कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فلسطین کے معصوم بچوں کی چیخیں، امت کی خاموشی کب ٹوٹے گی؟

از قلم: محمد شہزاد جامعی
امام و خطیب مسجد عائشہ و نائب صدر جمعیت علماء سلوڈ ضلع اورنگ آباد
پیش کردہ (سیّد عبدالقدوس علی)

جب سحری کے وقت قیامت ٹوٹی!
رات کا آخری پہر تھا۔ مؤذن کی آواز بلند ہونے کو تھی
"الصلاة خير من النوم” (نماز نیند سے بہتر ہے)
مسلمان نیند سے بیدار ہو رہے تھے، دسترخوان پر سحری چُن رہی تھی، ہر گھر میں ایک پُرسکون فضا تھی۔ لیکن اسی لمحے، فلسطین کی ایک گلی میں بمباری ہو رہی تھی، گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو رہی تھیں، اور ننھے معصوم بچے، جو ابھی چند لمحے پہلے ماں کی گود میں سحری کر رہے تھے، خون میں لت پت پڑے تھے۔
ایک بچہ جو ابھی تک زندہ تھا، اپنے شہید والد کو ہلاتے ہوئے رو رہا تھا:
"ابا، اٹھو نا! سحری کا وقت ہو گیا ہے… امی کہاں ہیں؟”
لیکن وہاں نہ امی تھیں، نہ ابا… نہ گھر تھا، نہ چھت… بس ایک وحشیانہ ظلم تھا، اور ظالموں کی سفاکی کے نشانات۔
اسی ملبے کے نیچے سے ایک فلسطینی نوجوان نے اپنے شہید پڑوسی کے بچوں کے ساتھ کھینچی گئی تصویر پر ایک جملہ لکھا:
"ظالموں نے سحری کے وقت دو ارب مسلمانوں کے سامنے ہم پر ظلم کیا، اور دو ارب مسلمان خاموش رہے، یا اللہ!”
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا، آنکھوں میں آنسو لیے فریاد کی:
"اے اللہ! ان خاموش مسلمانوں کا روزہ قبول نہ کرنا، جو ہماری چیخیں سن کر بھی چپ ہیں!”
یہ الفاظ کسی جذباتی تقریر کا حصہ نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہیں۔
ہم سب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے، روزہ رکھ کر، نمازیں پڑھ کر، تراویح میں قرآن کی تلاوت سن کر خوش ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ فلسطین میں وہ روزے کیسے رکھ رہے ہیں؟
کیا ہم نے سوچا کہ جس وقت ہم افطار کی کھجور منہ میں رکھ رہے ہوتے ہیں، کسی فلسطینی ماں کا بچہ اس وقت کفن میں لپٹا جا رہا ہوتا ہے؟
ہم کیا جواب دیں گے؟
یہ سوال بہت بڑا ہے، اور ہم سب کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔
قیامت کے دن جب فلسطین کے مظلوم بچے، وہ معصوم بچیاں، وہ بے سہارا مائیں ہمارا دامن پکڑ کر کہیں گی:
"اے امتِ مسلمہ! جب ہمارے گھروں پر بم برس رہے تھے، جب ہماری مسجدوں کو آگ لگ رہی تھی، جب ہمارے والدین کے لاشے سڑکوں پر پڑے تھے، تم کہاں تھے؟ تم نے ہمارے لیے کیا کیا؟”
کیا ہم جواب دے سکیں گے؟
کیا ہم کہیں گے کہ ہم نے صرف ایک دو افسوس بھرے پیغامات لکھے؟
یا ہم نے سوشل میڈیا پر صرف ایک "افسوسناک” کا کمنٹ کیا؟

یہ وقت کچھ کرنے کا ہے!

ہم کیا کر سکتے ہیں؟
دعا کریں – لیکن صرف رسمی دعا نہیں، دل سے، سچے آنسوؤں کے ساتھ، اللہ کے حضور گڑگڑا کر۔ آج طاق رات بھی ہے ۔
فلسطین کے حق میں آواز بلند کریں – اپنی تحریر، تقریر، اور ہر ممکن طریقے سے دنیا کو بتائیں کہ فلسطین پر ظلم ہو رہا ہے۔
مدد کے ذرائع تلاش کریں جو بھی حقیقی، معتبر ذرائع ہوں، وہاں تک امداد پہنچانے کی کوشش کریں۔
بائیکاٹ کریں – ان برانڈز، ان مصنوعات کا جو ظالموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اپنے ایمان کو مضبوط کریں – تاکہ ہم دین کی بنیاد پر ایک امت بن کر کھڑے ہو سکیں، اور آئندہ فلسطین جیسے سانحات پر خاموش نہ رہیں۔

امت مسلمہ، جاگ جاؤ!

یہ وقت نیند کا نہیں، سستی کا نہیں، خاموش رہنے کا نہیں۔
یہ وقت فلسطین کے لیے کچھ کرنے کا ہے۔
اگر ہم اب بھی خاموش رہے، تو شاید اگلی نسل ہمیں معاف نہ کرے، اور قیامت کے دن ہم اللہ کے سامنے شرمندہ کھڑے ہوں۔
اللّٰہ ہمیں بیداری عطا فرمائے، ہمیں عمل کی توفیق دے، اور فلسطین کے مظلوموں کی نصرت فرمائے۔ آمین!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے