कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فقیہ کی فضیلت قرآن و حدیث اور اقوال کبار کی روشنی میں

تحریر: ابو خالد قاسمی

اسلام ایک کامل و اکمل دین ہے، جس کی بنیاد وحیِ الٰہی پر اور جس کی تعبیر و تشریح سنتِ مصطفوی ﷺ پر قائم ہے۔ اس دین کی حفاظت، اس کے معانی کی توضیح، اس کے احکام کی تفہیم اور اس کے مقاصد کی درست تعبیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس طبقے کو چُنا اور جس مقام کو امتیاز بخشا، وہ طبقہ فقہاء کا ہے۔ فقیہ دین کا شارح بھی ہے اور اُمت کے لئے چراغِ راہ بھی۔ تاریخِ اسلام کا ہر دور اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جہاں علمائے حدیث اور مفسرینِ قرآن نے نصوص کی حفاظت کی، وہیں فقہاء نے ان نصوص کے عملی اطلاقات، فروعی احکام اور انسانی ضرورتوں سے ہم آہنگ قوانین وضع کر کے امت پر ایک ایسا احسان فرمایا جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے امت کے مختلف ادوار، اس کے عروج و زوال اور فتنوں کے ظہور پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اگرچہ امت پر ایسے اوقات بھی آئیں گے جہاں شرور، نقائص، فتن، گمراہیاں اور باطنی کمزوریاں بکثرت ظاہر ہو جائیں گی، حتیٰ کہ کبھی مغلوبیت اور محکومیت کے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں؛ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کا ارادۂ خیر امت کے ایک مخصوص طبقے کے ساتھ ہمیشہ قائم رہے گا۔
یہی طبقہ وہ ہے جو دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے، فتنے کے دور میں حق کا مشعل بردار ہوتا ہے اور امت کا فکری، علمی اور شرعی سہارا بنتا ہے۔ اسی مضمون کی طرف پیغمبرِ اسلام ﷺ نے متعدد مواقع پر اشارہ فرمایا اور واضح کیا کہ فتنوں کے آخری دور میں بھی اہلِ خیر اور اصحابِ علم کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یَا أَیُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَالْفِقْهُ بِالتَّفَقُّهِ، وَمَنْ یُرِدِ اللهُ بِهٖ خَیْرًا یُفَقِّهْهُ فِي الدِّیْنِ. وَإِنَّمَا یَخْشَی اللهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ۔
( المدخل، 1: 253، رقم: 352؛
-مجمع الزوائد، 1: 128)
یہ حدیث شریف تین بنیادی حقیقتوں پر مشتمل ہے:
علم محض نقل کا نام نہیں، بلکہ سیکھنے کے عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ فقہ محض علم نہیں بلکہ گہری سمجھ بوجھ، اصولی بصیرت اور شرعی حکمت ہے۔ جس شخص کے لیے اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی گہری سمجھ عطا فرماتا ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ صرف معلومات کا حامل ہونا کافی نہیں؛ اصل فضیلت تفقہ فی الدین کی ہے، یعنی نصوصِ شرعیہ کے معانی، مقاصد اور حکمتوں کو اخذ کرنے کی صلاحیت۔
فقہ دین کی زبان بھی ہے اور اسلامی معاشرت کا آئینہ بھی۔ فقہ ایک ایسا جامع نظام ہے جو: زندگی کے ہر گوشے سے متعلق ہے، انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے، اصول و فروع دونوں کا احاطہ کرتا ہے، اور شریعت کے مزاج کو عملی شکل دیتا ہے۔
اس کی حیثیت اس قدر بنیادی ہے کہ اسلامی قانون کا پورا نظام کتاب اللہ اور سنتِ رسول کاللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ مصادر سے اخذ کر کے فقہی قالب میں ڈھلتا ہے۔ چنانچہ اسلامی قانون کا امتیاز:
عدل، اعتدال، اعترافِ انسانی ضرورت، جامعیت، سہولت، اور حیرت انگیز لچک میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا دائرہ پیدائش سے موت تک اور عبادات سے معاملات، معاشرت، سیاست، عدالت اور معیشت تک پھیلا ہوا ہے۔ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے:
“الفقہ طریقۃ الحیاۃ”
(فقہ اسلامی، ص 320)
یعنی فقہ دراصل زندگی کا راستہ اور رہنما ہے۔
امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمدؒ ان کے بعد دیگر علمائے کرام نے قرآن و حدیث میں غوطہ زنی کی اور اصولِ فقہ کے استنباطی طریقوں سے امت کے جدید و قدیم مسائل کو حل کیا، اور آنے والے زمانوں کے لیے ایک ایسا عظیم علمی سرمایہ جمع کر دیا جو آج بھی پوری دنیا میں مسلمانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔
علامہ مفتی ظفیر الدین صاحب لکھتے ہیں: فقہ و فتاویٰ ایسا فن ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں؛ انسانی زندگی کے مسائل اور روزمرہ کے احکام کا حل وہیں سے ملتا ہے۔’
(مقدمہ فتاویٰ دار العلوم، ص 78)
اسی طرح مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ فرماتے ہیں: اسلام چونکہ ایک عالمگیر مذہب ہے، اس لیے فقہ میں جو لچک اور جامعیت ہے، وہ اسی عالمگیریت کا نتیجہ ہے۔
(ماہنامہ برہان، دہلی، فروری 1945ء، ص 82)
مولانا عبداللہ سندھیؒ کے حوالے سے لکھا گیا ہے: اسلامی فتوحات کے بعد قرآن کے قانون کو جاری رکھنے کے لیے فقہاء کے مختلف مذاہب وجود میں آئے۔ (سرور صاحب، ص 23)
فقہاء کا مقام اتنا بلند ہے کہ امت کے عظیم ترین محدثین بھی فقہ کے سامنے احتراماً جھک جاتے تھے۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں: ہر علم و فن میں میری اپنی رائے ہے، مگر فقہ میں میری کوئی رائے نہیں؛ میں ابو حنیفہؒ کی تقلید کرتا ہوں۔ (نقشِ دوام، ص 441)
یہ ارشاد فقہ کی عظمت اور فقہائے امت کی علمی مقام کے لیے ایک فیصلہ کن دلیل ہے۔
حدیثِ مبارکہ میں بھی فقہاء کی فضیلت واضح طور پر بیان ہوئی ہے، جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک فقیہہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے۔
(ترمذي، کتاب العلم، باب ما جاء في فضل الفقه علی العبادة، 5/ 48، الرقم/ 2681، ابن ماجه ، المقدمة، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، 1/ 81)
اس سے پتہ چلا کہ عبادت کے ساتھ گہری بصیرت رکھنے والا فقیہہ شیطان کے مکائد کو بہتر سمجھتا ہے، اس لیے اس کی اہمیت کئی گنا زیادہ ہے۔
فقہ: کتاب و سنت کی خوشبو
جیسے شربت پانی اور چینی ہی کا دوسرا نام ہے، ویسے ہی فقہ کتاب و سنت کی عملی خوشبو ہے۔
اگر کتاب و سنت پھول ہیں، تو
فقہ اُن پھولوں کی مہک ہے۔
(تہذیب الکمال 24/464 بحوالہ غیر مقلدین امام بخاری کی عدالت میں، ص 99)
واضح رہے کہ جہاں فقہ کی فضیلت واہمیت کا بیان ہے وہاں فقیہ کی کی فضیلت بھی مضمر ہے ، کیونکہ یہ دونوں آپس میں تلازم کی سی نسبت کے حامل ہیں ۔
فقیہ کی فضیلت میں اقوال کبار ۔
حاكم نيشاپوري فرماتے ہیں:
هم قوم سلكوا محجة الصالحين واتبعوا آثار السلف من الماضين ودمغوا أهل البدع والمخالفين بسنن رسول الله وعلى آله أجمعين…
[الرحلة في طلب الحديث، ص: 200]
سفيان: مَثَلُ الْعَالِمِ مَثَلُ الطَّبِيبِ لَا يَضَعُ الدَّوَاءَ إِلَّا عَلَى مَوْضِعِ الدَّاءِ [حلية الأولياء 6/368]
أبي قلابة: مَثَلُ الْعُلَمَاءِ فِي الأَرْضِ مَثَلُ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ…
[العقد الفريد 6/19]
ابن القيم:فَهُمْ فِي الأَرْضِ بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ…
[إعلام الموقعين 1/8]
الإمام أحمد بن حنبل: الحمد لله الذي جعل في كل زمان فترة من الرسل بقايا من أهل العلم…
[إعلام الموقعين 1/1]
سفيان بن عيينة: ارْفَعْ النَّاس منزلة عند الله من كَانَ بَيْنِ اللهِ وَبَين عباده…
[مفتاح دار السعادة 1/119] الحسن البصري: لولا العلماء لصار الناس مثل البهائم.
[التبصرة لابن الجوزي 2/193] ابن المبارك: حقٌّ عَلَى العَاقِلِ أَنْ لا يَسْتَحْفَّ بِثَلَاثَةٍ…
[سير أعلام النبلاء للذهبي 13/46]
الشعبي: جَالِسُوا الْعُلَمَاءَ؛ فَإِنَّكُمْ إِنْ أَحْسَنْتُمْ حَمَدُوكُمْ…
[جامع بيان العلم 1/515] الشعبي: كُلُّ أُمَّةٍ عُلَمَاؤُهَا شِرَارُهَا إِلَّا الْمُسْلِمِينَ…
[الإيمان لابن تيمية، ص: 270]
شافعي: لَوْلَا الْمَحَابِرُ، لَخَطَبَتْ الزَّنَادِقَةُ عَلَى الْمَنَابِرِ.
[الآداب الشرعية 2/127]
یہ محض چند اقوال ہیں ، جن سے فقیہ کا رتبہ اور مقام سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ، الغرض اللہ تعالیٰ نے فقیہ کو بڑا رتبہ عطا کیا ہے ، علماء نے فقیہ کی خوب مدح سرائی کی ہے ۔ یہ مختصر سی تحریر اس کے احاطے سے قاصر ۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ، اور ہمارے علماء اکابرین جنہوں نے انتھک کوششوں کے بعد یہ دین ہم تک پہنچایا ہے ان کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے