कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فقر کی روشنی میں پروان چڑھتا علم

تحریر:ابو خالد

حمد اس خدا کے لیے ہے جس نے علم کو رفعت و کرامت کا ذریعہ بنایا، تقویٰ کو سعادت کا اساس ٹھہرایا، اور فہم و ادراک کے لیے نہ دولت کو شرط قرار دیا، نہ فقر کو مانعِ نبوغ بنایا۔ اسی کی حکمت کا ظہور ہے کہ اُس نے اکثر بڑے اہلِ علم کو فقراء میں سے پیدا فرمایا، کیونکہ فقیر کا دل عموماً تکبر سے پاک ہوتا ہے، اور اس کی ہمت میں دنیاوی مصارف اور مصروفیات کی کمی ہوتی ہے۔ یہی دو اوصاف—تواضع، اور دل کا فارغ ہونا—علم کے حصول، اس کے حفظ، اس کے فہم اور اس کی برکت کا حقیقی سرمایہ بنتے ہیں۔ چنانچہ اس حقیقت کو ایک ادیب نے نہایت بصیرت کے ساتھ یوں کہا کہ گویا اللہ کی سنت ہے کہ جِلّۂ علما زیادہ تر فقراء میں سے ہوں، اور شاعر نے بھی فقر سے گویا شکوہ کرتے ہوئے کہا:
قلت للفقر أين أنت مقيم؟ إن بيني وبينهم لإخاء
قال لي في عمائم الفقهاء، وعزيز عليّ قطع الإخاء!
علماء کا فقر ضعف یا کمتری کا نام نہیں، یہ محض جیب کا فقر ہے، دل کا نہیں۔ ان کے قلوب ایمان، یقین اور حسنِ ظنِ الٰہی کی دولت سے اس درجہ لبریز ہوتے ہیں کہ بڑے بڑے مالداروں کے خزانوں سے بھی زیادہ قیمتی معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ غنا بھی آزمائش ہے اور فقر بھی امتحان؛ اصل فضیلت عمل صالح، دل کے قناعت پسند ہونے اور خشوع و اخلاص کے اُس نور میں ہے جو اللہ اپنے خاص بندوں کے دلوں میں رکھتا ہے۔
(دیکھئیے تفصیل: مواقف وکلمات صنعت علماء: ٣١-٣٧)
ایک حکیم نے کیا خوب کہا:
شغلنا بكسب العلم عن مكسب الغنى
كما شغلوا عن مكسب العلم بالوفر
وصار لهم حظ من الجهل والغنى
وصار لنا حق من العلم والفقر (١)
یعنی ایک گروہ دولت میں مشغول ہو کر علم سے محروم ہوا، اور دوسرا گروہ علم میں مشغول رہ کر غنا کی کمی پر صبر کرتا رہا، مگر یہی فقر اس کا سرمایہ اور اس کی قوت بنا۔
بزرجمہر سے پوچھا گیا کہ علم افضل ہے یا مال؟ انہوں نے صاف اور فیصلہ کن جواب دیا کہ علم افضل ہے۔ پھر سوال ہوا کہ اگر علم فضیلت رکھتا ہے تو علماء کو امیروں کے دروازوں پر کیوں دیکھا جاتا ہے؟ اس پر ان کا جواب حکمت سے بھرپور تھا کہ علماء مال کی حاجت اور اس کے نفع کو جانتے ہیں، مگر اغنیاء علم کی قدر اور اس کی قوت سے ناواقف ہیں (٢)۔ یہ وہ کلمہ ہے جو علم و دولت کے فرق کو نہایت بلیغ پیرایے میں واضح کر دیتا ہے۔
انبیا علیہم السلام بھی فقر سے مستثنیٰ نہ تھے۔ متعدد انبیا انتہائی تنگ دستی میں زندگی گزارتے تھے، اور یہی اُن کے لیے مقامِ قرب و ابتلاء کا ذریعہ تھا۔ امام ماوردی لکھتے ہیں کہ اکثر انبیا—اپنی تمام تر عظمت اور اللہ کی عطا کردہ کرامت کے باوجود—فقراء ہی تھے، نہ ان کے پاس دنیا کا سازوسامان تھا، نہ وہ مالی آسائشوں کے مالک تھے (٣)۔ شاعرانہ پیرایہ میں اسی حقیقت کو یوں بیان کیا گیا ہے:
إذا فنعت بميسور من القوت
أصبحت في الناس حراً غير ممقوت
… فلست آسى على در ويَاقوت (٤)
یعنی اگر زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو جائیں تو انسان کی عزت قائم رہتی ہے، پھر سونے اور یاقوت پر افسوس کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔
علماء کے لیے فقر اور ابتلاء دونوں آزمائش بھی ہیں اور نشانیِ قبولیت بھی۔ ابو شامة لکھتے ہیں کہ جسے اللہ علم کے مقام پر فائز کرے، اسے چاہیے کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا کرے، دنیا کے فائتوں پر غم نہ کرے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ اسے اپنے مقبول بندوں میں شامل کر رہا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سب سے سخت آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر علماء پر، پھر صالحین پر (٥)۔ یہی احساس ایک شاعر کے کلام میں بھی جھلکتا ہے:
فقر كفقر الأنبياء وغربة
وصبابة ليس البلاء بواحد
یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھار دنیا کی فراوانی انسان کو کفر کے قریب لے جاتی ہے، جبکہ فقر مومن کے ایمان کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے:
كم كافر بالله تزداد أضعافاً
على كفره أمواله
ومؤمن يزداد إيمانا
على فقره ليس له درهم
يا لائم الدهر وأفعاله
مشغلاً يزري على دهره
الدهر مأمور ينصرف الدهر على أمره (٦)
کتنی گہری بات ہے کہ دولت ہمیشہ خیر کی علامت نہیں ہوتی، اور فقر ہمیشہ نقص نہیں ہوتا۔
اسی طرح ترف اور عیش و عشرت علمی نبوغ کے دشمن ہیں۔ شیخ محمد الخضر حسین فرماتے ہیں کہ بے جا آسائش نسلوں کی ذہانت کو کمزور کر دیتی ہے، کیونکہ عیش میں پلنے والا شخص مصائب اور محنت کے مقابلے میں ثابت قدم نہیں رہ پاتا (٧)۔ یہ قول علم کے طلبگاروں کے لیے پوری ایک نصیحت ہے۔
فقراء علماء کی زندگیاں اس امر کی روشنی ہیں کہ فقر کبھی علم کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ربیعۃ الرأی کا حال یہ تھا کہ قضائے حاجت کے بعد مدینہ کی گلیوں میں پھینکے ہوئے کھجور کے چھلکوں اور اس کی لسی پر گزارا کرتے، مگر وہ فقہ و رائے میں امام بنے۔ امام مالک فرمایا کرتے تھے کہ علم تبھی حاصل ہوگا جب انسان فقر کا ذائقہ چکھ لے (٨)۔
ابو صالح السمان غریب تیل فروش تھے؛ ابو ہریرہؓ ان کی شخصیت دیکھ کر فرمایا کرتے کہ دیکھنے میں تو یہ قریش کے سرداروں جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ خود کہتے کہ میری ساری دنیاوی خواہش صرف اتنی تھی کہ میرے پاس دو اچھے کپڑے ہوں جن میں بیٹھ کر ابو ہریرہؓ سے احادیث سیکھ سکوں (٩)۔ پھر وہی شخص القدوة، الحافظ، الحجة کہلایا (١٠)۔
امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ میں حدیث و فقہ کی طلب میں انتہائی تنگ دستی میں مبتلا تھا (١١)، مگر اسی علم نے انہیں قاضی القضاۃ کے منصب تک پہنچا دیا۔
شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ میں جنگلوں میں کانٹے دار بیر کھا کر زندہ رہا، کئی کئی دن فاقہ کرتا رہا (١٢)۔
امام شافعی کا حال یہ تھا کہ ان کی والدہ کے پاس کتابت خریدنے کے لیے پیسے نہ تھے، تو وہ جانوروں کی ہڈیوں پر لکھ کر علم محفوظ کرتے (١٣)۔ شاعر نے انہی کے بارے میں کہا:
لا يدرك العلم بطال ولا كسل… (١٤)
امام ابراہیم حربی فرماتے ہیں کہ میری ماں اکثر صرف بھنا ہوا بیگن یا مولی کی چھوٹی سی گڈی دے کر مجھے علم کے لیے روانہ کرتی تھیں (١٥)۔
یہ سب مثالیں اس حقیقت کو جگمگاتی دلیلوں کی طرح واضح کرتی ہیں کہ فقر کبھی علم کی بلندیوں میں رکاوٹ نہیں بنتا، بلکہ اکثر اوقات یہی فقر انسان کے اندر وہ صبر، وہ ہمت، وہ اخلاص اور وہ تواضع پیدا کرتا ہے جو اسے غیر معمولی نبوغ اور مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ دنیاوی تنگی علم کے راستے کی رکاوٹ نہیں، بلکہ بڑے لوگوں کے سفرِ علم کی خاموش سہی مگر طاقتور بنیاد رہی ہے۔
مصادر حسب ترتیب نمبر :
(۱) صفحات من صبر العلماء، ص 161
(۲) أدب الدنيا والدين، ص 37
(۳) الآداب الشرعية والمنح المرعية، ج 3، ص 486
(۴) الآداب الشرعية والمنح المرعية، ج 3، ص 486–487
(۵) سنن ابن ماجه، حدیث 4313؛ المستدرك للحاكم، حدیث 5463
(۶) الآداب الشرعية والمنح المرعية، ج 3، ص 486–487
(۷) الأعمال الكاملة — مضار الإسراف، ج 4، ص 137
(۸) جامع بيان العلم، ج 1، ص 410؛ نیز الدلائل النورانية، ص 154–155
(۹) العِلم لزهير، ص 83
(۱۰) سير أعلام النبلاء، ج 5، ص 36
(۱۱) تاريخ بغداد، ج 6، ص 522
(۱۲) الهمة طريق القمة، ص 41
(۱۳) جامع بيان العلم، ج 1، ص 413؛ مناقب الشافعي، ج 1، ص 94–95
(۱۴) قطوف الريحان، ص 255
(۱۵) تاريخ بغداد، ج 6، ص 522

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے