कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فجر کی نماز: امت کے احیاء اور عظمتِ رفتہ کی کنجی

تحریر: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر: مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

ہندوستان میں مسلم تنظیموں، تحریکوں اور اداروں کا ایک طویل اور روشن سلسلہ موجود ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت العلماء ہند، جماعت اسلامی ہند، جماعت دعوت و تبلیغ، جماعت اہل سنت والجماعت، جماعت اہل حدیث، اور دیگر بے شمار دینی و سماجی تنظیمیں برسوں سے مختلف محاذوں پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ہر ادارہ اپنے دائرے میں اصلاحِ معاشرہ، تعلیم، دعوت، خدمتِ خلق اور اتحادِ امت کے لیے سرگرم ہے۔ لیکن آج امتِ مسلمہ کے زوال، بکھراؤ اور بے عملی کے جو مناظر ہمیں دکھائی دیتے ہیں، ان کے پیش نظر ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے: کیا ہم نے اصل سے رشتہ مضبوط کیا ہے؟
اگر ان تمام تنظیموں، تحریکوں اور اداروں کے ذمہ داران ایک مشترکہ مقصد کے تحت جمع ہو جائیں اور "امر بالمعروف” کے تقاضے کے طور پر نمازِ فجر کی حاضری کو اپنی تحریک کا مرکزی نقطہ بنا لیں، تو یقین مانیے، یہ ایک تاریخی انقلاب کی شروعات ہوگی۔
ہمارے محلے، قصبے اور شہر مساجد سے بھرے پڑے ہیں۔ ہر علاقے میں جماعتِ تبلیغ، جماعت اسلامی، اہلِ حدیث، اہلِ سنت اور دیگر جماعتوں کے کارکن موجود ہیں۔ اگر یہی لوگ، اپنی اپنی وابستگی سے اوپر اٹھ کر، ایک ہی ہدف کے ساتھ نکل پڑیں کہ ہر کلمہ گو مسلمان کو مسجد میں فجر کی نماز کے لیے آمادہ کرنا ہے، تو دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کی دینی فضا بدل جائے گی۔
یہ کام کسی بڑے بجٹ، جلسے، یا لمبی کانفرنسوں کا محتاج نہیں۔ اگر ہر تنظیم اپنے کارکنان کو اس ایک مقصد کا ذمہ دار بنا لے کہ وہ اپنے علاقے میں فجر کی نماز کی حاضری یقینی بنائیں، تو اس کا اثر محض دینی زندگی پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات پر بھی پڑے گا۔
نماز فجر کے متعلق رسولِ اکرم ﷺ کی احادیث واضح کرتی ہیں کہ یہ نماز ایمان کی علامت، قربِ الٰہی کا وسیلہ اور نصرتِ الٰہی کے نزول کا دروازہ ہے۔ جو قوم صبح کے وقت اپنے رب کے حضور جھکنے کی عادی بن جائے، اس کے دلوں میں نور، اتحاد اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔ جب فجر کے وقت مساجد آباد ہوں گی تو دلوں کی ویرانیاں آباد ہوں گی، تعلقِ بندگی تازہ ہوگا، اور وہ روحانی توانائی پیدا ہوگی جو کسی قوم کے عروج کی بنیاد بنتی ہے۔
اگر ہندوستانی سطح پر تمام تنظیمیں صرف ایک سال کے لیے بھی اس مقصد کو اپنی عملی تحریک بنالیں — یعنی "تحریکِ فجر” — تو انشاءاللہ نہ صرف دینی شعور بیدار ہوگا بلکہ مسلم معاشرے کے سیاسی اور اخلاقی حالات بھی سنور جائیں گے۔ جلسے، سیمینار اور جلوسوں کی ضرورت خود بخود کم ہو جائے گی کیونکہ نمازِ فجر ہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایمان، اتحاد، نظم، وقت کی پابندی، اور اجتماعی شعور کا آغاز ہوتا ہے۔
امت کا زوال اس وقت شروع ہوا جب فجر کی اذان سن کر بستر کی گرمائش غالب آگئی۔ اور امت کا عروج اسی وقت ممکن ہے جب فجر کے وقت مومن اپنے رب کے حضور صف بستہ کھڑا ہوگا۔ اس لیے اب ضرورت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی تمام کوششوں کو اسی محور پر مرکوز کریں۔
یہ کام صرف امامِ مسجد یا چند اہلِ دین کا نہیں بلکہ ہر تنظیم، ہر جماعت، ہر محلے اور ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے فجر کی نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیا، تو یہی عمل امت کے احیاء کا نقطۂ آغاز بنے گا۔
ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ جس امت کی مساجد فجر میں آباد ہوں، اسے زوال کی ہوا نہیں چھوسکتی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے