कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فجر کی نماز میں کم حاضری ایک سنجیدہ سماجی اور ایمانی مسئلہ

تحریر: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر: مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد (مہاراشٹر)
موبائل: 9325217306

ہماری مساجد آج بھی آباد ہیں، میناروں سے اذانوں کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، مؤذنوں کی آوازیں دلوں کو جگا رہی ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ فجر کی اذان کے بعد مساجد کے اندر جو منظر نظر آتا ہے، وہ ایمان کو جھنجھوڑ دینے والا ہوتا ہے۔ صفیں خالی، نمازیوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ حالانکہ فجر کی نماز قرآن و سنت کی روشنی میں سب سے زیادہ فضیلت والی نماز ہے۔
گویا امت مسلمہ کے عروج وزوال کا انحصار اور دار ومدار نماز فجر میں پوشیدہ ہے پابندی نماز میں عروج اور اعراض وانحراف میں زوال مضمر ہے کاش امت مسلمہ اس نکتے پر غور و فکر سے کام لے
فجر کی نماز کی فضیلت:
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص فجر اور عصر کی نماز پڑھ لے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔” (صحیح بخاری)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“فجر کی دو رکعت (سنت) دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے۔” (مسلم شریف)
یعنی یہ وہ عبادت ہے جس کی اہمیت اللہ کے نزدیک اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کی تمام نعمتیں بھی اس کے برابر نہیں۔
مگر افسوس..
آج حالت یہ ہے کہ مساجد میں فجر کے وقت چند ضعیف بزرگ اور چند دین سے محبت رکھنے والے نوجوان ہی دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ وہی مسجد عشاء میں بھر جاتی ہے، جمعہ کے دن جگہ کم پڑ جاتی ہے، اور تراویح میں رش کا عالم یہ ہوتا ہے کہ صفوں کے لیے جگہ نہیں ملتی۔ سوال یہ ہے کہ آخر فجر کی نماز سے اتنی غفلت کیوں؟
وجوہات کا تجزیہ:
رات دیر تک جاگنا، موبائل فون، سوشل میڈیا، فلمیں اور گپ شپ میں وقت ضائع کرنا ہماری نیند کے نظام کو بگاڑ چکا ہے۔ لوگ دیر سے سوتے ہیں، اس لیے فجر کے وقت اٹھنا ان کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ ایمان کی کمزوری بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر دل میں آخرت کا یقین مضبوط ہو تو بندہ فجر کے لیے ضرور اٹھتا ہے۔ فجر چھوڑ دینا اس بات کی علامت ہے کہ ایمان کمزور ہو چکا ہے۔
گھر کے ماحول کی غفلت بھی اس زوال کا سبب ہے۔ اگر والدین خود نماز کے پابند نہ ہوں تو اولاد کیسے بنے گی؟ اسی طرح دوستی اور صحبت کا اثر بھی غیر معمولی ہوتا ہے۔ نیک دوست نماز کے لیے ابھارتے ہیں، غافل دوست غفلت میں ڈال دیتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو فجر کی نماز کی فضیلت کا علم ہی نہیں۔ اگر بتایا جائے کہ فجر کی جماعت چھوڑنے سے کتنی بڑی محرومی ہوتی ہے تو شاید دلوں میں کچھ حرکت پیدا ہو۔
معاشرتی اور روحانی نقصان:
فجر کی نماز چھوڑنے کا نقصان صرف فردی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ فجر کا وقت مسلمانوں کی بیداری کا وقت ہے۔ جو قوم فجر میں سو رہی ہو، وہ دن کے بڑے کاموں میں کیسے کامیاب ہوگی؟ اسی لیے علماء کہتے ہیں: “جس امت کی فجر کمزور ہو، اس کی تقدیر بھی کمزور ہو جاتی ہے۔”
فجر کی نماز نہ پڑھنے سے دل کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے، دن بے برکت گزرنے لگتا ہے، اور روحانی کمزوری بڑھتی ہے۔
قرآنی رہنمائی:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“إِنَّ قُرْآنَ الفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا”
یعنی “فجر کے وقت قرآن کی تلاوت (نماز) فرشتوں کی موجودگی میں ہوتی ہے۔” یہ وہ لمحہ ہے جب آسمانی مخلوق بھی زمین پر اتر کر نمازِ فجر کے نمازیوں کا مشاہدہ کرتی ہے۔
کیا ہم اللہ کے بلاوے کو ٹھکرا رہے ہیں؟
جب مؤذن اذان دیتا ہے تو یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا بلاوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کون سا کام ایسا ہے جو اللہ کے بلاوے سے زیادہ ضروری ہو؟ فجر میں نہ اٹھنے کا مطلب ہے کہ بندہ اللہ کے بلانے پر “سوتا رہنے” کا انتخاب کرتا ہے۔
کامیابی کا پہلا قدم: فجر سے دوستی:
اگر ہم اپنی زندگی میں انقلاب چاہتے ہیں، تو اس کی شروعات فجر کی نماز سے کریں۔ یہ صرف عبادت نہیں بلکہ ایک نظم و ضبط کی تربیت بھی ہے۔ جو انسان صبح جلدی اٹھتا ہے، وہ وقت کا قدردان بنتا ہے، جسمانی طور پر تندرست رہتا ہے، ذہنی طور پر تازہ دم ہوتا ہے، اور دن بھر میں برکت محسوس کرتا ہے۔
حل اور تجاویز:
رات جلد سونے کی عادت ڈالیں۔ اگر ہم اپنے سونے کے اوقات درست کر لیں تو فجر کے لیے اٹھنا آسان ہو جائے گا۔ الارم نہیں، ایمان جگائے۔ اگر دل میں ایمان کی چنگاری ہو تو انسان خود بیدار ہوتا ہے۔ نوجوان آپس میں یہ عہد کریں کہ وہ روزانہ مسجد میں فجر کی نماز پڑھیں گے۔ اگر ہر محلہ یہ تہیہ کر لے تو فضا بدل سکتی ہے۔ ائمہ و خطباء جمعہ کے خطبوں اور دروس میں فجر کی اہمیت پر خاص زور دیں۔ والدین اپنے بچوں کو فجر کے لیے بیدار کریں، یہی تربیت ان کے مستقبل کو سنوارے گی۔
ایک عملی تحریک کی ضرورت:
ہمارے شہروں میں مختلف مذہبی تحریکیں چلتی ہیں، مگر کیوں نہ ایک “تحریکِ فجر” چلائی جائے؟ ایسی مہم جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ “ہر مسلمان فجر میں مسجد پہنچے”۔ اگر ہر محلہ اپنی مسجد کو فجر کے وقت بھرنے کی کوشش کرے تو امت میں ایمان کی تازگی لوٹ سکتی ہے۔
فجر کی نماز محض دو رکعت نہیں، یہ انسان کے اندر موجود ایمان کی زندگی کا آئینہ ہے۔ جو قوم فجر میں بیدار ہوتی ہے، اللہ اسے دن میں عزت و نصرت عطا کرتا ہے۔ آئیے، ہم سب اپنے نفس سے ایک عہد کریں کہ اب فجر سونا نہیں، جاگنا ہے۔ مسجد کی خالی صفوں کو پھر سے آباد کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فجر کی نماز کا شوق، توفیق اور پابندی عطا فرمائے۔آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے