیسے حساس تاریخی واقعات کو ایک یک طرفہ عینک سے دکھاتی ہیں، جس کا بنیادی مقصد حکمران جماعت کے موقف کو تاریخی سچائی کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس (IMDb) پر ’انڈین پروپیگنڈا موویز‘ کے عنوان سے موجود ایک طویل فہرست اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ کوئی اتفاقی نہیں، بلکہ ایک منظم اور مربوط کوشش ہے۔ اس فہرست میں ’اُری: دی سرجیکل اسٹرائیک‘، ’تانہاجی‘، ’رام سیتو‘ اور ’دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر‘ جیسی فلمیں شامل ہیں، جو ایک مخصوص قومی اور نظریاتی بیانیے کو فروغ دیتی ہیں۔
اس بیانیے کا ایک سب سے تشویش ناک اور اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض پہلو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں کو منفی کرداروں میں پیش کرنا ہے۔ ’فائٹر‘ اور ’تیجس‘ جیسی فلموں میں مسلمانوں کو اکثر ملک دشمن، غدار یا دہشت گرد کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ یہ کردار نگاری معاشرے میں پہلے سے موجود تعصبات کو مزید گہرا کرتی ہے اور سماجی تقسیم کو ہوا دیتی ہے۔ اسی طرح، ’دی کیرالہ اسٹوری‘ میں ’لَو جہاد‘ جیسی غیر مصدقہ سازشی نظریات کو کہانی کا مرکزی محور بنایا گیا، جس میں یہ دکھایا گیا کہ مسلمان نوجوان منظم طریقے سے ہندو خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کروا رہے ہیں۔ یہ بیانیہ نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ایک ثقافتی جواز بھی فراہم کرتا ہے۔
اس پورے عمل کو سمجھنے کے لیے معروف دانشور نوم چومسکی کا نظریہ ’مینوفیکچرنگ کنسنٹ‘ (Manufacturing Consent) ایک مفید فکری ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، طاقتور ادارے اور حکمران طبقے میڈیا اور ثقافتی پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے عوامی رضامندی اور رائے کو اس طرح تشکیل دیتے ہیں جو ان کے مفادات کے مطابق ہو۔ موجودہ بھارت میں فلمی صنعت بڑی حد تک اسی نظریاتی ہتھیار کا کردار ادا کر رہی ہے، جو ملک کی صدیوں پرانی ’گنگا جمنی تہذیب‘ اور تکثیری شناخت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن رہی ہے۔
یہ صورتحال اب صرف بھارت کا داخلی معاملہ نہیں رہی، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فریڈم ہاؤس نے اپنی 2024 کی رپورٹ میں بھارت کی درجہ بندی کو ’آزاد‘ سے کم کر کے ’جزوی طور پر آزاد‘ (Partly Free) کر دیا ہے۔ فریڈم ہاؤس کی اس رپورٹ میں مسلمان شہریوں کے خلاف ماب لنچنگ، صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور عدالتی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت جمہوری رویوں کا ترجمان بننے کے بجائے نریندر مودی اور اس کی پارٹی ملک کو مطلق العنانیت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اسی طرح، امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے 2023 میں مسلسل چوتھے سال امریکی محکمہ خارجہ سے سفارش کی کہ بھارت کو ’خاص تشویش والے ملک‘ (Country of Particular Concern) کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ یہ بین الاقوامی جائزے بھارت کی جمہوری اور سیکولر اقدار کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں، اور سنیما کا یہ نیا بیانیہ ان خدشات کو مزید تقویت فراہم کر رہا ہے۔
تاہم، اس سیاسی گرد و غبار اور نظریاتی طوفان کے درمیان، بھارتی فلمی صنعت میں چند ایسی آوازیں بھی موجود ہیں جو تنقیدی فکر اور تخلیقی آزادی کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔ انوراگ کشیپ، دیپا مہتا جیسے فلم ساز اپنی تخلیقات کے ذریعے نہ صرف حساس سماجی اور سیاسی مسائل پر سوال اٹھاتے ہیں، بلکہ یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ فن کی اصل ذمہ داری محض تفریح فراہم کرنا نہیں، بلکہ حقیقت کے ان پہلوؤں کو بھی سامنے لانا ہے جنہیں طاقتور طبقے چھپانا چاہتے ہیں۔ ان کی فلمیں، جو اکثر مالی مشکلات اور سنسر شپ کے دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، دراصل فن کی اس عظیم روایت کا تسلسل ہیں جو حق گوئی اور اختلافِ رائے کو اپنا شعار بناتی ہے۔ ان کے برعکس، وہ فلم ساز جو تجارتی منافع اور سیاسی سرپرستی کو ہی اپنی منزل سمجھتے ہیں، وہ فن کی اس بنیادی اخلاقی ذمہ داری سے روگردانی کر کے دراصل خود فن کے دائرے کو محدود اور اس کی روح کو مجروح کر رہے ہیں۔
’اجے‘ اور اس قبیل کی دیگر فلمیں بھارت کے جمہوری مستقبل کے لیے ایک انتباہ ہیں۔ جب فن اور پروپیگنڈے کے درمیان کی لکیر دھندلا جاتی ہے، تو عوام کے لیے حقیقت اور افسانے میں تمیز کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں، آزاد صحافیوں، دانشوروں اور خود مختار فلم سازوں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ ہر بیانیے کا تنقیدی جائزہ لیں اور حقائق کو پوری دیانتداری سے عوام کے سامنے پیش کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو بھارت کو اس کی حقیقی جمہوری اور تکثیری اقدار کی طرف واپس لے جا سکتا ہے، ورنہ یہ فلمیں ایک طاقتور سیاسی مشینری کے کل پرزے بن کر معاشرے کو مزید جذباتی اور نظریاتی تقسیم کی گہری کھائی میں دھکیلتی رہیں گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے