कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غلام سے امامِ امت تک

تحریر:ابو خالد

حضرت سالمؓ مولیٰ ابو حذیفہ کی ایمان افروز داستان:
مدینہ کا بازار تھا۔ سورج پوری آب و تاب سے آگ برسا رہا تھا۔ گرمی کی شدت ایسی کہ لوگ سایہ ڈھونڈتے پھرتے تھے، بدن پسینے سے شرابور تھے اور سانس لینا دشوار معلوم ہوتا تھا۔ اسی بازار کے ایک گوشے میں ایک تاجر کھڑا تھا، چہرے پر پریشانی اور آنکھوں میں اضطراب نمایاں تھا۔ اس کے ساتھ ایک کم سن غلام بھی کھڑا تھا—نحیف سا بدن، دھوپ میں جلا ہوا چہرہ، پیشانی سے پسینہ بہتا ہوا، مگر آنکھوں میں معصوم خاموشی۔
تاجر کا سارا مال اچھے داموں فروخت ہوچکا تھا، مگر یہ غلام اب تک باقی تھا۔ خریدار آتے، غلام کو دیکھتے اور بغیر دلچسپی کے آگے بڑھ جاتے۔ کوئی اس غلام کو خریدنے پر آمادہ نہ تھا۔ تاجر کے دل میں حسرت پیدا ہونے لگی۔ وہ سوچنے لگا: کیا یہ سودا گھاٹے کا تھا؟ میں نے تو اسے نفع کی نیت سے خریدا تھا، مگر اب تو اصل قیمت کا ملنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔
بالآخر اس نے دل میں طے کرلیا کہ اب اگر کوئی اس غلام کو پوری قیمت پر بھی خرید لے تو میں فوراً بیچ دوں گا، بس اس جھنجھٹ سے نجات مل جائے۔
اسی اثنا میں مدینہ کی ایک نیک سیرت لڑکی کا گزر اس طرف ہوا۔ اس کی نظر اس کم سن غلام پر پڑی۔ پسینے میں شرابور، خاموشی سے کھڑا یہ بچہ اس کے دل کو چھو گیا۔ اس نے تاجر سے پوچھا: یہ غلام کتنے کا دو گے؟
تاجر نے صاف گوئی سے جواب دیا: جتنے میں خریدا ہے، اتنے ہی میں دے دوں گا۔
لڑکی کے دل میں رحم کی لہر اٹھی۔ اس نے بغیر کسی تردد کے غلام کو خرید لیا۔ تاجر نے سکھ کا سانس لیا، دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا اور مطمئن ہوکر اپنے گھر کی راہ لی۔
کچھ ہی عرصے بعد مکہ سے ابو حذیفہ مدینہ آئے۔ انہیں اس لڑکی کے رحم و شفقت بھرے اس عمل کا علم ہوا۔ اس کی انسان دوستی اور اخلاق سے متاثر ہوکر انہوں نے اس کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا، جو خوش دلی سے قبول کرلیا گیا۔ یوں واپسی پر وہ لڑکی—جس کا نام ثبیتہ بنت یعار تھا—ابو حذیفہ کی زوجہ بن کر ان کے ساتھ مکہ روانہ ہوئی، اور وہ غلام بھی اپنی مالکن کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔
مکہ پہنچ کر ابو حذیفہ اپنے پرانے دوست حضرت عثمان بن عفانؓ سے ملے۔ مگر اس ملاقات میں انہوں نے حضرت عثمانؓ کو بدلا ہوا پایا۔ رویّے میں ایک سنجیدگی اور فاصلے کی جھلک تھی۔ ابو حذیفہ نے تعجب سے پوچھا: عثمان! یہ سرد مہری کیوں؟
حضرت عثمانؓ نے نہایت وقار سے جواب دیا:‌ میں اسلام قبول کرچکا ہوں، اور تم ابھی تک اس نعمت سے محروم ہو۔ اب ہماری دوستی کا رشتہ پہلے جیسا کیسے رہ سکتا ہے؟
یہ بات ابو حذیفہ کے دل میں اتر گئی۔ فوراً بولے: تو پھر مجھے بھی محمد ﷺ کے پاس لے چلو، اور مجھے بھی اس دین میں داخل کرادو جسے تم نے قبول کیا ہے۔
چنانچہ حضرت عثمانؓ انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ ابو حذیفہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔ گھر واپس آکر انہوں نے اپنی اہلیہ اور غلام کو اپنے ایمان کی خبر دی۔ دونوں کے دل پہلے ہی حق کی طرف مائل تھے؛ انہوں نے بھی فوراً کلمہ پڑھ لیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت ابو حذیفہؓ نے اس غلام سے فرمایا: اب تم مسلمان ہوچکے ہو، اور اسلام میں غلامی کی زنجیر میں تمہیں باندھے رکھنا میرے لیے جائز نہیں۔ آج سے تم اللہ کے لیے آزاد ہو۔
غلام کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے لرزتی آواز میں کہا: آقا! اس دنیا میں آپ اور آپ کی اہلیہ کے سوا میرا کوئی نہیں۔ اگر آپ مجھے آزاد کرکے چھوڑ دیں گے تو میں کہاں جاؤں گا؟
یہ سن کر حضرت ابو حذیفہؓ کا دل بھر آیا۔ انہوں نے اس غلام کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا اور اپنے پاس ہی رکھا۔
غلام نے قرآنِ کریم سیکھنا شروع کیا۔ اللہ نے اس کے دل میں نور بھر دیا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں اس نے بہت سا قرآن حفظ کرلیا۔ اس کی تلاوت میں ایسی مٹھاس، ایسی حلاوت تھی کہ سننے والا ٹھہر جاتا، دل جھوم اٹھتا۔
جب ہجرت کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ سے پہلے جن صحابہؓ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، ان میں حضرت عمرؓ کے ساتھ حضرت ابو حذیفہؓ اور ان کا یہی لے پالک بیٹا بھی شامل تھا۔
مدینہ پہنچ کر جب نماز کے لیے امام مقرر کرنے کا مرحلہ آیا تو دیکھا گیا کہ اس نوجوان غلام—اب آزاد، باعزت مسلمان—کو قرآن سب سے زیادہ یاد ہے اور اس کی تلاوت سب سے خوبصورت ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر اسے امام مقرر کردیا گیا۔
حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی اس کی امامت میں نماز ادا کرتے تھے۔
مدینہ کے یہودی یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ کہنے لگے:
یہ وہی غلام ہے جسے کل کوئی خریدنے کو تیار نہ تھا، اور آج دیکھو—مسلمانوں کا امام بنا کھڑا ہے!
رسولِ رحمت ﷺ کی تحسین
اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی خوش گلوئی عطا کی تھی کہ جب وہ قرآن کی تلاوت کرتا تو سننے والوں پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی۔ راہ گیر ٹھٹک جاتے، دل کھنچ کر اس کی آواز کی طرف مائل ہوجاتے۔
ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوگئی۔ آپ ﷺ نے سبب پوچھا تو عرض کیا: ایک قاری قرآن کی تلاوت کررہا تھا، اس کی خوش الحانی نے روک لیا۔
آپ ﷺ نے اس قدر تعریف سنی تو خود چادر سنبھالے باہر تشریف لائے۔ دیکھا تو وہی نوجوان بیٹھا قرآن پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ خوش ہوکر فرمایا: الحمد للہ الذی جعل فیکم مثل هذا
اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں تم جیسے لوگ پیدا کیے۔
تعارفِ خوش نصیب صحابی
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم المرتبت خوش نصیب صحابی کون تھے؟
یہ تھے حضرت سالمؓ مولیٰ ابو حذیفہ—وہی غلام جسے کبھی کوئی خریدنے کو تیار نہ تھا، اور جسے اسلام نے عزت، علم اور امامت کا تاج پہنایا۔
حضرت سالمؓ نے آخرکار راہِ خدا میں جنگِ موتہ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
اللہ تعالیٰ ان پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے،
اور ہمیں یہ سبق عطا فرمائے کہ اسلام انسان کو اس کے ماضی سے نہیں، اس کے ایمان اور عمل سے پہچان دیتا ہے۔
السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے