कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فضول خرچی کفرانِ نعمت ہے

تحریر:مفتی محمد اسلم جامعی
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں )
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

خداوند قدوس نے جسمِ خاکی سے آراستہ انسان کو بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہیں جو حدِّ احصاء سے باہر ہے، ان نعمتوں میں مال (یعنی روپیہ پیسہ نوٹ رقم وغیرہ) ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کے لیے سہارا اور مایۂ زندگانی ہے، چنانچہ مفتی سعید صاحب پالنپوری رح نے لکھا ہیں کہ قرآن پاک میں خداوند عالم نے دو چیزوں کو قِیَامُ لِلنَّاس کہا ایک مال اور دوسرے کعبہ شریف کو وَلَا تُؤتُؤ السُّفْھَاءَ اَمْوَالُکُمُ الَّتِىْ جَعَلَ اَللّٰهُ لَکُمْ قِیٰماً (سورہ نساء) اور تم ناسمجھوں کو اپنے وہ اموال مت دو جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے سہارا بنایا، اور کعبہ کے متعلق ارشادِ خداوندی ہے جَعَلَ اَللّٰهُ الْکَعْبَة الْحَرَام قیٰماً لِلنَّاسِ (سورہ مائدہ) اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جوکہ محترم گھر ہے، لوگوں کے قائم رہنے کا سبب بنایا ہے، یعنی جب تک کعبہ شریف باقی ہے، دنیا باقی ہے اور جب کفّار اس کو منہدم کردیں گے تو جلد قیامت آجائے گی، غرض اس تعبیر سے جس طرح کعبہ شریف کی اہمیت آشکارا ہوتی ہے مال کی اہمیت بھی آشکارا ہوتی ہے، مال لوگوں کے لیے سہارا ہے اور مایۂ زندگانی ہے، اس لیے جائز راہوں سے مال کمانا چاۂیے، خرچ کرنا چاہیے اور کچھ جمع بھی رکھنا چاہیے، بالکل خالی ہاتھ نہیں ہوجانا چاہیے، اندوختہ ہو تو آدمی باہمت رہتا ہے، ورنہ کمر ٹوٹ جاتی ہے، (تفسیر ہدایت القرآن جلد١ صفحہ نمبر ٥٦٣) علامہ زمخشری رح نے اس آیت کے تحت لکھا کہ وكان السلف يقولون المال سلاح المؤمن، مال مؤمن کا ہتھیار ہے، (تفسیر کشاف صفحہ ٢١٩ ) جیسے ہتھیار سے آدمی اپنی حفاظت اور دفاع کرتا ہے، ایسے ہی مال کے ذریعہ بھی انسان اپنے ایمان آبرو،اور عزت کی حفاظت کرسکتا ہے یقیناً یہ مال کا فائدۂ عظیم ہے، مفتی شفیع عثمانی صاحب رح نے معارف القرآن میں لکھا کہ ان آیات میں ایک طرف تو مال کی اہمیت اور انسانی معاش میں اس کا بڑا دخل ہونا بیان فرماکر اس کی حفاظت کا داعیہ قلوب میں پیدا کیا گیا،……. مال کی حفاظت ضروری امر ہے اس کو ضائع کرنا گناہ ہے اپنے مال کی حفاظت کرتے کوئی شخص مقتول ہوجائے تو شہید ہے جیسا کہ جان کی حفاظت کرتے ہوئے مقتول ہونے پر شہادت کا اجرِ موعود ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مَن قُتِلَ دُوْنَ مَالِه فَھو شَھیدٌ (بخاری ) اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے جو شخص مقتول ہوجائے وہ شہید ہے یعنی ثواب کے اعتبار سے شہیدوں میں شمار ہے،( معارف القرآن جلد ٢ صفحہ ٣٤٧) مال بذات خود بُری چیز نہیں ہے بلکہ ایک اچھی چیز ہے اور موجودہ زمانہ میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے زمانۂ سابق میں بزرگوں سے مال کی بُرائی اور مذمت جو منقول ہے وہ اس اعتبار سے کہ آدمی اللہ کی عطاکردہ نعمت، مال کو گناہوں اور خواہشاتِ نفسانی میں خرچ کرکے عقبیٰ کے عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے اور بعض مرتبہ، دولتِ فرواں یادِ الٰہی سے غفلت اور فکرِ آخرت سے بے پرواہی کا نتیجہ ہوتی ہے اس لیے بزرگوں نے کثرتِ مال کو ناپسند کیا ہے، اگر مال کی کثرت اور فراوانی کے ساتھ یہ باتیں نہ تو موجودہ زمانہ میں مال کی فراوانی اور کثرت محمود بلکہ افضل ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نِعّما بالمال الصالح للرجل الصالح (مشکوة کتاب الامارة) نیک آدمی کے لیے اس کا اچھا اور پاکیزہ مال بہترین متاعِ حیات ہے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ لَا بأس بالغنی لمن تقی الله عزوجل (مشکوة کتاب الرقاق) جوشخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہو اس کی مالداری میں دین کا کوئی حرج نہیں، موجودہ زمانے میں مال انسان کے دین و ایمان اور عزت و ابرو کے تحفظ اور بقا کا ذریعہ ہے، چنانچہ ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا – (مشكوة کتاب الأدب ) وہ یعنی تنگدستی انسان کو بعض اوقات کافر بنا سکتی ہےحضرت سفیان ثوری رح نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: "كَانَ الْمَالُ فِيمَا مَضَى يُكْرَهُ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَهُوَ تُرْسُ الْمُؤْمِنِ» یعنی زمانۂ سابق میں مال کو پاس رکھنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ مال مؤمن کی ڈھال ہے ۔ نیز انہوں نے فرمایا: "مَنْ كَانَ فِي يَدِهِ مِنْ هَذِهِ شَيْئًا فَلْيُصْلِحُهُ فَإِنَّهُ زَمَانٌ إِنِ احْتَاجَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ يَبْذُلُ دِينَهُ، یعنی جس کے پاس دراہیم ودنانیر میں سے کچھ موجود ہو اُسے چاہئے کہ اس مال کو مناسب طریقے پر کام میں لائے، کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے کہ اگر کچھ حاجت پیش آگئی تو انسان سب سے پہلے حاجت پوری کرنے کے لئے اپنے دین ہی کو خرچ کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ حاجت پورے کرنے کی اہمیت دین پر چلنے سے زیادہ ہوگئی۔ (مشکوۃ، کتاب الرقاق ، معارف القرآن جلد٢ صفحہ ٣٤٨) مسند احمد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لَیأتینَّ علی النَّاس زمانٌ لَا یَنْفع فیه اِلّا الدّینار و الدّرھم (مسند احمد کتاب البیوع والکسب المعاش) الفتح الربّانی کے مصنف نے اس روایت کی اسنادی حالت کے متعلق فرمایا کہ ضعیف ہے مگر چونکہ فضائل میں علماء کرام نے اس طرح کی روایت کا اعتبار کیا ہے) لوگوں پر ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جب درہم و دینار (روپیہ اور پیسہ) ہی کام آئیں گے، حاکم نے مستدرک میں ایک روایت بطورِ شاہد کے نقل کی( اور کہا کہ شاہدہ لیس من ھذا الکتاب یعنی یہ حدیث ہماری اس کتاب کے معیار پر نہیں ہے، علامہ شمس الدين ذہبی رح نے مختصر المستدرک میں اس روایت کو ذکر کر کے فرمایا قلت ابو عصمہ ھالک) کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مَنِ اسْتَطَاع مِنْکُم ان بقی دینه و عرضه بماله فليفعل (المستدرك علی الصحیحین للحاکم کتاب البیوع ) تم میں سے جو شخص اپنے دین و ایمان اور عزت و ابرو کی حفاظت مال کے ذریعہ کرسکتا ہو، اُسے ضرور کرنا چاہیے، ان تمام تفاصيل سے مال یعنی روپیہ پیسہ کی اہمیت و افادیت، حلال راہوں سے کمانے اور بطورِ اندوختہ رکھنا آشکارا ہوگیا، یعنی آدمی مال کمانے میں بھی شریعتِ مطہرہ کا پابند اور خرچ کرنے میں بھی شریعت کے حکموں کا پابند ہے، بے جا طور پر مال خرچ کرنے سے حکمِ خداوندی کی مخالفت کے ساتھ کفرانِ نعمت کی پاداش میں اخوانِ شیاطین کے زمرے میں شمولیت ہوجاتی ہے خرچ میں میانہ روی اختیار کرنے کے تئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الاقتصاد فی النّفْقة نصف المعيشة، خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار نصف معیشت ہے، (کیوں کہ زندگی گزارنے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں، ایک تو محنت و جدوجہد کرکے حلال آمدنی کا انتظام کرنا اور دوسرا جو کچھ آمدنی ہو اس کے مطابق اعتدال کے ساتھ اخراجات کا انتظام کرنا اس میں معیشت کا آدھا انتظام ہے) فضول خرچی کے بارے میں قرآن مجید میں دو لفظ مذکور ہے، ایک اسراف،اور دوسرا تبذیر، عام طور پر دونوں کا ترجمہ فضول خرچی سے کیا جاتا ہے مگر بعض علماء نے دونوں کے معنی میں فرق بیان کیا ہے، اسراف کا معنی ہے، ضروریاتِ زندگی میں بے اعتدالی یعنی اپنی استطاعت و ضرورت سے زیادہ یا حد سے بڑھ کر خرچ کرے کہ قرض کی نوبت آجائے یا اس میں دوسرے کی حق تلفی ہوجائے اسی کو اسراف کہتے ہیں مثلاً ایک شخص اپنی جائز خوشی و ضرورت کو ایک ہزار روپے میں پورا کرنے کی طاقت و حیثیت رکھتا ہے، مگر وہ سماجی، رسم و رواج کے بار میں یا رفقاء کے اصرار یا جیران و اقرباء کی خاطر و خواہش اور شرما شرمی میں کسی سے قرض لیکر خرچ کریں، اسی کو اسراف یعنی فضول خرچی کہا جاتا ہے شریعتِ مطہرہ کی رو سے یہ ناجائز اور نادرست ہے بہت سارے لوگ اس مہلک مرض میں مبتلا ہیں کہ اپنی حلال اور جائز آمدنی کا بعض، بلکہ بیشتر حصہ آدمی اسی طرح کے فضول خرچی والے عمل میں صرف کردیتا ہے جو شریعت مطہرہ کی نگاہ میں فعلِ حرام ہے اس لیے ضروریاتِ زندگی میں بھی حدِّ اعتدال سے خرچ کریں اور کچھ بطورِ اندوختہ کریں کے رکھیں تاکہ بہ وقت ضرورت کام آئیں، اور یہ اندوختہ توکل کے خلاف نہیں، اور دوسرا تبزیر ہے، جس کا مطلب ہے کہ بندہ جائز ضروریات کے بجائے فضولیات، فضول تقریبات، منکرات اور معاصی میں مال خرچ کریں یہ عمل بھی ناجائز اور حرام ہے سخت گناہ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے، راقم السطور کے ذہن میں ایسی بہت ساری مثال ہے کہ بعض نوجوان ہفتہ بھر محنت مزدوری کرتے ہیں اور اپنی ہفتہ بھر کی تنخواہ فضولیات اور دیگر ایسے کاموں میں خرچ کردیتے ہے جو اللہ کی ناراضی کا سبب ہوتا ہے بلکہ کچھ ایسے نوجوان بھی ہے جو چند سو روپے گھر پر دیتے ہیں اور بقیہ رقم اپنے شوق اور دیگر فضولیات پر صرف کرتے ہیں اس لیے فضول خرچی سے بچیں البتہ خیر کے کاموں میں خرچ کرنا، فضول خرچی نہیں ہے، بلکہ اگر آدمی اپنی پوری رقم بھی خیر کے کاموں میں خرچ کردیں تو وہ فضول خرچی نہیں جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس لیے کچھ اندوختہ بھی کریں اور دیگر کارِ خیر میں بھی حصہ لیں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے